جلد کا کینسر میلانوما: ’مساج کرنے والی خاتون نے جلد کے خطرناک کینسر سے میری جان بچائی‘

سیوناگ میک کینن (دائیں) اور ڈومینیکا لاکووچ

،تصویر کا ذریعہSeonag MacKinnon

،تصویر کا کیپشنشونک مکینن (دائیں) کہتی ہیں کہ ڈومینیکا (بائیں) سے ان کی دوسری ملاقات بہت جذباتی تھی
    • مصنف, اینجی براؤن
    • عہدہ, بی بی سی سکاٹ لینڈ نیوز

انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کی ران کے پچھلے حصے پر ایک نشان ہے۔ ایک دن وہ مساج کروانے گئیں تو مساج کرنے والی خاتون نے مساج کے بعد اس نشان کا ذکر کیا اور انھیں مشورہ دیا کہ وہ کسی ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔

سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا سے تعلق رکھنے والی شونک مکینن مدرز ڈے کے موقعے پر مساج کروانے گئی تھیں۔ مدرز ڈے یعنی ماؤں کے عالمی دن کے موقعے پر ان کے بچوں نے تحفے میں ان کے لیے مساج کی بکنگ کروائی تھی۔

شونک مکینن نے بتایا کہ وہ نشان جسم کے ایسے حصے پر تھا جہاں آپ کی نظر نہیں جاتی ہے۔ انھوں نے کہا ’وہ گہرے رنگ کا ابھرا ہوا نشان تھا، تقریباً آدھا انچ لمبا۔ وہ ایسا دکھتا تھا جیسے کوئی چوٹ لگ گئی ہو، لیکن یہ تھوڑا مختلف تھا۔‘

شونک نے بتایا ’ڈومینیکا (مساج والی خاتون) نے مجھے کہا کہ وہ ڈاکٹر تو نہیں ہیں لیکن ان کے خیال میں مجھے وہ نشان ڈاکٹر کو دکھا لینا چاہیے۔‘

شونک کو پہلے تو ڈومینیکا کے اس مشورے پر حیرانی ہوئی لیکن چند ہفتے بعد انھوں نے جب اپنے داکٹر کو وہ نشان دکھایا تو اس نے انہیں ماہر جلد کے پاس بھیج دیا۔

انھوں نے بتایا ’تب تک بھی میں اسے احتیاط کے طور پر کیا جانے والا عام چیک اپ سمجھ رہی تھی۔ لیکن مجھے اس وقت گڑبڑ محسوس ہونی شروع ہوگئی جب چیک اپ کے دس منٹ کے اندر ہی میں نے خود کو آپریشن ٹیبل پر لیٹا ہوا پایا۔‘

وہ کوئی عام نشان نہیں جلد کا کینسر ’میلانوما‘ تھا۔

میلانوما
،تصویر کا کیپشنشونک کی ران کے پچھلے حصے پر تقریباً آدھا انچھ لمبا نشان تھا

میلانوما برطانیہ میں کینسر کی پانچویں سب سے عام قسم ہے۔ ہر برس اس سے کم از کم 2300 افراد متاثر ہو کر ہلاک ہوتے ہیں۔

ڈاکٹروں نے شونک کی فوری طور پر سرجری کر کے کینسر کو جلد سے نکال دیا اور کچھ ہفتوں بعد ان کی ایک اور سرجری ہوئی۔

شونک نے بتایا ’ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ مجھے کینسر کا بروقت پتا چل گیا۔ کیوں کہ کینسر جسم کے پچھلے حصے میں تھا اور ممکنہ طور پر اگر تب اس کا پتا نہ چلتا تو یہ مزید پھیل سکتا تھا۔

’میلانوما جلد کے کینسر کی ایک خطرناک قسم ہے جو بہت تیزی سے پھیل سکتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ڈاکٹر نے ان سے کہا ’اگر اس کا پتا نہ چلا ہوتا تو اس وقت ہم کسی اور ہی قسم کی گفتگو کر رہے ہوتے۔ مساج کرنے والی خاتون نے آپ کی زندگی بچا لی۔ آپ کو اسے پھول خرید کر دینے چاہیں۔‘

میلانوما کیا ہے؟

میلانوما جلد کے کینسر کی ایک قسم ہے جو جسم میں پھیل سکتا ہے۔

بریٹش سکن فاؤنڈیشن کے مطابق جلد کے کینسر کی دوسری اقسام کے مقابلے میں میلانوما زیادہ عام نہیں ہے۔ لیکن یہ جلد کے کینسر کی بہت خطرنات قسم ہے۔

میلانوما جلد پر پہلے سے موجود تِل سے بھی جنم لے سکتا ہے۔ لیکن بیشتر اوقات یہ نئے نشان کے طور پر سامنے آتا ہے۔

یہ جسم کے کسی بھی حصے میں بن سکتا ہے۔ حالانکہ اب تک سامنے آنے والے زیادہ تر کیسز میں پایا گیا کہ یہ مردوں میں سب سے زیادہ پیٹھ پر اور خواتین میں ٹانگوں پر پایا جاتا ہے۔

’میرے پاس الفاظ نہیں تھے‘

شونک مکینن ماضی میں بی بی سی کے لیے کام کر چکی ہیں۔ جب وہ مکمل طور پر صحتیاب ہوئیں تو پھول لے کر ڈومینیکا سے ملنے گئیں۔

39 سالہ ڈومینیکا نے بی بی سی کو بتایا ’جب میں نے سیوناگ کو پھولوں کے ساتھ سیلون میں داخل ہوتے دیکھا تو تھوڑی عجیب سی شکل بنائی۔ اس نے مجھ سے کہا آپ نے مجھے شاید پہچانا نہیں۔‘

ڈومنیکا بتاتی ہیں کہ ’جب اس نے مجھے بتایا کہ میں نے اس کی جان بچائی ہے تو میں یہ سن کر حیران تھی۔ میں بہت جذباتی اور حیران رہ گئی۔ بعد میں خوشی سے میں رونے لگی۔‘

اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ سیوناگ

،تصویر کا ذریعہSeonag MacKinnon

،تصویر کا کیپشنسیوناگ اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ

ڈومینیکا 16برس قبل پولینڈ سے برطانیہ آئی تھیں۔ وہ تب سے مساج تھیریپسٹ کا کام کر رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتی ہیں کہ ان کے پاس آنے والے لوگوں کے جسم پر کوئی نشان تو نہیں ہے۔

انھوں نے کہا ’میں نظر رکھتی ہوں کہ کوئی تشویشناک بات تو نہیں ہے۔ مساج کرتے وقت میں صرف پٹھوں کو دھیان میں نہیں رکھتی بلکہ جسم پر بھی دیکھتی ہوں کہ کوئی غیر معمولی چیز تو نہیں۔‘

انھوں نے کہا ’اگر وہ صرف پیٹھ کی مالش کے لیے آئی ہوتیں تو میری نظر اس نشان پر نہ گئی ہوتی۔‘

انھوں نے بتایا ’جب مجھے وہ نشان نظر آیا تو میں گھبرا گئی کیوں کہ مجھے پتا تھا کہ وہ کینسر کی ایک خطرناک قسم ہے۔‘

ڈومینیکا نے بتایا کہ گذشتہ چند برسوں میں انھوں نے تقریباً سو افراد کو ایسی ہی وجوہات سے ڈاکٹر کے پاس جانے کا مشورہ دیا ہے۔

وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ وہ ایک تربیت یافتہ طبی ماہر نہیں ہیں۔

انھوں نے بتایا ’جب مجھے کوئی تشویشناک بات نظر آتی ہے تو میں جسم کے اس حصے میں بہت ہلکے ہاتھ سے مالش کرتی ہوں اور مالش ختم ہونے پر کسٹمر کو سمجھاتے ہوئے بتا دیتی ہوں کہ ڈاکٹر کو دکھا لیں۔‘

شونک کہتی ہیں کہ وہ ڈومینیکا کی جتنی بھی مشکور ہوں وہ کم ہے۔

انھوں نے کہا ’میرے دو بیٹے اب شادی کرنے جا رہے ہیں۔ مجھے یہ خیال آتا ہے کہ اگر ڈومینیکا نہ ہوتی تو شاید آج میں ان کی شادی اور بہت سے اہم دن دیکھنے سے محروم رہ جاتی۔‘

انھوں نے کہا ’میرے بچوں نے مدرز ڈے پر مجھے جو تحفہ دیا وہ کسی کے لیے بھی سب سے شاندار تحفہ ہوگا۔‘

ڈومینیکا نے سیوناگ کو ڈاکٹر کے پاس جانے کا مشورہ 2019 میں دیا تھا۔

شونک مکینن نے بتایا ’میں نے اسی بیوٹی سیلون میں ڈومینیکا کے لیے پھول لے کر جانے کا فیصلہ اس لیے کیا کیوں کہ میں یہ بھی واضح کرنا چاہتی تھی کہ اگر دو برس قبل میری اس سے ملاقات نہ ہوئی ہوتی تو حالات کتنے مختلف ہو سکتے تھے۔‘

’اب ہمارے درمیان ایک ایسا تعلق ہے جو مجھے نہیں لگتا کہ جلد ختم ہوگا۔‘