ہیلری کلنٹن، نئی وزیر خارجہ؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
واشنگٹن میں ہیلری کلنٹن کا وزیر خارجہ بننے کی افواہیں زور پکڑتی رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس تعیناتی کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے فائدے اور نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اوباما اور ان کی ٹیم کو اس تعیناتی پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ وہ تمام نکات کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس تعیناتی کی پیشکش اور اعلان کریں۔ اس امر میں مزید کہا جا رہا ہے کہ اگرچہ یہ افواہیں ڈیموکریٹک جماعت کے ذرائع کے حوالے سے گردش کر رہی ہیں لیکن اگر اس میں سچائی نہ ہوتی تو اوباما اس کی تردید ضرور کرتے۔ ہیلری کے دوست جیمز کارول نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا ’کسی نے یہ کہنے کے لیے ٹیلیفون نہیں کیا کہ اس معاملے کو مزید ہوا نہ دو۔‘ ہیلری کے علاوہ پچھلے چند ماہ میں اس عہدے کے لیے سنہ دو ہزار چار میں صدارتی امیدوار سینیٹر جان کیری کا نام بھی آ رہا ہے۔ ان کے علاوہ نیو میکسکو کے گورنر بل رچرڈسن کا نام بھی گردش کر رہا ہے۔ لیکن آخر اوباما اپنی سابق حریف کو اس عہدے کے لیے کیوں نامزد کریں گے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ واشنگٹن میں ریپبلکن جماعت سمیت زیادہ تر لوگ اس تعیناتی کے حق میں ہیں۔ سابق وزیر خارجہ اور نوبل انعام یافتہ ہینری کسنجر کا کہنا ہے کہ یہ ’شاندار‘ تعیناتی ہو گی۔
ہیلری کی تعیناتی ڈیموکریٹ جماعت میں صدارتی دوز میں پیدا ہوئی تفریق کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اور اوباما ایک پر اعتماد رہنما کی حیثیت سے سامنے آئیں گے جو اپنے حریف کے ساتھ کام کرنے اور اپنے ارد گرد مستحکم لوگ رکھنے سے گھبراتے نہیں ہیں۔ امریکی میڈیا میں خبریں گردش کر رہی ہیں کہ اوباما اپنے حریفوں کو اپنی ٹیم میں شامل کر کے ٹیم میں بامعنی بحث رکھنا چاہتے ہیں جیسے کہ ابراہم لنکن نے کیا تھا۔ اوباما نے اس طرف سی بی ایس کو ایک انٹرویو میں اس طرف اشارہ کیا تھا۔ اگرچہ معاشی بحران اوباما کے لیے اہمیت کا حامل ہے لیکن عراق اور افغانستان میں امریکی مداخلت کی وجہ سے ساری دنیا کی نظریں امریکہ پر ہیں اور اسی لیے اوباما خارجہ پالیسی کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس امر میں سابق خاتون اول کو عالمی دنیا وزیر خارجہ کے طور پر قبول کرنے میں دیر نہیں کرے گی۔ ہیلری کو تجربہ، علم اور واقفیت بھی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||