چترال میں خواتین کی ’خودکشی‘ کے واقعات کے پیچھے حقیقت کیا ہے؟

چترال
    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ اور حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو، چترال

ایک دن ہی ہوا تھا کہ مریم بی بی (فرضی نام) واپس گھر آئیں تھیں۔ پھر پتا چلا کہ وہ غائب ہو گئی ہیں۔ ان کے گھر والوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انھوں نے دریا میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی ہے۔

وہ صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع اپر چترال کے ایک علاقے اوویر میں رہتی تھیں جس کا راستہ چترال کی خوبصورت وادیوں سے گزرتا ہے۔ یہاں لگ بھگ چھ کلومیٹر طویل ایک گلیشیئر بھی موجود ہے جس سے نکلنے والا دریا مریم بی بی کے گاؤں کے قریب سے گزرتا ہے۔

اس کا پانی انتہائی سرد اور رفتار انتہائی تیز ہوتی ہے۔ اسی دریا میں غوطہ خوروں کی مدد سے ان کی لاش کی تلاش شروع کی گئی۔ اس میں دو سے تین دن لگے۔ مریم بی بی کی لاش دریا سے برآمد ہوئی۔ تیز رفتار پانی کے تھپیڑوں اور پتھروں سے ٹکرا کر اس کی حالت خراب ہو چکی تھی۔

پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال بھجوا دی۔ اس قسم کے واقعات میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ پہلے کہا جاتا ہے کسی خاتون نے خودکشی کرنے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ لاش برآمد ہوتی ہے، پولیس اسے پوسٹ مارٹم کے لیے بھجواتی ہے، ڈاکٹر لکھ دیتے ہیں کہ موت پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی، گھر والے پولیس کو بتاتے ہیں کہ وہ کسی ذہنی بیماری کا شکار تھیں اور پھر تدفین کے لیے لاش خاندان کے حوالے کر دی جاتی ہے۔

یوں خودکشی کرنے والوں کے اعداد و شمار میں ایک اور ہندسے کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ چترال میں گزشتہ کئی برس سے ہر سال درجنوں ایسے واقعات ہوتے ہیں۔

گذشتہ برس بھی اپر چترال میں 21 خودکشی کے واقعات ہوئے اور ان میں 15 خواتین تھیں لیکن اس مرتبہ کچھ مختلف ہوا۔ مریم بی بی کے پوسٹ مارٹم میں ڈاکٹروں کو ان کے جسم پر تشدد کے نشانات مل گئے۔ ڈاکٹروں نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ تشدد کے نشانات سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ 'مرنے سے پہلے انھیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا تھا۔'

اس کا مطلب یہ تھا کہ انھوں نے خود دریا میں چھلانگ نہیں لگائی تھی۔ انھیں تشدد کرنے کے بعد گھسیٹ کر دریا میں پھینکا گیا تھا۔ پولیس نے اس نقطے سے تحقیقات کا آغاز کیا۔ ان کے خاندان کے افراد سمیت کئی لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔

سردار خان اوویر کے علاقے میں ایک فلاحی تنظیم کے ساتھ کام کرتے ہیں اور سماجی کارکن ہیں۔ وہ خودکشی کہے جانے والے ایسے واقعات میں ان خواتین کو انصاف دلانے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے خیال میں 'قتل کی گئیں اور اس کو رنگ خودکشی کا دے دیا گیا۔‘

چترال

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پولیس کو بعد میں ایک درخت سے مریم بی بی کے بال چپکے ہوئے بھی مل گئے تھے۔ تاہم پولیس کو قتل کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ملا تھا۔

اب سوال یہ تھا کہ جب گھر والے خود یہ کہہ رہے تھے کہ مریم بی بی نے خودکشی کی تھی تو انھیں قتل کس نے اور کیوں کیا تھا؟

کئی ماہ کی تحقیقات کے بعد پولیس یہ تو جان چکی ہے مگر وہ تاحال قاتل نہیں ملا۔ واقعے کا مقدمہ جاری ہے اور پولیس تحقیقات کر رہی ہے تاہم سردار خان کے مطابق 'ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ واقع دبا دیا گیا ہے۔‘

مگر کیوں، ایسا کیا تھا جسے کوئی دبانا چاہے گا؟

سردار خان کے مطابق معاملہ بظاہر 'غیرت' کا تھا۔ ان کے خیال میں مریم بی بی کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تھا۔ وہ اس پر پولیس کی تحقیقات کی تفصیلات سے آگاہ تھے۔ وہ اس کی وضاحت کرتے ہیں لیکن اس سے قبل وہ ایک اور واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

اوویر ہی کے ایک گاؤں میں سنہ 2020 میں ایک اور خاتون کی لاش ملی۔ یہ خاتون شادی شدہ تھیں اور ان کی دو کمسن بچیاں تھیں۔ بڑی کی عمر سات برس تھی۔ خاتون کے شوہر بیرونِ ملک کام کرتے تھے اور وہ اوویر میں خاوند کی ایک بھانجی کے ساتھ اپنے گھر میں رہتی تھیں۔

اس مرتبہ لاش دریا کے قریب واقع ایک قدرتی تالاب میں پانی پر تیر رہی تھی۔ یہ مقامی افراد کے لیے حیران کن بات تھی۔ اس تالاب کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ اگر اس میں کوئی جانور وغیرہ بھی گرتا تھا تو وہ نیچے ڈوب جاتا تھا۔ وہ کبھی اوپر سطح پر نہیں آیا تھا۔

خاتون کے سسرالی رشتہ داروں یعنی ان کے خاوند کے دو بھائیوں اور ان کی بیویوں نے ابتدا میں لاعلمی کا اظہار کیا۔ انھوں نے خود ہی پولیس کو اطلاع دے کر بلایا تھا کہ خاتون رات سے کہیں غائب تھیں۔ اس طرح تاثر یہ دیا جا رہا تھا کہ خاتون نے تالاب میں کود کر خودکشی کی ہے۔ لیکن ان کے والد مہابت خان یہ ماننے کو تیار نہیں تھے۔

مہابت خان
،تصویر کا کیپشنمہابت خان یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ان کی بیٹی نے خودکشی کی تھی

اپر چترال کے مرکزی مقام بونی میں انھوں نے بی بی سی سے بات کی۔ ان کی دونوں نواسیاں ان کے ہمراہ تھیں۔ وہ اپنی بیٹی کے قتل کے مقدمے میں سماعت کے سلسلے میں عدالت آئے ہوئے تھے۔ وہ کہتے ہیں 'اگر میری بیٹی نے خودکشی ہی کرنا ہوتی تو اس کے گھر کے سامنے ہی دریا بہتا ہے، وہ اس میں چھلانگ لگاتی۔ وہ تالاب کی طرف کیوں جاتی۔'

اسی لیے بیٹی کی تدفین کے فوراً بعد انھوں نے قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے داماد نے اپنی مدعیت میں پولیس کے پاس مقدمہ درج کروایا اور اپنے دونوں بھائیوں اور بھابھیوں پر شک کا اظہار کیا۔ پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر کے پوچھ گچھ تفتیش کا آغاز کیا۔

مہابت خان کے مطابق قاتل کو یہ علم تھا کہ تالاب میں گر جانے والی ہر شے نیچے بیٹھ جاتی ہے اس لیے اس نے قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے تالاب کا انتخاب کیا۔ تاہم پولیس کو موقع کے گواہان اور شواہد کی تلاش تھی۔ مہابت خان کو موقع کا گواہ جلد ہی مل گیا۔ ان کے داماد کی بھانجی جو ان کی بیٹی کے ساتھ رہتی تھیں انھوں نے پہلے پولیس اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں اپنا بیان قلمبند کروایا۔

مہابت خان کے مطابق لڑکی نے بتایا کہ انھوں نے اپنے ماموؤں کو مہابت خان کی بیٹی کو گلا دبا کر قتل کرتے خود دیکھا تھا۔ قتل کرنے کے بعد رات دو بجے کے قریب وہ ان کی لاش کو گھر سے باہر کہیں لے گئے تھے۔ پولیس کی تفتیش کے دوران بھی ملزمان نے خاتون کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔

’ایک نے دوسرے کو مارا، پھر خودکشی کر لی‘

حال ہی میں اوویر ہی میں ایک لڑکے اور لڑکی کی لاشیں جنگل میں ایک درخت کے نیچے ملی تھیں۔ دونوں کی عمریں 20 سال سے کم تھیں اور دونوں ایک ہی گاؤں میں ایک ہی محلے کے رہائشی تھے۔ سماجی کارکن سردار خان کے مطابق ان دونوں کو پیٹ میں گولیاں لگی ہوئی تھیں۔ ان کے بارے میں بھی ابتدائی طور پر پولیس کو بتایا گیا کہ انھوں نے خودکشی کی ہے۔

نیاز احمد نیازی چترال میں بار کونسل کے صدر ہیں اور انسانی حقوق کے کارکن کے طور پر کئی برس سے چترال میں خودکشیوں کے مسئلے پر کام کر رہے ہیں۔ وہ ایسے ہر واقعے کے حوالے سے تفصیلات بھی جمع کرتے ہیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں متاثرہ خاندانوں کا قانونی معاونت بھی فراہم کرتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جنگل سے ملنے والی لڑکے اور لڑکی کی لاشوں کے بارے میں بھی کئی باتیں مشہور کی گئیں۔ ’پہلے یہ کہا گیا کہ دونوں نے اکٹھے خودکشی کی اور پھر یہ بھی سننے کو ملا کہ ایک نے دوسرے کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی ختم کر لیا۔‘

تاہم نیاز احمد نیازی کے مطابق انھوں نے جائے واردات کا معائنہ کیا تو وہاں حالات و واقعات بالکل مختلف تھے۔ وہاں سے یہ تاثر ملتا تھا کہ ان دونوں کو قتل کر کے ان کی لاشیں وہاں پھینکی گئی تھیں۔ پولیس کو جائے وقوعہ سے کوئی ہتھیار بھی نہیں ملا تھا۔

چترال

تاہم لڑکی کے لواحقین نے پولیس کو دیے گئے ابتدائی بیان میں کہا کہ انھیں کسی پر بھی ان کی بیٹی کو قتل کرنے کا شبہ نہیں تھا اس لیے وہ پولیس کی کارروائی نہیں چاہتے تھے۔ لیکن اس واقعے کے ایک ماہ بعد ہی انھوں نے پھر پولیس سے رابطہ کیا اور لڑکے کے گھر والوں پر ان کی بیٹی کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا۔ پولیس نے ان کی شکایت پر لڑکے کے بھائیوں اور دیگر کئی افراد کو حراست میں لے کر 'غیرت کے نام پر قتل' کے الزام میں تحقیقات شروع کر دیں۔

تاہم اوویر کے سماجی کارکن سردار خان کے مطابق پولیس نے اس مقدمے میں ’اتنے زیادہ لوگوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا کہ باالآخر علاقے کے لوگوں نے ردِ عمل کا اظہار کیا اور پولیس کے خلاف احتجاج بھی کیا۔‘

ہر واقعے میں خودکشی کا تاثر دینے کی کوشش کیوں کی گئی؟

یہ تینوں واقعات حالیہ برسوں میں سامنے آئے اور ان تینوں میں قدرے مشترک یہ تھا کہ ابتدائی طور پر انھیں خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم بعد میں پولیس نے شواہد، میڈیکل رپورٹ یا گواہان ملنے کے بعد قتل کے شبہے میں ان کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔

چترال میں گزشتہ دس برسوں کے دوران مبینہ خودکشی کے لگ بھگ 175 واقعات درج کیے گئے جن میں 106 خواتین شامل تھیں۔ ان میں سے ہر واقعہ میں پولیس نے بظاہر جامع تحقیقات نہیں کیں۔ زیادہ تر واقعات میں یہ جاننے کی کوشش نہیں کی گئی کہ مرنے والے نے خودکشی کیوں کی۔

پولیس کے ریکارڈ کے مطابق حال ہی میں ختم ہونے والے سال سنہ 2021 میں اپر چترال میں جن 21 افراد نے خودکشی کی، ان میں سے دس واقعات میں وجہ 'نامعلوم' تھی۔ ان میں زیادہ تر خواتین شامل تھیں۔ باقی واقعات میں جو وجوہات بتائی گئیں ان میں دماغی بیماری کا شکار ہونا، مرگی، سکول نہ جانے کی ضد، امتحانات میں نمبر کم آنا یا گھریلو ناچاقی اور لڑائی جھگڑے شامل تھے۔

ایک واقعے میں تو یہ بھی لکھا گیا کہ مرنے والی لڑکی نے جنات کے زیرِ اثر دریا میں چھلانگ لگا کر خودکشی کی۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ پولیس زیادہ تر مرنے والے کے لواحقین کی طرف سے دیے گئے بیانات ہی پر انحصار کرتی تھی اور حقیقی وجہ جاننے کے لیے واقعات کی جامع تحقیقات نہیں کی جاتی تھیں۔

مقامی افراد بھی دریافت کرنے پر عموماً اسی طرح کی وجوہات کا ذکر کرتے تھے۔ بہت کم لوگ ایسے تھے جو یہ سوال کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے کہ خودکشی قرار دے دیے جانے والے واقعات کیا حقیقت میں خودکشی ہی تھے؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ خودکشی کا رنگ دے کر قتل یا پھر غیرت کے نام پر قتل جیسے واقعات کو چھپایا جاتا تھا؟ کیا ایسا ممکن تھا کہ ایسے واقعات کی حقیقی وجوہات کبھی سامنے نہ آتی ہوں؟

بی بی سی نے خودکشی قرار دیے جانے والے واقعات کے پیچھے حقیقی وجوہات جاننے کے لیے چترال میں متاثرہ خاندانوں کے افراد سمیت جن میں مرنے والوں کے والدین اور لواحقین بھی شامل تھے، پولیس، وکلا، ڈاکٹروں، فلاحی تنظیموں، انتظامیہ کے اہلکاروں اور متاثرہ علاقے کے مقامی کئی لوگوں سے انٹرویوز کیے۔

ان میں زیادہ تر افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معلومات فراہم کیں۔ ان کے خیال میں یہ ایک حساس معاملہ تھا اور ان کے نام ظاہر ہونے کی صورت میں انھیں سخت ردِعمل کا ڈر تھا جبکہ والدین کو 'عزت اچھالے جانے' کا خوف تھا۔ تاہم ان کی گفتگو سے ابھرنے والے خاکے کے مطابق چترال میں خودکشیوں کے واقعات کے پیچھے حقیقی وجوہات ان وجوہات کے بالکل برعکس تھیں جو پولیس کے ریکارڈ میں ملتی تھیں۔

چترال

’پچاس فیصد سے زیادہ قتل یا غیرت کے نام پر قتل ہو سکتے تھے‘

اپر چترال کے علاقے اوویر میں مردہ حالت میں دریا سے ملنے والی مریم بی بی کے بارے میں وہاں کے مقامی افراد کو بھی یہ شبہ تھا کہ انھیں مبینہ طور پر قتل کیا گیا تھا۔

سماجی کارکن سردار خان کے مطابق ان کے قتل کے شبہے میں کی جانے والی پولیس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ مریم بی بی پسند کی شادی کرنا چاہتی تھیں اور وہ گھر سے بھاگ کر اس شخص کے ساتھ چترال ٹاؤن چلی گئی تھیں۔

'وہ وہاں کورٹ میرج کرنا چاہتے تھے مگر معلوم نہیں کیا ہوا کہ ان کے درمیان کوئی جھگڑا ہو گیا۔ وہ دو تین دن کے بعد گھر واپس لوٹ آئیں۔ اس کے دو تین دن کے بعد ان کی لاش دریا سے ملی۔'

پولیس کو شک تھا کہ واپس لوٹنے پر انھیں غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا تھا۔ تاہم اس حوالے سے تحقیقات تاحال جاری تھیں۔

دوسرے واقعے میں مہابت خان کی بیٹی کو قتل کر کے لاش تالاب میں پھینکنے کا اعتراف کرنے والے ان کے خاوند کے بھائیوں نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا تھا کہ 'انھیں شبہہ تھا کہ ان کے کسی غیر مرد کے ساتھ تعلقات تھے۔ وہ گھنٹوں کسی کے ساتھ فون پر بات کرتی تھیں۔'

تاہم پولیس کو تحقیقات کے دوران اس کے کوئی شواہد نہیں ملے تھے۔ ان کے فون کے سی ڈی آر ریکارڈ میں ایسی کوئی چیز سامنے نہیں آئی تھی۔ تقریباً ایک سال کی تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد اس مقدمے میں عدالتی فیصلے کا وقت قریب تھا۔ مہابت خان کے مطابق 'ملزمان بعد میں عدالت میں اپنے اعترافی بیان سے مکر گئے تھے اور موقع کے واحد گواہ پر بھی گواہی تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔'

لڑکی اور لڑکے کی موت کے حوالے سے بھی پولیس 'غیرت کے نام پر قتل' کے الزامات میں تحقیقات کر رہی تھی۔ تو کیا ایسا ممکن تھا کہ باقی خودکشی قرار دیے جانے والے واقعات میں بھی حقیقتاً قتل ہوں؟

وکیل نیاز احمد نیازی کہتے ہیں کہ ان کے تجربے اور تحقیق کے مطابق چترال میں خودکشی قرار دیے جانے والے '50 فیصد سے زائد واقعات ایسے ہو سکتے تھے جو درحقیقت قتل یا غیرت کے نام پر قتل تھے۔ انھیں خودکشی کا رنگ دے کر چھپایا جاتا تھا۔' ان کے مطابق چترال میں زیادہ تر آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جہاں ہر ایک شخص دوسرے کو جانتا ہوتا ہے۔ خودکشی کے حقیقی محرکات سامنے آنے کی وجہ سے لوگوں کو بدنامی کا خوف ہوتا ہے۔

'اس لیے عموماً لوگ اصل وجوہات جانتے ہوئے بھی کھل کر ان پر بات نہیں کرتے۔‘ نیاز احمد نیازی کے مطابق پہلے پولیس بھی اس حوالے سے سرسری سی تحقیقات کرتی تھی اور معاملہ دفن ہو جاتا تھا تاہم حال ہی میں پولیس کے رویے میں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

چترال

کیا پولیس حقیقی وجوہات جاننے کی سنجیدہ کوشش کرتی ہے؟

بی بی سی نے پولیس کی تحقیقات کے حوالے سے سوالات کے جواب جاننے کے لیے اپر اور لوئر چترال دونوں اضلاع کے ڈسٹرکٹ پولیس افسران سے رابطہ کیا۔ تاہم لوئر چترال کی ڈی پی او نے انٹرویو دینے سے معذرت کر لی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے انھیں پہلے افسران سے اجازت لینا پڑے گی۔

جبکہ اپر چترال کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر ذوالفقار تنولی نے بی بی سی سے بات کی۔ وہ گزشتہ دو برس سے اس علاقے میں تعینات ہیں اور الگ ضلع بننے کے بعد اپر چترال کے پہلے ڈی پی او بنے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس مکمل چھان بین کرتی ہے تاہم اسے دو قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

’ایک تو ان خاندان والوں کو پہلے ہی اتنا بڑا صدمہ پہنچا ہوتا ہے اور ہم فوری طور پر انھیں مزید تنگ کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔ ہم زیادہ دباؤ ڈالیں گے تو لوگ پھر احتجاج کرتے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ دوسرا ایسے واقعات میں کوئی ان کے پاس شکایت لے کر نہیں آتا اور انھیں گواہان یا شواہد نہیں ملتے۔ ’کوئی یہ کہے کہ ہم ان کا بیان نہیں لیتے تو ہم جرم وار ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ہر واقعہ میں لاش برآمد کی جاتی ہے اور اس کا باقاعدہ پوسٹ مارٹم کروایا جاتا ہے جس کے بعد مکمل تحقیقات کر کے اسے خودکشی قرار دیا جاتا ہے۔

’کوئی گواہ تو ہو، کوئی ثبوت تو ملے‘

ڈی پی او ذوالفقار تنولی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ 'کئی مرتبہ حالات و واقعات اس سے بالکل مختلف ہوتے ہیں جو بتائے جاتے ہیں۔ ان کی جب چھان بین کی جائے تو اوپر سطح پر کوئی اور چیز آ جاتی ہے۔'

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کو ثابت کرنے کے لیے پولیس کو شواہد یا گواہان کی ضرورت ہوتی ہے جو پولیس کو موقع سے نہیں ملتے۔ وہ کہتے ہیں لوگ پولیس کو بات بتانے سے کتراتے ہیں بلکہ بات کو چھپاتے ہیں۔ پولیس نے اپنے انفارمر بھی علاقے میں چھوڑ رکھے ہوتے ہیں جو ان تک ایسی باتیں لاتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ خودکشی کہے جانے والے واقعے میں معاملہ کچھ اور تھا۔

’لیکن اپنے انفارمرز کو تو ہم سامنے نہیں لا سکتے اور عدالت میں پیش نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے ہمیں گواہان اور شواہد کی ضرورت پڑتی ہے اور کوئی سامنے نہیں آتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ لوگ خواہ مخوا کی دشمنی بھی مول لینا نہیں چاہتے۔ تاہم سوال یہ تھا کہ ایسی معلومات مل جانے کے بعد پولیس اپنے طور پر شواہد اکٹھے کرنے کی سنجیدہ کوشش کیوں نہیں کرتی تھی۔ اگر کسی کو قتل کر کے خودکشی کا رنگ دے دیے جانے کا شک ہو تو کیا پولیس اس وجہ سے تحقیقات نہیں کر پائے گی کہ گواہ یا شواہد میسر نہیں تھے؟

تحقیقات کے کئی دوسرے طریقے بھی موجود تھے جیسا کہ فرانزک یا سائنسی بنیادوں پر جرم کو ثابت کرنے کی کوشش بھی کی جا سکتی تھی۔

’ڈاکٹر ماہر ہے وہ جو بتاتا ہے ہم اس پر چلتے ہیں‘

ڈی پی او اپر چترال ذوالفقار تنولی کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے انھیں موقع سے جو شواہد ملتے ہیں ’وہ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ یہ وہ خودکشی کا واقع تھا۔ اس میں ہمیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ کسی کو قتل کرنے کے بعد دریا میں پھینکا گیا ہو۔‘

اور دوسرا یہ کہ ’اگر (پوسٹ مارٹم کرنے والا) ڈاکٹر ہمیں لکھ کر دے نہ کہ اس میں کوئی تشدد وغیرہ کے نشانات پائے گئے ہیں یا کوئی فاؤل پلے ہے تو بھی ہم اس پر تحقیقات کریں۔ ڈاکٹر اس چیز کا ماہر ہے، ہم ماہر نہیں ہیں۔ ہم اس کے تجزیے پر چلتے ہیں۔‘

ذوالفقار تنولی

یہ بھی ایک بنیادی نقطہ تھا۔ مرنے والے کی موت کی وجہ کا حتمی تعین پولیس کے لیے اہم ہوتا ہے۔ اس سے وہ تحقیقات کا آغاز کر سکتی تھی یا پھر جرم ثابت کرنے میں مدد لے سکتی ہے۔ تاہم چترال میں زیادہ تر خودکشی کے واقعات میں لاشیں دریا سے ملتی ہیں۔

بعض اوقات وہ کئی دنوں کے بعد ملتی ہیں۔ اتنا وقت پانی میں رہنے اور پتھروں سے ٹکرانے سے وہ اس قدر خراب ہو چکی ہوتی ہیں کہ بعض اوقات بنیادی پوسٹ مارٹم کے ذریعے موت کی وجہ کا حتمی تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

کیا ڈاکٹروں کے پاس موت کی حتمی وجہ جاننے کی صلاحیت موجود ہے؟

ڈاکٹر انیسہ بونی کے سرکاری ہسپتال میں گزشتہ چند برسوں سے کام کر رہی ہیں اور اس دوران خودکشی کے واقوات میں مرنے والوں کے پوسٹ مارٹم کر چکی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ مانتی ہیں کہ خاص طور پر خواتین کے خودکشی کرنے کی وجوہات کی مکمل تحقیقات ہونے چاہئیں۔

’اگر کوئی خاتون اپنی جان لیتی ہے تو اس کے پیچھے کوئی وجہ ہوتی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس پوسٹ مارٹم کے لیے خواتین کی جو لاشیں لائی جاتی تھیں ان کے بارے میں زیادہ تر کہا جاتا تھا کہ وہ ذہنی بیماری کا شکار تھیں۔

تاہم بعد میں معلوم کرنے پر پتہ چلتا تھا کہ ان میں سے اکا دکا ہی ایسی ہوتی تھیں جن میں ڈپریشن کی تشخیص ہو چکی ہوتی تھی اور وہ اس کا علاج کروا رہی ہوتی تھیں۔

لیکن ڈاکٹر انیسہ کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں معلوم کہ ان خواتین کی خودکشی کی حقیقی وجوہات کیا ہوتی تھیں۔

پوسٹ مارٹم کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ زیادہ تر واقعات میں انھیں مرنے والے کے جسم سے تشدد یا گلا دبانے وغیرہ کے نشانات نہیں ملتے تھے۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا تھا کہ وہ خودکشی ہو سکتی تھی۔

'اگر کسی کے بارے میں یہ شبہ ہوتا تھا کہ اسے قتل کیا گیا ہے تو اس کے جسم سے نمونے حاصل کر کے فورینزک کے لیے چترال سے باہر بھجوائے جاتے تھے۔ پھر اس کی رپورٹ پر فیصلہ کیا جاتا تھا۔'

واضح رہے کہ چترال میں فورینزک کا کوئی ماہر موجود نہیں ہے۔

تو کیا ایسی صورت میں جہاں شکوک و شبہات موجود ہوں، چترال میں پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر مبینہ خودکشی کونے والے کی موت کا حتمی تعین کر پاتے تھے؟

اپر چترال کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر رحمت امان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'بالکل حتمی تو نہیں لیکن کوشش کی جاتی تھی کہ کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچا جائے۔'

ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے فورینزک لیبارٹری کی رپورٹ کا انتظار بھی کیا جاتا تھا لیکن انھیں نہیں یاد کہ جو نمونے وہ بھجواتے تھے ان کی رپورٹ کبھی واپس ان کو ملی ہو۔

ڈاکٹر رحمت امان کے مطابق یہ رپورٹ اگر آتی بھی تھی پولیس کے پاس آتی تھی کیونکہ فورینزکس کے لیے نمونے بھی پولیس کے ذریعے بھجوائے جاتے تھے۔

کیا اس طرح قتل کو خودکشی سے چھپانے میں مدد مل سکتی تھی؟

ڈی ایچ او اپر چترال ڈاکٹر رحمت امان کے مطابق اوٹاپسی یا پوسٹ مارٹم کے کئی محرکات ہوتے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہوتا ہے کہ موت کی وجہ کا تعین کیا جائے۔

مدد علی

'اس حوالے سے اگر کبھی ضرورت پڑتی تھی تو ہمارے ڈاکٹرز عدالت میں جا کر اپنا بیان بھی قلمبند کروا لیتے تھے۔'

تاہم وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اگر موت کے تعین کے حوالے سے ڈاکٹر کی رپورٹ حتمی نہیں ہوتی یا مبہم ہوتی ہے تو صرف اسی کی بنیاد پر عدالت میں ملزم کو فائدہ مل سکتا تھا۔

ماہرین کے مطابق بظاہر یہ تمام وہ عناصر تھے جو قتل اور غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کو خودکشی کا رنگ دینے کے رجحان کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔ یعنی قتل کرنے والے کو معلوم ہو گا کہ موت کا تعین نہیں ہو پائے گا اور پولیس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

اس طرح وہ اس قتل یا غیرت کے نام پر قتل کو خودکشی کا نام دے کر بچ سکتا تھا یا چھوٹ سکتا تھا۔ وکیل نیاز احمد نیازی کے مطابق قانون کے مطابق پولیس کو خودکشی کے ہر واقعے کی تحقیقات اس نظریے سے کرنی چاہییں کہ جیسے مرنے والے کو قتل کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو قتل نہ بھی کیا گیا ہو تو پھر بھی اس کی خودکشی کی وجہ جاننا ضروری تھا کہ اس نے اگر خودکشی ہی کی تو کیوں کی۔

'اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ قتل کا سبب بھی ہو سکتا یعنی کسی کی وجہ سے قتل۔ یعنی حالات اس قسم کے پیدا کر دیے جائیں جن کی وجہ سے کسی نے اپنی جان لے لی۔ بہت سے لوگوں کے بارے میں ایسے باتیں کر دی جاتی ہیں کہ وہ تنگ آ کر یا مجبور ہو کر خودکشی کر لیتے ہیں۔'

کیا چترال میں خودکشی پر مجبور کرنے والے حالات پائے جاتے تھے؟

وکیل نیاز احمد نیازی کے مطابق ایسے بہت سے حالات ان کے علم میں آتے تھے۔ ان میں کچھ خاص طور پر خواتین کے لیے دانستاً پیدا کر دیے جاتے تھے جبکہ کچھ غیر دانستہ ان کی خودکشی کی وجہ بن جاتے تھے۔

ان میں ایک مسئلہ جو ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے شخص نے بی بی سی سے گفتگو کے دوران بتایا وہ 'پسند کی شادی' تھا۔ ہاسٹلوں میں مقیم لڑکیوں اور خواتین نے بھی بتایا کہ اگر کوئی لڑکی اپنی پسند سے کسی لڑکے سے شادی کرنا چاہتی تھی تو زیادہ تر اس کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔

کئی بار اس میں خاندانی اقدار اور کئی بار فرقہ یا مذہب آڑے آ جاتا تھا۔ اگر کوئی لڑکی خود سے ایسی شادی کر لیتی تھی اور اپنا فرقہ بدل بھی لیتی تھی 'تو سسرال میں ہمیشہ اسے طعنے سننے کو ملتے رہتے تھے۔'

چترال

بعض اوقات یہ بھی دیکھا گیا تھا کہ ایسی شادیوں کے انجام سسرال رشتہ داروں کے ہاتھوں ایسی لڑکیوں کے قتل کی صورت میں ہوتا تھا تاہم یہ بات چھپا دی جاتی تھی یا سامنے نہیں آتی تھی۔ بعض صورتوں میں جب خواتین مرضی کی شادی سے انکار پر دل برداشتہ ہو کر بھی خودکشی کر لیتی تھیں۔

تاہم پسند کی شادی نہ کر پانے سے مزید پیچیدگیاں بھی جنم لیتی تھیں۔

'ہمارے پاس بہت سی خواتین غیر قانونی مانع حمل کے لیے آتی تھیں'

تحقیقات کے دوران بی بی سی نے کئی ڈاکٹروں سے ملاقات کی جن میں گائنی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز بھی شامل تھے۔ معاملے کی حساسیت کی وجہ سے انھوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر معلومات فراہم کیں۔

ان ڈاکٹروں کے مطابق گزشتہ کئی برسوں کے دوران ان کے پاس بے شمار ایسی خواتین آ چکی تھیں جو غیر شادی شدہ لیکن حمل کے ساتھ ہوتی تھیں۔ بعض اوقات ان کی والدہ یا گھر کی کوئی خاتون بھی ان کے ساتھ ہوتی تھی۔

وہ ڈاکٹروں سے مانع حمل کی درخواست کرتی تھیں۔ تاہم پاکستان میں مانع حمل غیر قانونی عمل تھا اور خاص طور پر اس وقت نہیں کیا جا سکتا تھا جب بچے کی دل کی دھڑکن محسوس ہونا شروع ہو جائے۔ ایسی صورت میں خاتون اور بچے کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا تھا۔

اس لیے ڈاکٹرز ایسی خواتین کو منع کر دیتی تھیں۔ ایک ڈاکڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ 'وہ خواتین منت سماجت کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ اگر ان کے گھر کے مردوں کو علم ہو گیا تو وہ انھیں مار ڈالیں گے۔'

ڈاکٹر کے مطابق کئی خواتین ایسی بھی ہوتی تھی جو یہ بتاتی تھیں کہ انھیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جس ک نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی تھیں تاہم وہ یہ بات کسی کو بتا نہیں سکتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید کچھ نجی کیلنکس وغیرہ میں ابارشن یا مانع حمل ہوتا بھی ہو گا۔

'بعد میں ہمیں ایسی اطلاعات بھی ملتی تھیں کہ فلاں خاتون جس کا مانع حمل ممکن نہیں ہو پاتا تھا اس نے واپس جا کر خودکشی کر لی۔'

ڈاکٹرز کے مطابق وہ زیادہ تر خواتین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بچے کو پیدا کریں اور اگر چاہیں تو ان کے حوالے کر دیں۔ تاہم زیادہ تر خواتین خوف کی وجہ سے ایسا نہیں کرتی تھیں۔ جو اس پر راضی ہو جاتی تھیں ان بچوں کو ایسے جوڑے اپنا لیتے تھے جو بے اولاد ہوتے تھے۔

'ایسے بچے اپنانے والوں میں طبی عملے کے افراد بھی شامل تھے اور عام افراد بھی۔' ت

اہم ڈاکٹروں کے مطابق وہ یہ وثوق سے نہیں کہہ سکتے تھے جن خواتین کی خودکشی کی خبریں ان تک پہنچتی تھیں وہ واقعتاً خودکشی کرتی تھیں یا انھیں قتل کیا جاتا تھا۔

چترال

خودکشی کے حقیقی حالات سامنے کیوں نہیں آ پاتے؟

چترال میں بچوں اور بچیوں کو تعلیم دلوانے کا رجحان کافی زیادہ ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق معاشرے میں اس کے باوجود تنگ نظری کافی حد تک پائی جاتی ہے۔

یہاں سماج میں خودکشی اور اس کی حقیقی وجوہات کے گرد جو منفی تاثر پایا جاتے ہے اس کے خوف سے لوگ اس حالات کے بارے میں بات کرنے کو اچھا نہیں سمجھتے۔

یہاں تک کہ بچے والدین سے بھی اپنے دل کی بات کھل کر نہیں کر پاتے۔

بونی کے رہائشی علی مدد کو اس کا اندازہ اس وقت ہوا تھا جب ان کے جواں سال نویں جماعت کے طالب علم بیٹے نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لی تھی۔

ان کی عمر محض 18 برس تھی۔ علی مدد کے لیے یہ ایک اچانک اور سمجھ میں نہ آنے والا واقع تھا۔

ان دنوں ان کے بیٹے کے امتحانات ہو رہے تھے۔ انھوں نے شاید ذکر کیا تھا کہ ان کا ایک پیپر زیادہ اچھا نہیں ہوا تھا۔ اس لیے ابتدا میں علی مدد یہی سمجھے کہ ان کے بیٹے نے اسی پریشانی میں دباؤ میں آ کر خودکشی کر لی تھی۔ پولیس کے ریکارڈ میں بھی یہی وجہ درج کی گئی۔

'لیکن بعد کہیں سے یہ معلوم ہوا کہ اس کا کوئی (محبت) کا معاملہ چل رہا تھا۔ ہو سکتا ہے اس کی خودکشی کے پیچھے یہی وجہ ہو۔ لیکن ہمارے ہاں معاشرہ کچھ اس قسم کا واقع ہوا ہے کہ اس قسم کی بات کھل کر نہیں کی جا سکتی۔'

علی مدد کہتے ہیں کہ اگر ان کے بیٹے نے اس حوالے سے ان سے بات کی ہوتی تو اس کا بھی کوئی حل نکالا جا سکتا تھا۔

'کبھی قومیت کا مسئلہ ہوتا ہے، کبھی مذہب آڑے آ جاتا ہے'

وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر کھل کر بات ہونی چاہیے۔ وہ خود بھی شاید اس پر کھل کر بات نہیں پائے تھے لیکن ایسا لگتا تھا کہ وہ اس کا بوجھ محسوس کرتے تھے اور بات کرنا چاہتے تھے۔

'یہ ایک مسئلہ ہے کہ اگر بچے پسند کی شادی کرنا چاہتے ہیں تو ایسے بھی مراحل آ جاتے ہیں کہ والدین نہیں مانتے۔ قومیت کا مسئلہ آ جاتا ہے، مذہب آڑے آ جاتا ہے۔ اور اگر کوئی لڑکا لڑکی ایسی شادی کر بھی لیں تو گاؤں والے اس کو اچھا نہیں سمجھتے۔'

چترال میں گزشتہ چند برسوں میں ہونے والے درجنوں خودکشی کے واقعات کے پیچھے کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔ تاہم یہ وہ چند حالات اور وجوہات ہیں جو زیادہ تر واقعات کا سبب بن رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ماہرین کے خیال میں اگر ان مسائل پر قابو پا لیا جائے تو چترال میں خودکشی کے واقعات پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

تاہم ان کے خیال میں اس میں پولیس کا بنیادی کردار ہے۔ وکیل نیاز احمد نیازی کے مطابق یہ ضروری تھا کہ پولیس خودکشی کہے جانے والے ہر واقعے کی آزادانہ اور جامع تحقیقات کرے تاکہ ایسی اموات کی حقیقی وجوہات سامنے آ سکیں۔

جب تک ایسا نہیں ہو گا، اس مسئلے کے حل کے لیے کیے جانے والے باقی اقدامات زیادہ کارآمد ثابت ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔