BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 December, 2008, 04:06 GMT 09:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الینوئے گورنر کا امیدوار مسترد
الینوئے کے گورنر
بحیثیت گورنر مسٹر بلاگووچ کو یہ مکمل اختیار حاصل ہے کہ سینیٹ کی اس سیٹ پر کسی کو نامزد کریں
نو منتخب امریکی صدر باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ ڈیموکریٹک سینیٹروں کو ریاست الینوئے کے گورنر راڈ بلاگووچ طرف سے ان کی نشست پر انتخاب کے لیے لائے جانے والے امیدوار کو مسترد کر دینا چاہیے۔

بلاگووچ کو گزشتہ روز نو منتخب امریکہ صدر باراک اوباما کی سینیٹ کی اس نشست کو ’فروخت‘ کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بحیثیت گورنر مسٹر بلاگووچ کو یہ مکمل اختیار حاصل ہے کہ سینیٹ کی اس سیٹ پر کسی کو نامزد کریں۔ مگر ان پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کے پیشِ نظر اپنا یہ حق استعمال نہ کریں۔

تاہم گورنر بلاگووچ نے دباؤ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ریاست کے سابق اٹارنی جنرل رولینڈ بیورِس کو سینیٹ کے لیے نامزد کر دیا۔

ڈیموکریٹک سینیٹروں نے پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے کہ گورنر بلاگووچ کی طرف سے نامزد کیے جانے والے کسی بھی امیدوار کو ویٹو کریں گے۔

نومنتخب صدر باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ وہ ڈیمرکریٹک سینیٹروں کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ گورنر بلاگووچ کی طرف سے نامزد کیے جانے والے کسی بھی امیدوار کو قبول نہیں کر سکتے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مسٹر بلاگووچ سے مطالبہ کیا کہ وہ گورنر کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔

رولینڈ بیورس
گورنر بلاگووچ نے ریاست کے سابق اٹارنی جنرل رولینڈ بیورِس کو سینیٹ کے لیے نامزد کیا تھا
اکہتر سالہ مسٹر بیورس پہلے افریقی نژاد امریکی تھے جو کسی ریاستی انتخابات کی بنیاد پر کسی بڑے سرکاری عہدے پر پہنچے تھے۔ سن انیس سو اٹھہتر میں کمپٹرولر منتخب ہونے کے بعد وہ سن انیس سو اکانوے سے سن انیس سو پچانوے تک ریاست الینوائے کے اٹارنی جنرل رہے۔ اس سے پہلے وہ سن انیس سو چوراسی میں سنیٹیر اور چورانوے میں ریاست کا گورنر بننے کی ناکام کوشش کر چکے ہیں۔

مسٹر باراک اوبامہ کا کہنا تھا کہ مسٹر رولینڈ بیورس ایک اچھے انسان اور ایک عمدہ سرکاری ملازم ہیں، لیکن ڈیموکریٹک سینیٹر کئی ہفتے پہلے ہی اس بات کو واضح کر چکے ہیں کہ گورنر بلاگووچ کی طرف سے نامزد کردہ کسی امیدوار کو قبول نہیں کریں گے اور میں ان کے فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں۔

اس سے پہلے گورنر راڈ بلاگووچ نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ ’میں اپنی نشست نہیں چھوڑوں گا۔ میں لڑوں گا، لڑوں گا، آخری سانس تک لڑوں گا۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ تمام الزامات کا جواب عدالت میں دینے کے لیے بے تاب ہیں۔ مجھ سے انتظار نہیں ہو رہا کہ میں آپ کو بتاؤں کہ میں کتنا بے گناہ ہوں۔‘

گورنر کا کہنا تھا کہ کچھ طاقتور حلقے ان کے خلاف اکٹھے ہوگئے ہیں اور فی الحال وہ تنہا محسوس کر رہے ہیں۔ ’لیکن میرے ساتھ بھی شاید سب سے زیادہ طاقتور حلیف ہے اور اس حلیف کو سچ کہتے ہیں۔‘

امریکی مرکزی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے مطابق اس نے ٹیلی فون پر مسٹر باگووچ کی بات چیت ریکارڈ کی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ذاتی فائدے کے لیے باراک اوباما کی سیٹ بیچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ایف بی آئی کئی سال سے مسٹر بلاگووچ کے معاملات کی تفتیش کررہی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ نوکریاں یا ٹھیکے دینے کے عوض انتخابی مہم کے لیے چندے کا مطالبہ کرتے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد