بلڈ کینسر: ’میں اپنے کام کے دوران بورڈ میٹنگز میں سو جاتی تھی اور پھر پتا چلا کہ مجھے کینسر ہے‘

،تصویر کا ذریعہLisa Stephenson
- مصنف, اینگی براؤن
- عہدہ, بی بی سی، سکاٹ لینڈ
جب لیزا سٹیفنسن نے اپنے کام کے دوران بورڈ میٹنگز میں سونا شروع کر دیا تو انھیں لگا کہ ایسا شاید ان کے انتہائی مصروف شیڈول کی وجہ سے ہے۔
لیزا، لائیڈز بینک کی ڈائریکٹر تھیں، ہفتے میں 70 گھنٹے کام کر رہی تھیں اور انھیں اکثر ایڈنبرا میں اپنے گھر سے لندن دفتر تک سفر کرنا ہوتا تھا۔
52 برس کی لیزا کہتی ہیں کہ ’یہ اکثر ہونے لگا کہ میرے ساتھ کام کرنے والوں کو مجھے جگانا پڑتا۔‘
’کسی میٹنگ کے دوران سو جانا باعث شرمندگی ہوتا ہے۔ میں بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس کرتی تھی۔‘
یہ سلسلہ چلتا رہا لیکن اپنی ملازمت کے دوران ایک سالانہ میڈیکل چیک اپ کے بعد انھیں ہسپتال سے ایک کال موصول ہوئی جس میں ان کے خون کے ٹیسٹ میں کسی مسئلے کی نشاندہی کی گئی۔
ان میں نایاب قسم کے لاعلاج خون کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’یہ ایسٹر کے بعد سوموار کا دن تھا اور ہم اپنے بچوں کے ساتھ ناشتہ کر رہے تھے جب مجھے یہ کال موصول ہوئی۔
’میں نے انھیں کہا کہ انھوں نے غلط نمبر ملایا ہے لیکن جب انھوں نے اصرار کیا تو میں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ آپ غلط شخص سے بات کر رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کینسر کے بارے میں انکاری
لیزا، جو 14 اور آٹھ برس کے دو بچوں کی والدہ ہیں، خود گاڑی چلا کر ہسپتال پہنچیں۔
’کنسلٹنٹ نے جب مجھے بون میرو کینسر کا بتایا تو میں نے انھیں بتایا کہ میں نے اس بارے میں کبھی نہیں سنا اور یقیناً وہ کسی غلط شخص کو بتا رہے ہیں۔‘
کنسلٹنٹ نے لیزا کو چارٹس دکھائے اور بتایا کہ اگرچہ یہ بہت برا ہے لیکن اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔
لیزا کہتی ہیں کہ ’میں نے ان سے پوچھا کہ میری کتنی زندگی باقی ہے تو انھوں نے کہا کہ پانچ برس۔ علاج بہت سخت تھا اور میری حالت اتنی بگڑ چکی تھی کہ مجھے فوراً ہی علاج کے لیے بھیجا گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہMaggie's Centre
’اگلے دن میری لندن میں ایک اہم میٹنگ تھی لیکن مجھے کہا گیا کہ آپ نہیں جا سکتیں کیوں کہ علاج شروع کرنا ہو گا۔‘
لیزا کہتی ہیں شروع میں وہ اس بات کو ماننے سے انکار کرتی رھیں اور اسے اپنے گھر اور دفتر والوں سے چھپاتی رہیں لیکن پھر ڈاکٹر نے کہا کہ انھیں لوگوں کو یہ بتانا ہو گا کیونکہ اس علاج سے وہ بہت بیمار ہو جائیں گی۔
’لیکن میں نے ایسا نہیں کیا اور کام پر جاتی رہی لیکن میری حالت کافی خراب تھی۔‘
دس سال تک لیزا نے کیموتھراپی اور سٹیم سیل کا علاج کروایا اور اس دوران وہ سات سال تک ایک آزمائشی دوا کا استعمال بھی کرتی رہیں۔
کینسر کی وجہ سے ان کے خون میں موجود سفید خلیے تباہ ہو گئے جو اس انفیکشن کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
انھیں سینکڑوں بار خون لگایا گیا اور وہ اکثر بہت بیمار محسوس کرتیں۔
لیزا نے سنہ 2011 میں کینسر کی تشخیص کے چند ماہ بعد ایڈنبرا میں ’میگی سینٹر‘ جانا شروع کیا۔
یہ فلاحی ادارہ کینسر کے شکار لوگوں اور ان کے خاندانوں کو مفت پیشہ وارانہ جذباتی اور نفسیاتی مدد فراہم کرتا ہے۔
’میگی سینٹر‘ کے 24 مراکز ہیں اور اسے وجود میں آئے 25 برس ہو چکے ہیں۔
’میگی سینٹر‘ لیزا اور ان کے بچوں کے لیے ’بہت بڑا سہارا‘ ثابت ہوا، خاص طور پر اس وقت جب کینسر کی تشخیص کے دو برس بعد ہی لیزا کے شوہر دل کے ایک عارضے کی وجہ سے دم توڑ گئے۔

،تصویر کا ذریعہMaggie's
لیزا نے نہ صرف اس ادارے سے تھراپی لی بلکہ انھوں نے اس ادارے کے لیے فنڈ بھی جمع کیا۔
لیزا نے اپنے علاج کی خاطر اپنی بینک کی ملازمت چھوڑ دی لیکن ان کا کہنا ہے کہ میگی سینٹر کے لیے فنڈ جمع کرنے نے انھیں زندگی میں ایک نیا مقصد دیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میری زندگی اب ان دنوں کے مقابلے میں بہت زیادہ پرسکون ہے جب میں سرخ آنکھوں کے ساتھ لندن کے لیے فلائٹ پر سوار ہوتی تھی اور رات گئے واپس گھر لوٹتی تھی۔‘
لیزا نے اب تک میگی سینٹر کے لیے 16 لاکھ پاؤنڈ چندہ جمع کیا ہے۔
سابق نرس اور گذشتہ 21 برس سے میگی سینٹر کے سربراہ اینڈے اینڈرسن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ادارے کو بنانے کا مقصد لیزا اور ان جیسے خاندانوں کو ہسپتال کے ماحول سے دور گھر جیسا ماحول فراہم کرنا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ہر کوئی میگی سینٹر کو اپنا گھر سمجھے۔‘
’یہاں کچن بھی ہے جہاں آپ اپنے لیے چائے بنا سکتے ہیں اور ایسی جگہیں بھی ہیں جہاں آپ خاموشی سے بیٹھ سکتے ہیں لیکن یہاں ایسی جگہ بھی ہے جہاں آپ دوسروں کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں۔‘
’یہاں ایک بہت بڑی فیملی رہتی ہے اور یہ ایسی محفوظ جگہ ہے جہاں آپ کو سنا جا سکتا ہے۔‘












