برطانیہ:لاکھوں نوکریاں کو خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں ایک اندازے کے مطابق سن دو ہزار نو میں کم سے کم چھ لاکھ نوکریاں ختم ہونے کا امکان ہے۔ پیشہ ور لوگوں کی ایک تنظیم ’دی چارٹرڈ انسٹیٹیوٹ آف پرسونیل اینڈ ڈویلیپمنٹ‘ نے کہا ہے کہ جن کی نوکریاں بچ جائیں گی ان کی تنخواہوں میں اضافے پر پابندی لگ جائے گی‘۔ تنظیم نے کہا کہ بیروزگاری تیس لاکھ کا ہدف نہیں چھوئے گی لیکن نئے سال کے آغاز سے ایسٹر تک کا عرصہ انیس سو اکیانوے کے بعد سے نوکریوں کے خاتمے لیے سب سے برا ہے۔ برطانیہ میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے مہینے میں اٹھارہ لاکھ سے زیادہ لوگ بیروزگار تھے۔ آئندہ سال کے لیے اس مایوس کن پیشینگوئی سے ایک ہی روز قبل بچوں کے لیے اشیا فراہم کرنے والی فرم ’ایڈمز‘ بھی ان فرموں میں شامل ہو گئی جنہوں نے دیوالیہ ہونے کی درخواست دی ہے۔ ماہر اقتصادیات جان فِلپوٹ نے کہا کہ نوکریاں ختم ہونے کا سلسلہ سن دو ہزار دس میں بھی جاری رہے گا اور بیروزگاروں کی کل تعداد دس لاکھ ہو سکتی ہے۔ سی آئی پی ڈی نے دو ہزار چھ سو افراد سے بات چیت کی جن میں سے پچیس فیصد سے زیادہ نے کہا کہ آئندہ سال انہیں تنخواہ بڑھنے کی امید نہیں جبکہ کئی لوگوں کا خیال تھا کہ ان کی تنخواہ کم بھی ہو سکتی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ اس مایوس کن ماحول میں مالکان کو اپنے عملے کی حوصلہ افزائی کے لیے نئے طریقے تلاش کرنے ہوں گے۔ | اسی بارے میں امریکہ میں بیروزگاری بڑھ گئی06 December, 2008 | آس پاس عالمی اقتصادی بحران پر اہم اجلاس15 November, 2008 | آس پاس کساد بازاری کا خوف اور اجلاس14 November, 2008 | آس پاس کار صنعت، امدادی پیکیج کی نامنظوری12 December, 2008 | آس پاس بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||