’کینسر کے علاج نے میرا دل ٹوٹ گیا تھا لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری‘

،تصویر کا ذریعہKreena Dhiman
برطانیہ کے علاقے کرالی کی رہائشی کرینا پٹیل دِمن کہتی ہیں کہ ان کے ساتھ گذشتہ پانچ برس میں جو ہوا بہت ہی ناقابل بیان عجیب صورتحال تھی۔
جب 2013 میں چھاتی کے سرطان کی تشخیص ہوئی تو اس وقت وہ 33 برس کی تھیں۔ اس وقت ان کی شادی کے ایک سال تک وہ دنیا کی سیر و تفریح کے بعد انھوں نے واپس اپنے کام پر ابھی توجہ مرکوز کی ہی تھی کہ انھیں اپنی بیماری کے بارے میں معلوم ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ’میں نے محسوس کیا میرا ایک پستانہ مڑ چکا تھا اور ایسے میں جب میں نے گوگل سے یہ سب پتا چلانے کی کوشش کی تو بھیانک نتائج دیکھ کر میری چیخ نکلی کہ اے خدایا یہ میں نھیں ہوسکتی ہوں۔‘
تین سال بعد جب ان کے ایک پستان کو آپریشن کے بعد کاٹ دیا گیا، اس کے بعد کیموتھراپی، ریڈیو تھراپی اور پھر ایک بڑا آپریشن ہوا۔ کرینا سوچ رہی تھیں کہ جیسے ان کی زندگی اب خطرے سے نکل چکی ہو۔
انھوں نے کینسر کی صورت میں بھانجھ پن کے خطرات سے بچنے کے لیے پیشگی طور پر اپنے جینز محفوظ بنانے کے لیے خصوصی تدابیر بھی اختیار کیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن پھر کینیڈا جاتے ہوئے وہ اس وقت صدمے سے دوچار ہوگئیں جب انھیں لگا کہ اب کینسر کی وجہ سے ان کی زندگی کا سفر ختم ہوجائے گا۔ وہ تھک چکی تھیں۔ ان کی چھاتی بہت سخت ہو چکی تھی اور انھیں سانس لینے میں دقت ہو رہی تھی۔
ڈاکٹرز کو بھی اس وقت تک کچھ سمجھ نھیں آرہی تھی جب ایک دل کے ڈاکٹر نے بیماری کی تشخیص کے لیے پیش رفت کی۔
دل کو لاحق خطرہ
بھلا ہو علاج میں ہونے والی نت نئی ایجادات کا جس کی وجہ سے بہت سے کینسر میں مبتلا مریضوں کی زندگی محفوظ رہتی ہے۔ تاہم دس میں سے ایک مریض کو دل کو نقصان پہنچنے کا سنگین خطرہ لاحق رہتا ہے۔ بعض اوقات علاج مکمل ہونے کے سال بعد بھی یہ خطرہ موجود رہتا ہے۔
یہ مسئلہ کیمیو تھراپی سے متعلق دوائیاں استعمال کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جس سے دل متاثر ہوتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دل اب ٹھیک سے خون کی ترسیل نھیں کررہا ہے اور ایسی صورتحال میں حرکت قلب بند بھی ہو سکتی ہے۔
یہ صورتحال ایک الگ قسم کی طبی مہارت کی ضرورت بڑھا دیتی ہے جسے کارڈوانکالوجی کہا جاتا ہے، جس میں کینسر کے محفوظ علاج کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
علاج کے دوران اس بات کا پتا چلانا کہ کون سے مریض کو دل کا خطرہ ہے اور کسے نھیں ہے یہ ابھی تک ایک انتہائی مشکل صورتحال ثابت ہوتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سائنسدان جانتے ہیں کہ کم عمر اور بوڑھے افراد کے دل متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ اب انھوں نے اس بات کا بھی پتا چلا لیا ہے کہ ناقص جینز بھی دل کے امراض جیسے خطرات کو بڑھا دیتے ہیں۔
رائل برومپٹن کالج لندن میں کارڈیالوجسٹ کنسلٹنٹ ڈاکٹر ایلکس لوئن کا کہنا ہے کہ کچھ مریضوں میں اسے جینز ہوتے ہیں جو حرکت قلب بند ہونے کی وجہ بن سکتے ہیں اور کیمو سے انھیں دوبارہ خطرہ لاحق رہتا ہے۔ ’زیادہ تر مریضوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ انھیں دل کا دورہ پڑنے کا معمولی خطرہ ہے۔‘
سرطان کے شکار 200 مریضوں پر کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایسے مریض جن کو کینسر تھراپی اور پھر اس وجہ سے کارڈیو مائیو پیتھی جسے سی سی ایم بھی کہا جاتا ہے، کی جاتی ہے تو پھر یہ ان میں جینز سے متعلق خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ کیموتھراپی سے پہلے یہ معلوم کرلینا چائیے کہ کسے خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈاکٹر لوئن کا کہنا ہے کہ اچھی خبر تو یہ ہے کہ ان مریضوں میں ڈرگ سے علاج اس خطرے کو کم کردیتا ہے اور قریبی معائنے سے کسی بھی ممکنہ خطرے کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔
’حاملہ ہونا انتہائی خطرناک‘
کرینا جیسے مریض بھی، جن کا ایک وقت میں سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے، نارمل زندگی کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔
کرینا کا کہنا ہے کہ ’میری صحتیابی بہت ناقابل یقین سی بات ہے۔ میں نے کبھی یہ سوچا ہی نھیں تھا کہ میں دوبارہ ہسپتال سے واپس گھر آؤنگی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کینیڈا کے ہسپتال میں دو ہفتوں کے دوران کرینا نے اپنے رشتہ داروں کو یہ پیغامات بھیجے کہ وہ بری خبر کے لیے تیار رہیں۔
کینیڈا میں دو ماہ کے قیام کے بعد جس دوران ان کی دیکھ بھال ان کے شوہر کر رہے تھے وہ بغیر نمک والی غذا استعمال کرتی تھیں۔ ان کے دل کی حرکت چھ فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد تک بہتر ہو گئی۔
یہ بات کرینا کے واپس برطانیہ جانے کے لیے تسلی کا باعث بن چکی تھی۔ لیکن یہ ان کے روبہ صحت ہونے کا آغاز تھا۔ دواؤں کے استعمال اور بھرپور بحالی کی وجہ سے ان کے دل نے واپس نارمل پوزیشن پر کام کرنا شروع کردیا۔ لیکن ایک بات اب بھی ایسی تھی جس کے بارے میں انھیں بتایا گیا کہ وہ خطرناک ہوسکتی ہے۔ اور وہ بات یہ تھی کہ بچے کو جنم دینا ان کے دل کے لیے اچھا نہیں۔
کرینا کہتی ہیں کہ ’اس کے بعد ہم نے دوسرے آپشن دیکھنا شروع کردیے تھے۔
’میں بہت مشکور ہوں‘
انھوں نے اپنا ایمبریو استعمال کرتے ہوئے کرائے کی کوکھ سے بچی پیدا کی جو اب 16 ماہ کی ہے۔
کرینا کا کہنا ہے کہ ’اگلے مہینے میں ہمالیہ کے پہاڑوں کو سر کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں۔ اور اب میں ایک غیر معمولی زندگی بسر کررہی ہوں جس کے لیے میں بہت شکر گزار ہوں۔‘
’میں نے سوچا تھا کہ میں اپنی زندگی کی 40 ویں سالگرہ نھیں دیکھ سکوں گی۔‘
کرینا کی مہم ایک خیراتی ادارے کوپا فیل کی طرف سے تھی جس کا مقصد چھاتی کے سرطان میں مبتلا نوجوان خواتین کو آگاہی دینا ہے۔ یہ وہ مقصد ہے جو کرینا کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔
بہت سے لوگ کیمو کے بعد سرطان سے روبہ صحت ہورہے ہیں جبکہ بہت سے ایسے بھی ہیں جنھیں اس عمل کے دوران اور بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔
’یہ صحیح وقت ہے کہ مریضوں اور ڈاکٹروں کو اس بارے آگاہی دی جائے۔‘











