BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 February, 2009, 10:48 GMT 15:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوجی اڈہ بندکرنے کا فیصلہ حتمی‘
امریکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ فوجی اڈے کے مستقبل کے لیے بات چیت ابھی بھی جاری ہے

وسطی ایشیائی ریاست کرغزستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ اپنی سرزمین پر واقع امریکی فوجی اڈے کو بند کرنے کا فیصلہ حتمی ہے۔

کرغزستان کے صدر قربان بیگ نے امریکہ اڈے کو بند کیے جانے کا اعلان ماسکو میں اپنے دورے پر کیا۔ روس نے کرغزستان کو دو ارب ڈالر کا قرضہ اور مالی امدا مہیا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ کرغزستان کے ممبر پارلیمان اس ماہ اس بارے میں ووٹ ڈالیں گے۔

کرغزستان کی حکومت کے ترجمان نے کہا: ’اس بارے میں فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ کرغزستان کی وزارت خارجہ اور امریکی سفارتخانے کے درمیان مختلف تجاویز پر بات ہو رہی ہے لیکن فوجی اڈے کو برقرار رکھنے پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔‘

واضح رہے کہ فوجی اڈے کے معاہدے کے مطابق کرغزستان کو اس اڈے کو بند کرنے کے لیے امریکہ کو چھ ماہ کا نوٹس دینا ضروری ہے۔

امریکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ فوجی اڈے کے مستقبل کے لیے بات چیت ابھی بھی جاری ہے۔

دوسری طرف تاجکستان نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کو غیر فوجی رسد کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔

کرغزستان کے علاقے مناس میں واقع امریکی فوجی اڈہ پورے وسطی ایشیاء میں امریکہ کا واحد اڈہ ہے۔ یہاں سے افغانستان میں موجود نیٹو اور امریکی افواج کو اس علاقے سے رسد پہنچایا جاتا ہے۔

فوجی اڈے کا بند ہونا روس کے لیے ایک اہم سفارتی فتح ہے: تجزیہ کار
فوجی اڈہ بند کرنے کا فیصلہ اس وقت ہوا ہے جب امریکی صدر باراک اوباما افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کا کہہ رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوجی اڈے کا بند ہونا روس کے لیے ایک اہم سفارتی فتح ہے کیونکہ روس وسطی ایشیا کے ممالک میں اپنا اثر و رسوخ دوبارہ بڑھانا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں کرغزستان کے صدر قربان بیگ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت نے اپنی سرزمین پر واقع امریکی فوجی اڈے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

افغانستان میں موجود نیٹو اور امریکی فوجوں کے لیے خوراک اور دوسری ضروری اشیاء کا بڑا حصہ جن میں فوجی سازو سامان بھی شامل ہے پاکستان کے راستے افغانستان پہنچایا جاتا ہے۔

کراچی کی بندرگاہ سے یہ ساز و سامان ٹرکوں پر لاد کر سڑک کے ذریعے بلوچستان کی سرحد چمن اور صوبہ سرحد میں طورخم کے راستے افغانستان لے جایا جاتا ہے۔

نیٹو اور امریکی فوج کے لیے سازو سامان لے جانے والے ٹرکوں کے قافلے کو پاکستان میں متحرک طالبان کئی بار نشانہ بنا چکے ہیں۔ گزشتہ روز طالبان نے ایک کارروائی میں طورخم پشاور شاہراہ پر ایک پل کو تباہ کر دیا تھا جس کی وجہ سے جلال آباد اور پشاور کے درمیان تمام آمد و رفت معطل ہو گئی تھی۔

پاکستان میں اس پل کے تباہ ہوجانے کے بعد ٹریفک کی آمد و رفت کو بحال کرنے کے لیے فوری طور پر ایک متبادل راستہ بنا دیا۔

اسی بارے میں
نیٹو لاجسٹک سپورٹ بحال
02 January, 2009 | پاکستان
نیٹو لاجسٹک سپورٹ بحال
14 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد