سیکس لائف اور جنسی رجحانات: مردوں کے مقابلے خواتین کیوں اپنے رویے تبدیل کر رہی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, جیسیکا کلین
- عہدہ, بی بی سی، ورک لائف
سیکس سے متعلق خیالات اور رویے وقت کے ساتھ بدل رہے ہیں اور وسیع تر بھی ہو رہے ہیں۔ مگر جنسی رجحانات کی بات کی جائے تو خواتین کے رویے مردوں کے مقابلے کم سخت گیر ہوتے ہیں۔ لیکن ایسا کیوں ہے؟
ایک وقت تھا جب ہم صرف قوسِ قزح کے پرچم سے ہی واقف تھے۔ مگر آج مختلف رنگوں کے پرچم پائے جاتے ہیں جو جنسی رجحانات کے تنوع کی بات کرتے ہیں۔
لوگ اب بظاہر سیکس کے بارے میں کھل کر بات کر لیتے ہیں۔ روایت سے ہٹ کر مختلف شناختیں، جو پہلے غائب رہتی تھیں، اب کھل کر سامنے آ رہی ہیں اور مین سٹریم کا حصہ ہیں۔ اس موضوع پر کھل کر بحث ہونے سے جنسی شناختوں میں اب نرمی آنے لگی ہے اور لوگ اپنی جنسی شناخت آسانی سے تبدیل بھی کر پاتے ہیں۔
نئے تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کئی ملکوں میں یہ تبدیلی ایک گروہ میں زیادہ واضح ہے۔ خواتین زیادہ آسانی سے اپنی جنسی شناخت تبدیل کر پاتی ہیں، مردوں کے مقابلے اُن کی شرح کہیں زیادہ ہے۔
تو اس فرق کی وجہ کیا ہے؟ ماہرین سمجھتے ہیں کہ اس میں کئی عناصر شامل ہیں، خاص کر سماجی ماحول، جن کی بدولت خواتین زیادہ آسانی سے روایتی صنفی کرداروں اور شناختوں کو توڑ پاتی ہیں۔
ان نئی معلومات کے باوجود سوال اب بھی برقرار ہے کہ مستقبل میں تمام صنفوں کے لیے اپنے جنسی رجحان کو تبدیل کرنے سے کیا مراد ہو گا؟
جنسی رجحانات میں ایک بڑی تبدیلی
نیویارک میں بنگھمٹن ہیومن سیکشویلٹی ریسرچ لیب میں شان میسی اور ان کے ساتھی قریباً ایک دہائی سے سیکس سے متعلق رویوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہر ایک تحقیق میں وہ لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ جنسی رجحان اور صنف سے متعلق وہ اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ انھیں احساس ہوا ہے کہ وقت کے ساتھ یہ ڈیٹا بہت تبدیل ہوا ہے اور ان کے پاس جنسی کشش سے متعلق معلومات کا خزانہ دستیاب ہے۔
بنگھمٹن یونیورسٹی میں خواتین، صنف اور جنسی مطالعے کے پروفیسر میسی کہتے ہیں کہ ’ہم نے سوچا کہ ہم دس سال سے ڈیٹا جمع کر رہے ہیں، کیوں نہ ہم واپس جا کر دیکھیں کہ رجحانات کس طرح تبدیل ہوئے ہیں۔‘
انھیں پتا چلا کہ 2011 سے 2019 کے درمیان کالج کی خواتین میں صرف مردوں کی طرف مائل ہونے کا رجحان تبدیل ہو رہا ہے۔ سنہ 2019 میں 65 فیصد خواتین نے بتایا کہ وہ صرف مردوں میں دلچسپی لیتی ہیں۔
سنہ 2011 کے مقابلے یہ کم ہے جب یہ شرح 77 فیصد ہوا کرتی تھی۔ اسی دوران ایسی خواتین میں بھی کمی واقع ہوئی ہے ’جو صرف مردوں سے سیکس کرتی ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
دریں اثنا اس عرصے میں مردوں کے جنسی رویے زیادہ تبدیل نہیں ہوئے۔ قریب 85 فیصد مردوں کا کہنا تھا کہ وہ صرف خواتین میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ قریب 90 فیصد کے مطابق وہ صرف خواتین کے ساتھ سیکس کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ اور نیدرلینڈز سمیت دنیا کے دیگر سرویز میں ملتی جلتی معلومات سامنے آئی ہے۔ ہر سال کے ساتھ مردوں کے مقابلے خواتین کی جانب سے زیادہ سیم سیکس دلچسپی ظاہر کی گئی ہے۔
طاقت اور آزادی
میساچوسیٹس میں سپرنگفیلڈ کالج میں نفسیات کی پروفیسر الیزبتھ مورگن کا کہنا ہے کہ ’اسے مکمل طور پر ایک چیز پر مرکوز کرنا پیچیدہ ہو گا۔‘ لیکن آیا صنفی کردار تبدیل ہوئے ہیں یا نہیں، یہ اہم وجہ ہے۔
میسی اور ان کے ساتھیوں نے سماجی رویوں میں بڑی تبدیلی کی نشاندہی کی ہے، جیسے فیمنیزم کی ترقی اور خواتین کے حقوق کی تحریک۔ گذشتہ دہائیوں کے دوران ان دونوں عناصر نے سماجی و سیاسی صورتحال کو بڑے پیمانے پر تبدیل کیا ہے۔ تاہم مرد و خواتین ان تبدیلیوں سے مختلف انداز میں متاثر ہوتے ہیں۔
میسی کا کہنا ہے کہ ’خواتین کے صنفی کرداروں میں پیشرفت ہوئی ہے اور ایسا مردوں کے صنفی کرداروں میں زیادہ نہیں ہوا۔‘ ان کے مطابق ایل جی بی ٹی کیو پلس تحریک کی بدولت لوگوں کے جنسی رجحان آج زیادہ متحرک ہیں۔
مگر وہ کہتے ہیں کہ فیمنیزم اور خواتین کے حقوق کی تحریک خواتین پر زیادہ اثر انداز ہوئی ہے۔ تاریخی اعتبار سے مردوں کے لیے کوئی ایسی تحریک سامنے نہیں آ سکی جس سے ان کے رویے بڑے پیمانے پر تبدیل ہو سکیں۔
مورگن کہتے ہیں کہ ’50 سال قبل خواتین کے لیے زندگی ممکن نہیں تھی اگر وہ ایک مرد سے شادی کر کے گھر نہیں بساتیں، کیونکہ وہ اپنے خاوند پر انحصار کرتی تھیں۔‘
اس ضمن میں صرف مردوں میں دلچسپی نہ رکھنے سے اب خواتین روایتی صنفی کرداروں سے باہر نکل رہی ہیں۔
دریں اثنا جہاں ایک طرف خواتین کو زیادہ آزادی مل رہی ہے وہیں مردوں کے صنفی کردار میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی کیونکہ معاشرے میں اب بھی اکثر جگہوں پر طاقت انہی کے پاس ہے۔
مورگن کہتے ہیں کہ ’(مرد) چاہتے ہیں کہ طاقت قائم رکھنے کے لیے اپنے مردانہ صنفی کردار کو برقرار رکھیں۔ مردانہ ہونے کا ایک حصہ بھی یہی ہے کہ آپ صرف مخالف جنس یعنی خواتین کی طرف مائل ہوں۔‘
وہ سمجھتے ہیں کہ ہم جنس پرستی سے معاشرے میں ان کی طاقت کم ہو جائے گی۔ میسی کہتے ہیں کہ مرادنگی ایک ’کمزور فلسفہ ہے۔‘ ہم جنس پرستی سے اس کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔
24 سالہ سیکس کوچ وائلٹ ٹرننگ کا کہنا ہے کہ خواتین کے جنسی تعلقات کو غیر معمولی سمجھا جاتا ہے، خاص کر مردوں کی نظر میں۔ جس کے باعث خواتین کا ہم جنس پرست رشتہ معاشرتی طور پر قابلِ قبول ہوتا ہے، لیکن ایسا غلط وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے۔ دریں اثنا، دو مردوں کے درمیان سیکس کے تصور کو اتنا قابلِ قبول نہیں سمجھا جاتا۔
سنہ 2019 میں 23 ممالک کے افراد کے ہم جنس پرست مردوں اور خواتین کے بارے میں رویوں کے بارے میں ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا کہ ’ہم جنس پرست مردوں کو ہم جنس پرست خواتین سے زیادہ بُرا سمجھا جاتا ہے۔‘
سرِ عام بحث
خواتین کے لیے اپنے جنسی رویوں کے حوالے سے کھل کر بات کرنے کے لیے وقت کے ساتھ ساتھ مواقعوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دی یونیورسٹی آف یوٹا میں علمِ نفسیات اور جینڈر سٹڈیز کی پروفیسر نے سنہ 90 کی دہائی میں جنسی رویوں کے بارے میں تحقیق کا آغاز کیا جس کا مرکز مردوں کو رکھا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس تحقیق کے شرکا کا تعلق ہم جنس پرست معاونتی گروپس سے تھا اور ان کے شرکا زیادہ تر مرد تھے اور ’محققین کے لیے مردوں کو ڈھونڈنا زیادہ آسان تھا۔‘
تاہم ڈائمنڈ چاہتی تھیں کہ وہ خواتین کے جنسی رویوں کے بارے میں تحقیق کریں۔ انھوں نے ایک تحقیق کا آغاز کیا جس میں انھوں نے 100 خواتین سے ان کے جنسی رویوں کے بارے میں ہر دو سال بعد انٹرویوز کیے اور یہ سلسلہ 10 برس تک چلتا رہا۔ ان کی کتاب ’سیکشوئل فلوئیڈٹی: انڈرسٹینڈنگ ویمن لو اینڈ ڈیزائر‘ سنہ 2008 میں شائع کی گئی تھی۔
اس کتاب میں اس بات پر بحث کی گئی ہے کہ کیسے کچھ خواتین کے لیے محبت اور کشش کا مطلب وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہ اس سے قبل پائی جانے والی سوچ سے مختلف تھا جس کے مطابق جنسی رویوں کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہ سوچ ایسے مقالوں میں خاصی عام تھی جن میں صرف مردوں کو تحقیق کا مرکز بنایا گیا تھا۔
جس دوران ان کی کتاب شائع کی گئی تھی امریکی سیلبرٹیز جیسے سنتھیا نکسن اور ماریا بیلو جنھوں نے ماضی میں خواتین کے ساتھ ڈیٹنگ کی تھی اپنے ہم جنس پرست رویے کے بارے میں تجربے کو عام کرتی دکھائی دیں۔
اوپرا ونفری نے ڈائمنڈ کو اپنے شو پر بلا کر خواتین میں جنسی رجحانات کے قابلِ تبدیل ہونے کے تصور کے بارے میں بات کی۔ یعنی اب یہ تصور باضابطہ طور پر عام بحث کا حصہ بن چکا تھا۔
مزید پڑھیے
اس کے علاوہ ٹرننگ کا کہنا تھا کہ زبان میں بھی خواتین کے جنسی رویوں میں تبدیلی کو پہچانا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ٹرننگ کا کہنا ہے کہ ان کی ہم جنس ساتھی ہائی سکول میں ’گے سٹریٹ الائنس‘ کا حصہ تھیں۔
اس گروہ میں صرف ہم جنس پرست اور مخالف جنس پرست مرد ہوا کرتے تھے اور خواتین کی جنسی شناخت کے لیے کوئی لفظ نہیں تھا۔ گے سٹریٹ الائنس کی اس اصطلاح نے ایک بائنری شخص کی حوصلہ افزائی کی کیونکہ اس میں لیسبیئن کا ذکر نہیں تھا۔
ٹرننگ کے مطابق اب خواتین کے پاس یہ راستہ موجود ہے کہ وہ اپنی جنسی شناخت کو ہم جنس پرست کہلا سکیں کیونکہ اب یہ قابل قبول ہے۔ ’زبان و بیان میں اب خواتین سمیت تمام صنفوں کے لیے جگہ بنائی گئی ہے۔‘
جنسی رویوں میں تبدیلی کا مستقبل کیا ہے؟
جنسی رویوں میں تبدیلی اب مردوں کے اندر بھی دکھائی دے سکتی ہے۔ ٹک ٹاک پر نوجوان لڑکوں کے لیے ہم جنس پرست کردار نبھانا خاصا مقبول ہو رہا ہے۔
نیویارک ٹائمز کی ایک تحریر کے مطابق ان کی خواتین فالوورز اس سے لطف اٹھاتی ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ان لوگ کے لیے ہم جنس پرست دکھنے میں کوئی ہرج نہیں یا وہ صرف کلکس کے لیے یہ سب کر رہے ہیں، اس ٹرینڈ سے پتا چلتا ہے کہ ’مردانہ‘ کے تصور سے متعلق بھی رویے تبدیل ہو رہے ہیں۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوتے ہیں کہ مستقبل میں مزید مرد اپنی جنسی شناخت کو تسلیم کر سکیں گے یا اسے تبدیل کرنے میں پُرسکون محسوس کریں گے۔
اس سلسلے میں ایسی خواتین بھی مدد کر سکتی ہیں۔ بہت سی خواتین اب اپنے جنسی رجحانات اور رویوں پر کھل کر بات چیت کر رہی ہیں جس سے مزید لوگ اب سخت رویوں کے بجائے متبادل کی بات کر سکتے ہیں۔
ڈائمنڈ کا کہنا ہے کہ ’ہماری ثقافت جنسی رویوں کے حوالے سے شرم کا عنصر پیدا کر دیتی ہے۔ ایسا کچھ بھی جو اسے آسان اور معاشرتی اعتبار سے زیادہ قابلِ قبول بناتا ہے یعنی جس میں شرم اور دقیانوسی سوچ کا عمل دخل نہیں ہوتا۔
’وہ جنسی رویوں میں مزید امکانات کو یقینی بنانے کے بارے میں مدد کر سکتا ہے یا کم سے کم اس تصور کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر سکتا ہے۔‘
میسی نے کہا کہ ’ہمیں مردوں کو لازمی طور پر دوسرے جنس کی طرف مائل ہونے اور روایتی مردانگی سے علیحدہ کرنے کی کوشش کرنی ہو گی۔‘
’اور شاید اس کا ایک مختلف نتیجہ حاصل ہو سکے، یا شاید ویسا ہی جیسا خواتین میں دیکھنے کو ملا ہے۔ خاص کر جنسی رویوں میں تنوع کے حوالے سے۔‘













