کینسر اور سیکس: ‘مجھے مدد مانگتے ہوئے شرم آتی تھی‘

،تصویر کا ذریعہCait Wilde
- مصنف, ایلس ایونز
- عہدہ, نیوز بیٹ رپورٹر
جب کیٹ وائلڈ کو 17 سال کی عمر میں بتایا گیا کہ انھیں کینسر ہے، تو جنسی زندگی شاید ان کی ترجیحات کی فہرست میں کہیں نیچے تھی۔ مگر علاج کے بعد جب وہ دوبارہ سیکس لائف یا جنسی زندگی شروع کرنا چاہتی تھیں تو انھیں درد، تکلیف اور شرمندگی کا سامنا ہوا۔ اور وہ یہ بھی نہیں جانتی تھیں کہ اس سلسلے میں مدد کیسے حاصل کی جائے۔
انتباہ: اس مضمون میں جنسی نوعیت کے موضوعات زیرِ بحث ہیں۔
مانچسٹر سے تعلق رکھنے والی کیٹ خون کے کینسر کی ایک قسم میں مبتلا تھیں جسے ’ایکیوٹ مائیلوڈ لیوکیمیا‘ کہا جاتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ کینسر سے پہلے ان کی سیکس لائف ’پُرجوش‘ تھی، لیکن کیمو تھراپی کے دوران ڈاکٹروں نے بتایا کہ جنسی تعلقات اس دوران درحقیقت خطرناک ہو سکتے ہیں۔
میکملن کینسر سپورٹ کی تحقیق کے مطابق، کینسر میں مبتلا تقریباً 46 فیصد نوجوانوں کا کہنا ہے کہ یہ مرض ان کی سیکس لائف کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے، اس کے مقابلے میں تمام عمر کے لوگوں میں یہ شرح اوسطاً 37 فیصد ہے۔
’کینسر ریسرچ یوکے‘ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، برطانیہ میں ہر سال 15-24 سال کی عمر کے تقریباً 2,400 افراد میں کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔
شدید تکلیف اور ’حسد‘
اس مرض کے علاج کی وجہ سے کیٹ میں پلیٹلیٹس کی تعداد کم ہوگئی۔ ناکافی پلیٹلیٹس ہونے کا مطلب ہے کہ اگر آپ کو ایک چھوٹا سا کٹ لگے یا کہیں جِلد پھٹ جائے، جیسا کہ اکثر جنسی تعلقات کے دوران ہو سکتا ہے، تو آپ کا خون جمے گا نہیں اور صرف بہنے لگے گا۔
ایک طرف وہ ’حسد کے ساتھ‘ اپنے دوستوں کو کالج سے رومانوی ملاقاتوں پر جاتے ہوئے دیکھتی تھیں، اور دوسری جانب وہ اپنی بیماری اور علاج کے مختلف اثرات بشمول بالوں کا گرنا، وزن میں اُتار چڑھاؤ اور ہڈیوں کے شدید درد کا مقابلہ کر رہی تھیں۔
کیمو تھراپی کے دوران انھوں نے جنسی تعلقات میں دلچسپی کھو دی لیکن کامیاب بون میرو ٹرانسپلانٹ کے بعد، ‘کچھ احساسات واپس آنا شروع ہو گئے‘ اور کیٹ دوبارہ سیکس کرنا چاہتی تھیں۔
لیکن جب انھوں نے ایک رات خود لذتی کی کوشش کی تو انھیں ‘تکلیف اور درد‘ کا سامنا کرنا پڑا۔
‘مجھے لگا میں ٹوٹ گئی ہوں‘
کیٹ کو اس وقت معلوم نہیں تھا، لیکن کیمو تھراپی اور ریڈیو تھراپی کے علاج سے ان کا جسم کیمیکل مینوپاز میں چلا گیا تھا۔
مینوپاز کی بہت سی ممکنہ علامات میں سے ایک اندام نہانی کی ایٹروفی ہے، جہاں اندام نہانی خشک ہو جاتی ہے، جس سے سیکس کے دوران تکلیف ہوتی ہے۔
لیکن کسی نے کیٹ کو خبردار نہیں کیا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے اس لیے انھیں محسوس ہوا کہ انھیں ‘اندھیرے میں چھوڑ دیا گیا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ سکیس اب ان کے لیے ویسا نہیں تھا جیسا پہلے ہوا کرتا تھا۔
انھوں نے سوچا تھا کہ وہ دوبارہ ڈیٹنگ کے لیے تیار ہیں لیکن اس بُرے تجربے کا مطلب یہ تھا کہ ان کا اعتماد ختم ہو گیا، کیونکہ انھیں اب یہ خیال تھا کہ انھیں اپنے رومانوی ساتھی کو سمجھانا پڑے گا کہ وہ جنسی تعلقات قائم نہیں کر سکتیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ‘مجھے اپنا آپ، ایک طرح سے، ٹوٹا ہوا محسوس ہوا۔ اس سے کافی شرمندگی ہوئی۔‘
کیٹ بہت شرمندہ تھیں۔ انھوں نے کئی مہینوں تک اس بارے میں کسی سے بات نہیں کی۔
لیکن آخر کار انھیں ’اتفاق سے‘ پتا چلا کہ ان کے ٹرانسپلانٹ کلینک کی ایک نرس نے خواتین کی صحت کے لیے ایک کلینک قائم کیا ہے، جہاں کیٹ آخر کار مدد اور مشورہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیے
وہ کہتی ہیں ‘اس ملاقات کے بعد میں کافی پُراعتماد تھی۔ مجھے ہر چیز دوبارہ دریافت کرنی تھی، لیکن میں اب ایسا زیادہ معلومات اور محفوظ طریقے سے کرنے کے قابل تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہJack Fielding
'میں نے بہت بدصورت محسوس کیا'
جیک فیلڈنگ میں سارکوما کی ایک قسم ایم پی این ایس ٹی کی تشخیص ہوئی جس کے بعد انھیں اپنی صحت کی دیکھ بھال کرنے والی ٹیم سے جنسی تعلقات کے بارے میں مشورہ طلب کرنا بہت ‘شرمناک اور عجیب‘ لگا۔
جب بولٹن سے تعلق رکھنے والے جیک کا 2019 میں علاج کے دوران وزن کم ہوگیا اور بال گرنے لگے تو انھیں محسوس ہوا جیسے ان کی شخصیت کا ایک پہلو بھی کہیں گم گیا ہے۔
26 سالہ نوجوان نے بی بی سی نیوز بیٹ کو بتایا کہ ‘میری عزت نفس کو بہت ٹھیس پہنچی تھی۔ میں خود کو ہی اجنبی محسوس کرتا تھا۔ میں آئینے میں دیکھتا تو مجھے اپنا آپ نظر نہیں آتا تھا۔‘
‘اس وقت کسی کے سامنے برہنہ ہونا میرے لیے ایک خوفناک خیال تھا کیونکہ میں بہت بدصورت محسوس کرتا تھا۔‘
کینسر کے سیکس لائف پر اثرات
میکملن کینسر سپورٹ کا کہنا ہے کہ کینسر کسی کی سیکس لائف کو بہت سے طریقوں سے متاثر کر سکتا ہے، جیسا کہ:
- کینسر کی تشخیص ہونے کے نفسیاتی اثر کی وجہ سے جنسی تعلقات میں عدم دلچسپی
- علاج کے قلیل مدتی اثرات جیسے تھکاوٹ
- بال گرنے اور وزن گرنے کی وجہ سے اپنی جسامت پر شرمندگی
- طویل مدتی اثرات جیسے کہ ہلنے جلنے میں کمی یا جسمانی تبدییاں اس حوالے سے کہ جنسی طور پر آپ کا جسم کیسے کام کرتا ہے

،تصویر کا ذریعہCait Wilde
ماہرِ نفسیات کیرولین لیویٹ کینسر کے مریضوں کے حوالے سے خاص مہارت رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق این ایچ ایس (صحت عامہ کا برطانوی ادارہ) میں سائیکو سیکشول تھراپی کے ’وسائل کم‘ ہیں لہذا زیادہ تر لوگوں کو، اگر وہ مدد چاہتے ہیں، نجی طور پر یہ علاج کروانا پڑتا ہے۔
وہ کہتی ہیں ‘بلوغت سے گزرنا اور اپنی جنسی صحت کے بارے میں سوچنا کافی مشکل ہے، لیکن اگر آپ کینسر کے مرض میں مبتلا نوجوان ہیں تو آپ اور بھی تنہا محسوس کر سکتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
کنسلٹنٹ کینسر سپیشلسٹ اور میکملن کینسر سپورٹ کے کلینکل ایڈوائزر ڈاکٹر رچرڈ سیمکاک اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پورے برطانیہ میں اس حوالے سے خصوصی علاج کی دستیابی ‘بہت مشکل‘ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ این ایچ ایس کو مزید ماہرین سے فائدہ ہوگا کیونکہ کیٹ اور جیک جیسے لوگوں کو درپیش مسائل ہمیشہ حل نہیں کیے جاسکتے۔
‘ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کو ان سوالات سے حساس طریقے سے نمٹنے کے لیے تربیت دی جاتی ہے، بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی تربیت دی جاتی ہے کہ وہ ان سوالات کے جوابات دیں۔‘
کیٹ اب کینسر میں مبتلا لوگوں کے لیے جنسی مشورے اور معلومات کو بہتر بنانے کے لیے مہم چلا رہی ہیں اور کینسر سے بچ جانے والے دوسرے نوجوان لوگوں کے ساتھ مل کر ان کی جنسی کہانیوں کے بارے میں ایک میگزین پر کام کر رہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’اگرچہ یہ حد سے زیادہ بات چیت عیاں کرنے کے مترادف ہے، یہ ہمارے تجربات ہیں، اور ہم لوگوں کو زیادہ ایماندار بننے کی ترغیب دینا چاہتے ہیں۔‘
‘میں نہیں چاہتی کہ لوگوں کو یہ محسوس ہو کہ انھیں اندھیرے میں چھوڑ دیا گیا ہے جیسا کہ میرے ساتھ ہوا۔‘








