BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 February, 2009, 00:46 GMT 05:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جماعت الدعوۃ لشکر کا دوسرا نام‘

حافظ سعید
حافظ سعید جماعت الدعوۃ کے سربراہ ہیں
سلامتی کونسل کی طرف سے القاعدہ اور طالبان پر پابندیوں کی کمیٹی نے کہا ہے کہ جماعت الدعوۃ کوئی الگ گروپ نہیں ہے جس کے خلاف سلامتی کونسل نے پابندی عائد کی ہے بلکہ یہ لشکر طیبہ کا ہی دوسرا نام ہے جو ممبئی میں حملوں کی ذمہ دار ہے۔

جمعرات کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں ’القاعدہ،طالبان سنکشن کمیٹی‘ کی مانیٹرنگ ٹیم کے رابطہ کار چارلس بیریث نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ’سلامتی کونسل کی کمیٹی نے جماعت الدعوۃ کے خلاف الگ سے کوئی پابندی نہیں لگائی بلکہ جماعت الدعوۃ دراصل پاکستانی تنظیم لشکر طیبہ کی ہی عرفیت ہے، جس نے پاکستان میں سکول اور ہسپتال کھول کر پاکستانی حکومت کے لیے اپنی اصل سرگرمیوں کے حوالے سے مسئلہ پیدا کیا ہوا ہے‘۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ جماعت الدعوۃ کو چندہ دینے والے لوگ دہشتگردی کی سرگرمیوں کی حمایت میں چندہ دیتے ہوں بلکہ ہو سکتا ہے کہ یہ چندہ رفاحی مقاصد کے لیے دیا جاتا ہو۔

ایک سوال کے جواب میں اس بات سے لاعلمی ظاہر کی کہ جماعت الدعوۃ سے تعلق رکھنے والے افراد نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل یا عالمی عدالت برائے انصاف کو پابندیوں پر نظر ثانی کے لیے کوئي خط لکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ کم از کم ایسا کوئي خط سلامتی کونسل کی القاعدہ اور طالبان پر پابندیوں والی کمیٹی کی نگران ٹیم کو موصول نہیں ہوا۔

News image
 جماعت الدعوۃ دراصل پاکستانی تنظیم لشکر طیبہ کی ہی عرفیت ہے، جس نے پاکستان میں سکول اور ہسپتال کھول کر پاکستانی حکومت کے لیے اپنی اصل سرگرمیوں کے حوالے سے مسئلہ پیدا کیا ہوا ہے‘۔
چارلس بیریث

سلامتی کونسل کے سینئر عملدار نے کہا کہ لشکر طیبہ ممبئي میں حلموں میں ملوث ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ دہشتگرد فہرست میں شامل پاکستانی تنظیم جماعت الدعوۃ کے رکن حاجی اشرف کے مردہ ہونے کی تصدیق نہیں کر سکتے جبکہ پاکستانی حکومت انہیں مردہ قرار دیتی ہے۔ چارلس بیریث نے کہا کہ پاکستانی حکومت سیاسی طور اپنی اس بات کو درست ثابت کرنا چاہتی ہے لیکن سلامتی کونسل کی پابندی کمیٹی دہشتگردی سے متعلق فہرست میں نام کسی ٹیلیفون بک میں سے دیکھ شامل نہیں کرتی بلکہ اس کا باقاعدہ ایک شفاف اور باریک تحقیقاتی طریقہ کارہے جس کے تحت اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی طرف سے مہیا کردہ ناموں اور شواہد کو سلامتی کونسل کے پندرہ رکن ممالک کی طرف سے جانچ پڑتال کے بعد ہی فہرست میں شامل یا خارج کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد