ذہنی صحت: کیا پاکستان میں خودکشی کو جرائم کی فہرست سے نکال کر ذہنی مرض کا درجہ دینا مثبت قدم ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
’اسے غصہ آ گیا تھا، گھر میں جھگڑا ہوا اور پھر اس نے گندم میں رکھی جانے والی زہریلی گولیاں کھا لیں، لیکن جیسے ہی اس کی طبعیت خراب ہوئی تو فوری طور پر اسے ہسپتال لے جایا گیا، جہاں اس کی جان بچا لی گئی۔’
ضلع صوابی کی رہائشی فرزانہ (فرضی نام) نے اکتوبر کے مہینے میں خودکشی کی کوشش کی تھی۔ اُن کے سسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اُن کی بہو (فرزانہ) نے غصے میں اپنی جان لینے کی کوشش کی تھی حالانکہ وہ مرنا نہیں چاہتی تھیں اور صحت یات ہونے کے بعد وہ اپنے اس عمل پر کافی پشیمان تھیں۔
اگرچہ فرزانہ اپنے کیے پر پشیمان تھیں مگر پھر بھی ہسپتال میں ابتدائی پولیس کارروائی کے بعد یہ معاملہ عدالت پہنچ گیا اور چند سماعتوں کے بعد فرزانہ کو ایک ہزار روپے جرمانے کی علامتی سزا سُنا دی گئی۔
فرزانہ ہی کی طرح صوابی کے ہی ایک نوجوان عرفان (فرضی نام) نے بھی گذشتہ برس گھریلو حالات سے تنگ آ کر خودکشی کی کوشش تھی مگر ہسپتال میں انھیں بچا لیا گیا تھا۔ 20 سالہ عرفان کی بھی جان تو بچ گئی مگر بعد میں انھیں پولیس کیس کا سامنا کرنا پڑا۔ اب وہ علاقے میں اپنی رسوائی کے ڈر سے صوابی چھوڑ کر لاہور منتقل ہو چکے ہیں۔
پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا میں خود کشی کے رجحان میں اضافے کی مختلف وجوہات ہیں۔
لیکن گذشتہ دنوں ایوان بالا (سینیٹ) میں پیش کیے جانے والے ایک بل کے بعد اس بحث نے جنم لیا ہے کہ آیا خودکشی ایک جرم ہے یا ذہنی صحت کا ایک مسئلہ یا مرض؟ ایوان بالا میں پیش کیے جانے اس بل میں کہا گیا تھا کہ خود کشی کو جرائم کی فہرست سے نکال کر اسے ایک ذہنی کیفیت یا بیماری کا درجہ دیا جائے جیسا کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں کیا گیا ہے۔
یہ بل ایوان بالا میں موخر کر دیا گیا کیونکہ حکومتی اراکین کی رائے تھی کہ اس معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے لینا ضروری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Creative Stock
خودکشی: جرم یا ذہنی مرض؟
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان نے اس بل کو منظور کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خود کشی دراصل ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان کی سوچ بوجھ کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور انسان انتہائی اقدام یعنی اپنی جان لینے جیسا عمل کر گزرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے لوگوں کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ لوگ سزا کے مستحق نہیں ہوتے۔‘ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسا ہی ایک بل سنہ 2017 میں بھی لایا گیا تھا لیکن اس وقت بھی یہ بل منظور نہیں ہو سکا تھا۔‘
دوسری جانب پارلیمان میں جمعیت علمائے اسلام ف کے سینیٹر عبدالغفور حیدری کا مؤقف ہے کہ اسلام میں خود کشی کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اسی لیے اسے ذہنی بیماری سے نہیں جوڑا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیے
وفاقی وزیر علی محمد خان سے جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا موقف تھا کہ اس معاملے میں کوئی بھی اقدام کرنے سے قبل اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے لینا ضروری ہے۔
قانون کب حرکت میں آتا ہے؟
ماہر قانون نور عالم ایڈووکیٹ نے اس بارے میں بتایا کہ ان سے ایسے کئی لوگ رابطہ کرتے ہیں جو خود کشی کی ناکام کوشش کے بعد پولیس اور عدالتوں کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مروجہ قوانین کے مطابق اس جرم کا ارتکاب کرنے والے اگر اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو یہ کوئی قابل گرفت جرم نہیں رہتا (جیسا کہ دیگر کیسز میں ہوتا ہے) لیکن اگر خودکشی کی کوشش کرنے والا بچ جائے تو انھیں تعزیرات پاکستان کے سیکشن 325 کے تحت زیادہ سے زیادہ ایک سال تک قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’عام طور پر پولیس اور عدالتیں اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے حوالے سے نرمی کا مظاہرہ کرتی ہیں اور کم سے کم سزا دی جاتی ہے جو بعض اوقات صرف جرمانے تک ہی محدود ہوتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Creative
خود کشی کا رجحان کہاں زیادہ ہے؟
پاکستان کے مختلف علاقوں میں خودکشی کے مختلف رجحان پائِے جاتے ہیں اور ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس علاقے کے معروضی حالات پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی مختلف عناصر مل کر کسی عام شخص کو خود کشی جیسے اقدام پر مجبور کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں چترال، صوابی، دیر اور بونیر کے علاقے ایسے ہیں جہاں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران خود کشی کے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
چترال کی ضلعی پولیس افسر ثونیا شمروز نے بی بی سی کو بتایا کہ چترال میں خود کشی کے واقعات میں کافی اضافہ ہوا تھا لیکن پھر مقامی سطح پر اقدامات سے ان واقعات میں کمی لائی گئی۔
ثونیا شمروز کے مطابق انھوں نے چار تھانوں میں خواتین پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں جو مقامی سطح پر ایسے لوگوں کی ذہنی تربیت یا کونسلگ کرتی ہیں جو حالات سے پریشان ہوتے ہیں۔
اس کا اثر یہ ہوا کہ چترال میں سال 2018 میں خود کشی کے 21 واقعات رپورٹ ہوئے تھے جبکہ سال 2019 اور سال 2020 میں تیرہ تیرہ واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ ’امید ہے آئندہ سالوں میں یہ تعداد کم ہو جائے گی۔’
ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر غربت، اور گھریلو مسائل کے علاوہ ازدواجی صورتحال اور گھریلو تنازعات کی وجہ سے بیشتر لوگ خود کشیاں کر لیتے ہیں اور ان میں خواتین بھی شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں سال 2021 میں خود کشی کے کل 141 واقعات پیش آئے ہیں اور ان میں ایک بڑی تعداد خواتین کی ہے۔
صوابی میں خود کشیوں کی اتنی بڑی تعداد انتہائی پریشان کن ہے۔ صوابی میں پولیس تھانوں میں درج رپورٹس کے مطابق بظاہر لوگ اپنے معروضی حالات کی وجہ سے اتنا بڑا قدم اٹھانے میں مجبور ہوتے ہیں۔
خود کشی کرنے والے کون ہیں؟
حیران کن طور پر خودکشی کرنے والوں میں بیشتر نوجوان افراد ہیں۔ صوابی پولیس ریکارڈ کے مطابق ان میں نو خواتین ہیں، جن کی عمریں 16 سال سے لے کر 25 سال تک بتائی گئی ہیں۔ 19 افراد ایسے ہیں جن کی عمر 16 سال سے لے کر 25 سال تک ہے۔ دو افراد کی عمریں 45 سال اور 55 سال بتائی گئی ہیں۔
پولیس کے پاس موجود ریکارڈ میں ان کا پیشہ درج نہیں ہے لیکن بی بی سی کی اطلاعات کے مطابق ان میں طالبعلم بھی شامل ہیں جبکہ ایک خاتون اور ایک مرد ایسے ہیں جو عرصہ دراز سے بیمار تھے۔
ایک ایسی خاتون کی کہانی بی بی سی کو معلوم ہوئی جنھوں نے خود کشی کی کوشش کی۔ خاتون کے شوہر اور دیور خلیجی ممالک میں رہتے ہیں اور یہاں خاتون کی ساس، سسر اور ایک چھوٹے دیور رہتے ہیں۔
اس خاتون کے منھ بولے بھائی قیصر نے بتایا کہ خاتون کراچی سے شادی کے بعد آئی تھیں لیکن ان کی ٹانگوں میں شدید درد رہتا تھا جس سے وہ اکثر پریشان تھیں۔ انھیں خودکشی کی کوشش کے فوری بعد ہی ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے پر انھیں پشاور خیبر ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔
خاتون کی زندگی بچا لی گئی جس کے بعد انھوں نے ندامت کا اظہار کیا اور کہا کہ انھیں نہیں پتا چلا کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا ہے۔
پولیس کے مطابق ان تمام واقعات میں ایسے واقعات شامل ہیں جن میں خودکشی کرنے والا شخص یا خاتون بچ گئے تھے اور انھیں پھر عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
خود کشی کو جرم کے دائرے سے نکالنے سے اس رجحان میں اضافہ ہو سکتا ہے؟
خودکشی کی کوشش کرنے والے افراد کی جان اگر بچ جائے تو انھیں پولیس اور عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو نہ صرف اس شخص بلکہ اہلخانہ کے لیے مشکلات پیدا کر دیتا ہے۔
اسی لیے ایک رائے یہ بھی ہے کہ اگر خود کشی کو جرم کے دائرے سے نکال کر اسے ذہنی بیماری قرار دے دیا جائے تو ایسے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن پاکستان سمیت دنیا میں صرف 20 ہی ایسے ممالک بچے ہیں جہاں خودکشی ایک جرم ہے۔
اس بارے میں ماہر ذہنی امراض ڈاکٹر خالد مفتی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا اگر حکومت خود کشی کو جرم کی فہرست سے نکال دیتی ہے تو یہ ایک مثبت اقدام ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ اسے جرم کی فہرست سے نکال دیا جاتا ہے تو اس سے خودکشیوں میں اضافہ ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اکثر لوگ مذہبی رجحان کی وجہ سے خود کشی سے اجتناب کرتے ہیں اگرچہ ان کے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔
انھوں نے کہا کہ خود کشی ایک ذہنی کیفیت ہے جس میں سمجھ ختم ہو جاتی ہے اور اس لمحے میں وہ خودکشی کو کوشش کرتا ہے لیکن اس کیفیت سے گزرنے کے بعد انسان معمول پر آ جاتا ہے۔











