BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 January, 2009, 23:21 GMT 04:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دانشمندانہ سفارت کاری کا عزم
ہلیری کلنٹن
’دانشمندانہ سفارتکاری ہی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ ہو گی‘
سینیٹر ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ بطور وزیرِ خارجہ وہ امریکہ کی فوجی اور سفارتی طاقت کا دانشمندانہ استعمال کریں گی۔

یہ بات انہوں نے امریکی سینیٹ کمیٹی کے اس اجلاس میں کہی جو کہ ان کی بطورِ وزیرِ خارجہ تقرری کی منظوری دینے کے لیے بلایا گیا ہے۔

کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ امریکہ زیادہ تر مسائل خود حل نہیں کر سکتا اور دنیا انہیں امریکہ کے بغیر حل نہیں کر سکتی‘۔

سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ہلیری کا کہنا تھا کہ بش انتظامیہ نے حد سے زیادہ فوجی طاقت پر انحصار کیا جبکہ اوباما انتظامیہ سفارتکاری کی اہمیت اجاگر کرنا چاہتی ہے۔

 نئی حکومت پاکستان اور افغانستان میں اسلامی شدت پسندی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے وسیع تر نقطۂ نظر اپنائے گی جبکہ مشرقِ وسطٰی میں ایسی خارجہ پالیسی لائی جائے گی جس میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں، دونوں کی خواہشات اور ضروریات کا احاطہ کیا جائےگا۔
ہلیری کلنٹن

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو دانشمندی سے طاقت اور سفارت کا استعمال کرنا چاہیے اور دانشمندانہ سفارتکاری ہی ان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ ہو گی۔

ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ اوباما حکومت پاکستان اور افغانستان میں اسلامی شدت پسندی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے وسیع تر نقطۂ نظر اپنائے گی جبکہ مشرقِ وسطٰی میں ایسی خارجہ پالیسی لائی جائے گی جس میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں، دونوں کی خواہشات اور ضروریات کا احاطہ کیا جائےگا۔

انہوں نے کہا کہ نئی حکومت چاہے گی کہ ایران اور شام اپنا خطرناک رویہ ترک کر دیں اور خطے میں تعمیری کردار ادا کریں۔شمالی کوریا کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ہلیری کلنٹن نے کہا کہ وہ اور باراک اوباما شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے پر بات چیت کے لیے موجودہ چھ ملکی نظام کے حامی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ’ ہمارا مقصد شمالی کوریا کے جوہری پروگرامبں کا خاتمہ ہے اور یہ چھ ملکی نظام دو طرفہ بات چیت کے مواقع فراہم کرتا ہے‘۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق امریکی سینیٹ کمیٹی ہلیری کی بطور وزیرِ خارجہ نامزدگی پر جمعرات کو ووٹنگ کرے گی تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ ہلیری کی نامزدگی کی منظوری میں کسی قسم کی رکاوٹ سامنے نہیں آئے گی۔

اسی بارے میں
عراق پر غلطیاں ہوئیں: بش
12 January, 2009 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد