ایف بی آئی نے ’ڈیٹا انکرپشن روکنے کے لیے ایپل پر دباؤ ڈالا‘

،تصویر کا ذریعہChip Somodevilla
ایپل نے امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے دباؤ میں صارفین کے ڈیٹا کو مکمل طور پر انکرپٹ کرنے کے منصوبے کو ترک کیا۔
اطلاعات کے مطابق ایپل نے صارفین کے ڈیٹا کو آئی کلاؤڈ پر مکمل طور پر انکرپٹڈ صورت میں رکھنے کی سروس کا منصوبہ بنایا تھا تاہم ایف بی آئی ایسا نہیں چاہتی تھی۔
ڈیٹا انکرپشن کے عمل میں صارفین کا ڈیٹا ایک کوڈ میں تبدیل ہوجاتا ہے اور اس تک رسائی پاسورڈ کے بغیر ناممکن ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس خبر کو بریک کیا تھا اور اس کے مطابق ایپل انکرپشن کے اس طریقے کار پر دو سال سے خفیہ طور پر کام کر رہا تھا۔
لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس انکرپشن پروگرام کو اس لیے روکا گیا کیونکہ اس سے یہ خدشہ تھا کہ صارفین اپنے ہی اکاؤنٹ سے لاک آؤٹ ہوجائیں گے۔ یعنی کہ پاسورڈ یا سکیورٹی معلومات یاد نہ رکھنے کی صورت میں اپنے ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں کرسکیں گے۔
ایپل کا منصوبہ ’اینڈ تو اینڈ انکرپشن‘ کا تھا جس میں پاسورڈ یاد نہ رکھنے کی صورت میں ڈیٹا کو ’ڈی کرپٹ‘ یا انکرپشن ہٹانے میں ادارہ بھی مدد نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایپل کی جانب سے موجودہ سروس میں کسی بھی صارف کے ڈیٹا چوری یا آئی فون کھو جانے کی صورت میں صارفین کی اسے واپس لانے میں مدد کی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی صارف اپنے بیک اپ کی سکیورٹی معلومات مثلاً پاسورڈ وغیرہ بھول بھی جاتا ہے تو کمپنی صارف کی مدد کرسکتی ہے کیونکہ ایپل کے پاس صارف کے آئی کلاؤڈ کی ’سکیورٹی انکرپشن‘ کی معلومات کی ایک کاپی ہوتی ہے۔
ٹیکنالوجی بلاگر جان گربر لکھتے ہیں کہ اگر ایپل آئی کلاؤڈ بیک اپ کے لیے ’اینڈ تو اینڈ انکرپشن‘ متعارف کرواتا ہے تو اس میں اگر صارف اپنا پاسورڈ بھول گئے تو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ اپنے ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں کرپائیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہTIMOTHY A. CLARY
مشکل پاسورڈ
خبر رساں ادارے روئٹرز نے چھ مختلف لوگوں سے اس موضوع پر بات کی۔ ان میں ایپل اور ایف بی آئی کے سابق ملازمین بھی شامل تھے۔
ان میں سے ایپل کے ایک سابق ملازم کا کہنا تھا کہ ایپل کے قانونی مشیروں نے انکرپشن کے اس منصوبے کو بالآخر روک دیا۔
روئٹرز کے مطابق اس شحض نے بتایا کہ ’کمپنی کو اس بات کا خطرہ تھا کہ سرکاری حکام ان پر مجرموں کا ڈیٹا محفوظ کرنے کا الزام لگائیں گے۔ اس کے علاوہ ایپل کے خلاف یہ مقدمہ بھی دائر کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے ڈیٹا تک حکومتی حکام کی رسائی کو ناممکن بنا دیا ہے، یا پھر حکومت ایپل کے اس اقدام کے بعد ڈیٹا انکرپشن کے حوالے سے کوئی نیا قانون بھی متعارف کروا سکتی ہے‘۔
روئٹرز کے رپوٹر جوزف مین کا کہنا ہے کہ ایپل کے اس منصوبے کو ترک کرنے کے پیچھے وجوہات سمجھ سے باہر ہیں۔
سائبر سکیورٹی کے ماہر جیک مور کا کہنا ہے کہ انھیں اس خبر سے دھچکا لگا کیونکہ ڈیٹا انکرپشین یعنی ڈیٹا کا تحفظ انتہائی ضروری ہے اور عام طور پر کمپنیاں اس عمل میں صارفین کی مدد کرتی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ 'اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنا ڈیٹا بیک اپ نہیں کرسکتے۔ آپ اب بھی اپنے گھر کے کمپیوٹر پر ڈیٹا کا انکرپٹڈ بیک اپ رکھ سکتے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح صارفین کو یہ یاد دلانا چاہیے کہ ان کا ڈیٹا ایک مضبوط اور مشکل پاسورڈ کے استعمال سے محفوظ ہونا چاہیے۔‘
ایپل اور ایجنسیوں کا مقابلہ
پچھلے سات برس میں ایپل کو قانون نافذ کرنے والی امریکی ایجنسیوں سے معلومات حاصل کرنے کی، ایک لاکھ ستائیس ہزار 'درخواستیں' موصول ہوئیں۔
گزشتہ ہفتے امریکی اٹارنی جنرل نے ایپل سے کہا کہ سعودی ایئر بیس پر دو امریکیوں کو گولی مارنے والے سعودی آفیسر کے دو آئی فونز کو ان لاک کرے یعنی ان تک رسائی دے۔
اس کے علاوہ 14 جنوری کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایپل کے خلاف ٹوئٹ کی جس میں انھوں نے ایپل پر الزام لگایا کہ وہ ’قاتلوں اور مجرموں کے فونز ان لاک کرنے سے انکار کر رہا ہے‘۔
لیکن ایپل نے آخر کار اس سعودی اہلکار کا آئی کلاؤڈ بیک اپ امریکی ایجنسیوں کو دے دیا۔
ایپل کا کہنا تھا کہ ’ہم اس کردار کشی کو رد کرتے ہیں کہ ہم نے پینساکولا (ایئر بیس) کی تحقیقات میں خاطر خواہ مدد فراہم نہیں کی۔‘









