مظفرآباد: عسکری تنظیموں کا اجتماع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں بدھ کے روز ’یکجہتی جموں کشمیر‘ کے نام سے ایک کانفرنس ہوئی جس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں برسرپیکار کشمیری عسکری تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے رہنماؤں کے علاوہ پاکستان کی کالعدم عسکری تنظیموں نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ کالعدم تنظیموں جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ پر پابندی اٹھائے اور اس کے رہنماؤں اور اراکین کو رہا کیا جائے۔ ممبئی حملوں کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں برسرپیکار عسکری تنظیمیں مظفرآباد میں جمع ہوئی ہیں۔ اس کانفرنس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں برسرپیکار کوئی بھی تنظیم بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ممبئی حملوں میں ملوث نہیں۔‘ ساتھ ہی ان کا کہنا ہے یہ الزام غلط اور بے بنیاد ہے کہ لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ ممبئی حملوں میں ملوث ہیں۔‘ بھارت نے ممبئی حملوں کا الزام لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ پر لگایا تھا اور یہ بھی الزام لگایا تھا کہ پاکستان میں بعض ریاستی عناصر بھی اس حملے میں ملوث ہیں۔ لیکن پاکستان اور لشکر طیبہ اس کی تردید کرتے ہیں۔ متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے جماعت الدعوۃ پر پابندی لگانے اور جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ کے رہنماؤں کو حراست میں لینے اور نظر بند کرنے پر حکومت پاکستان پر سخت نکتہ چینی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہندوستان نے ان کو ثبوت فراہم نہیں کیے بلکہ معلومات فراہم کی ہیں اور یہ کہ ان معلومات کی بنیاد پر کسی کے خلاف قانونی کاروائی نہیں کی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس کے باوجود حکومت پاکستان کی طرف سے جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی اور جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ کے رہنماؤں کو حراست میں لینا یا نظر بند کرنا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یوں معلوم ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان نے یہ کارروائی عالمی طاقتوں کے دباؤ میں آکر کی ہے اور یہ کہ یہ تاثر بھی ابھرا ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے جماعت الدعوۃ پر پابندی عائد کرنے میں پاکستان کی سیاسی قیادت کی منطوری حاصل تھی۔‘ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ جماعت الدعوۃ پر پابندی اٹھائی جائے اور اور جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ کے نظر بند اور زیر حراست رہنماؤں اور اراکین کو رہا کیا جائے۔ ممبئی حملوں کے بعد حکومت پاکستان نے جن افراد کو حراست میں لیا ہے یا نظر بند کیا ہے ان میں جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید اور لشکر طیبہ کے کمانڈر ذکی الرحمان لکھوی شامل ہیں۔ پاکستان کے مشیر داخلہ رحمان ملک گزشتہ ماہ یہ کہہ چکے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک کالعدم تنظیم کے 124 ارکان کو خدشہ نقص امن کے تحت حراست میں لیا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان میں سے کسی کے خلاف کوئی ثبوت ملا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام نے اس کانفرنس کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی اس کے باجود کہ اس میں بعض کالعدم تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اس کانفرنس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں برسرپیکار کوئی ایک درجن عسکری تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے رہنماؤں کے علاوہ پاکستان کی کلعدم تنظیموں جیش محمد، حرکت المجاہدین اور جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں اور نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے پیپلز پارٹی کی قیادت میں پاکستان کی مخلوط حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس پر یہ الزام عائد کیا کہ اس نے مسئلہ کشمیر پر پرویز مشرف کی حکومت کی طرح پسپائی اختیار کر رکھی ہے۔ عسکری تنظیموں نے یہ اعلان کیا کہ ’پاکستان کی طرف سے پابندیوں کے باوجود بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جہاد نہیں رکے گا اور یہ کہ کشمیر کی بھارت سے آزادی تک جہاد جاری رہے گا۔‘ | اسی بارے میں ’الدعوۃ پر پابندیاں ختم کی جائیں‘26 January, 2009 | پاکستان ’حملے پاکستان میں پلان نہیں ہوئے‘30 January, 2009 | پاکستان ’لشکر کے پانچ کیمپ بند کیے ہیں‘17 January, 2009 | پاکستان عوامی رد عمل کو روکنے کی کوششیں21 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||