BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 January, 2009, 08:02 GMT 13:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین: اقتصادی ترقی کی شرح سست
طلب میں کمی کی وجہ سے بہت سے ملکوں کو تشویش ہے
عالمی سطح پر پائے جانے والے معاشی بحران کے اثرات مختلف ملکوں اور بین الاقوامی کمپنیوں کے اقتصادی اعدادو شمار سامنے آنے کے ساتھ نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

دنیا کی تیسری بڑی اقتصادی طاقت چین کی معیشت میں سن دو ہزار آٹھ میں صرف نو فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا جو گزشتہ سات سالوں کے مقابلے میں چار فیصد کم ہے۔

بیجنگ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق معاشی ترقی کی شرح میں چار فیصد کی کمی سے چین کی حکومت کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا اور اسے طلب میں اضافہ کرنے کے لیے نئے طریقوں کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔

اسی طرح جنوبی کوریا کے معاشی بحران کا شکار ہے جہاں پر سن دو ہزار آٹھ کی آخری سہ ماہی میں معاشی ترقی کی شرح تین اعشاریہ چار فیصد کے حساب سے کم ہوئی۔

دوسری طرف جاپان کی الیکٹرانک مصوناعات بنانے والی کمپنی سونی نے گزشتہ چودہ برس میں پہلی مرتبہ اپنے کھاتوں میں خصارہ ظاہر کیا ہے۔

سونی کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کو اس سال تین ارب ڈالر خصارے کا خدشہ ہے۔

دنیا بھر میں ٹیلی ویژن، کیمرے، کمپیوٹر گیمز اور دیگر الیکٹرانک مصنوعات کی وجہ سے مشہور سونی کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کو نقصان جاپانی کرنسی ’ین‘ کی قدر میں تیزی سے اضافے اور مصنوعات کی فروخت میں عالمی سطح پر کمی سے ہوا ہے۔

گزشتہ ماہ سونی کمپنی نے مختلف ملکوں میں اپنے چھ کارخانوں اور سولہ ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے اپنی مزید سرمایہ کاری میں بھی کمی کر دی تھی۔

اسی بارے میں
اوبامہ کی سیٹ برائے فروخت
09 December, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد