BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 December, 2008, 15:15 GMT 20:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ:لاکھوں نوکریاں کو خطرہ
بیروزگار نوجوان(فائل فوٹو)
برطانیہ: اکتوبر میں بیروزگاری کی شرح چھ فیصد ہو گئی
برطانیہ میں ایک اندازے کے مطابق سن دو ہزار نو میں کم سے کم چھ لاکھ نوکریاں ختم ہونے کا امکان ہے۔

پیشہ ور لوگوں کی ایک تنظیم ’دی چارٹرڈ انسٹیٹیوٹ آف پرسونیل اینڈ ڈویلیپمنٹ‘ نے کہا ہے کہ جن کی نوکریاں بچ جائیں گی ان کی تنخواہوں میں اضافے پر پابندی لگ جائے گی‘۔

تنظیم نے کہا کہ بیروزگاری تیس لاکھ کا ہدف نہیں چھوئے گی لیکن نئے سال کے آغاز سے ایسٹر تک کا عرصہ انیس سو اکیانوے کے بعد سے نوکریوں کے خاتمے لیے سب سے برا ہے۔

برطانیہ میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے مہینے میں اٹھارہ لاکھ سے زیادہ لوگ بیروزگار تھے۔

آئندہ سال کے لیے اس مایوس کن پیشینگوئی سے ایک ہی روز قبل بچوں کے لیے اشیا فراہم کرنے والی فرم ’ایڈمز‘ بھی ان فرموں میں شامل ہو گئی جنہوں نے دیوالیہ ہونے کی درخواست دی ہے۔

ماہر اقتصادیات جان فِلپوٹ نے کہا کہ نوکریاں ختم ہونے کا سلسلہ سن دو ہزار دس میں بھی جاری رہے گا اور بیروزگاروں کی کل تعداد دس لاکھ ہو سکتی ہے۔

سی آئی پی ڈی نے دو ہزار چھ سو افراد سے بات چیت کی جن میں سے پچیس فیصد سے زیادہ نے کہا کہ آئندہ سال انہیں تنخواہ بڑھنے کی امید نہیں جبکہ کئی لوگوں کا خیال تھا کہ ان کی تنخواہ کم بھی ہو سکتی ہے۔

تنظیم نے کہا کہ اس مایوس کن ماحول میں مالکان کو اپنے عملے کی حوصلہ افزائی کے لیے نئے طریقے تلاش کرنے ہوں گے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد