جب ’ایپل‘ کو سیب کہنے سے شہرت ملنے لگے

ورلڈکپ

،تصویر کا ذریعہAzhar Javed

،تصویر کا کیپشندل رو رہا ہے میرا، یہ میرا پاکستان ہے
    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی خبروں کی دنیا میں آگے بڑھنے کا مقابلہ لگا رہتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ ان گنت ٹی وی چینل صبح سے شام خبروں کے دوڑ میں رہتے ہیں۔ اس دوڑ میں سب سے اہم بات ہوتی ہے کہ کیسے رینکنگ زیادہ ہو اور ایسا کیا کیا جائے کہ صرف وہی ٹی وی چینل موضوع بحث رہے۔ اس کے لیے کئی بار کچھ ایسا بھی کیا جاتا ہے یا ہو جاتا ہے جس سے صحافی اور چینل خود ہی خبر بن جاتے ہیں۔

بات ایپل کے بزنس کی ہو تو اینکر پرسن کو سیب کی اقسام کی فکر ستانا شروع ہوجاتی ہے۔

مزید پڑھیے

حال ہی میں 7 نیوز چینل پر جب حالات حاضرہ کے ایک پروگرام کے دوران تجزیہ نگار ایپل کمپنی کے بزنس پر بات کرتا ہے تو اینکر پرسن بات کو سیب کی اقسام کی طرف موڑ دیتی ہیں۔ جس کے بعد یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

ملیے جیو ٹی وی کے امین حفیظ سے

لاہور میں جیو ٹی وی کے رپورٹر امین حفیظ خبروں کو اپنے خاص انداز میں پیش کرنے کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ ٹی وی پر ان کے ایسے دلچسپ پیکج بھی چلتے ہیں جن میں وہ کسی بکرے، گائے یا بھینس کا بھی انٹرویو کر رہے ہوتے ہیں۔ جہاں تنقید ہوئی وہیں ان کا انداز ان کی پہچان بن گیا اور پھر امین حفیظ کا خود اسی چینل نے انٹرویو کیا جس میں وہ کام کررہے ہیں۔

جیو ٹی وی کو ایک انٹرویو میں امین حفیظ نے بتایا کہ چینل انتظامیہ کی طرف سے ان کو بتایا گیا کہ ان کی رپورٹنگ کا انداز بہت منفرد اور جداگانہ ہے۔ ’اس کی شاید ایک وجہ یہ ہے کہ میں کسی بھی سٹوری کو چھوٹا نہیں سمجھتا۔‘ صادق اور امین کی قانونی بحث کے دوران بھی امین حفیظ اپنے صادق نامی کیمرہ مین کی وجہ سے بھی سوشل میڈیا پر زیر بحث رہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

قبر کوریج

کراچی سے ایکپریس ٹی وی سے وابستہ ایک رپورٹر عبدالستار ایدھی کا جنازہ دکھاتے ہوئے تیار کی گئی قبر میں یہ بتانے کے لیے کہ قبر کیسی ہے اس میں پہلے خود اتر کر لیٹ گئے۔ چینل انتظامیہ سے فہد حسین نے سوشل میڈیا پر اس کی مذمت کی اور یہ یقین دلایا کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

توبہ توبہ!

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں جب انڈین وزیر اعظم نریندر مودی ان کی نواسی کی شادی کی تقریب کے دوران لاہور میں واقع ان کے گھر آئے تو پورا میڈیا یہ خبر چلا رہا تھا۔ لاہور کے ایک چینل سٹی 42 پر رپورٹنگ کے دوران صحافی قیصر محمود کھوکھر نے لائیور کوریج کے دوران ہی اپنے کان پکڑتے ہوئے کہا کہ انڈین وزیراعظم بغیر ویزے کے پاکستان آ گئے ہیں توبہ توبہ۔ ان کا یہ انداز جہاں تنقید کی زد میں رہا تو وہیں ان کی چینل انتظامیہ نے انھیں اس ’تخلیقی صلاحیت‘ پر مبارکباد دی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

قیصر کھوکھر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنی توبہ توبہ والی رپورٹنگ سے بہت خوش ہیں۔ ان کو پاکستان کے علاوہ انڈیا میں بھی مقبولیت ملی اور متعدد انڈین چینلز نے ان کا انٹرویو کیا اور ان سے ایسی رپورٹنگ کی وجوہات پر بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں ایک محب وطن ہوں اور جب پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے تو پھر کیسے کوئی بغیر ویزے کے یہاں آسکتا ہے۔ ‘ایک سوال کے جواب میں قیصر کھوکھر نے بتایا کہ ان کے چینل کے مالک نے ایسی کوریج پر انھیں خصوصی شاباش بھی دی تھی۔‘

'دل رو رہا ہے میرا، یہ میرا پاکستان ہے!'

ایک کرکٹ فین مومن ثاقب نے حالیہ کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران پاکستان اور انڈیا کے میچ کے فوراً بعد ایک صحافی نے ان سے انٹرویو لینا چاہا تو انھوں نے اپنے منفرد اور مزاحیہ اندازِ بیان سے انڈیا اور پاکستان دونوں میں سوشل میڈیا صارفین کے دل جیت لیے۔ انٹرویو کی ویڈیو میں، جو کہ پاکستانی چینل دنیا نیوز پر نشر ہوئی، مومن جذباتی انداز میں کہتے نظر آتے ہیں کہ جس ملک میں روٹی پانی کا مسئلہ ہوتا ہے وہاں کے لوگوں کی کرکٹ کی طرح کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہوتی ہیں اور وہ خوشیاں بھی پاکستانی ٹیم نے ان سے چھین لی ہیں۔

انھوں نے ڈرامائی انداز میں پاکستان ٹیم کی لیک ہونے والی ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے طنز کیا کہ 'کل رات پتا چلا ہے کہ ٹیم برگر اور پیزے کھاتی رہی' لہٰذا انھیں کرکٹ چھوڑ کر 'دنگل' میں حصہ لینا چاہیے۔

ٹی وی چینل

،تصویر کا ذریعہMomin Saqib

،تصویر کا کیپشنمومن ثاقب اپنے خاص انداز سے میڈیا پر بات کرنے کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں

کچھ لوگوں کے خیال میں یہ انٹرویو پہلے سے طےشدہ یعنی 'سکرپٹڈ' تھا۔ تاہم مومن نے بتایا کہ انٹرویو کا کوئی سکرپٹ نہیں تھا اور انھوں نے جو بولا وہ پوری طرح فی البدیہہ تھا۔

ابھی سوشل میڈیا کے دور کی ایسی توجہ طلب صحافت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ لہٰذا یہ کہانی نامکمل ہی لکھی، پڑھی اور سمجھی جائے۔