الینوئے گورنر کا امیدوار مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نو منتخب امریکی صدر باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ ڈیموکریٹک سینیٹروں کو ریاست الینوئے کے گورنر راڈ بلاگووچ طرف سے ان کی نشست پر انتخاب کے لیے لائے جانے والے امیدوار کو مسترد کر دینا چاہیے۔ بلاگووچ کو گزشتہ روز نو منتخب امریکہ صدر باراک اوباما کی سینیٹ کی اس نشست کو ’فروخت‘ کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ بحیثیت گورنر مسٹر بلاگووچ کو یہ مکمل اختیار حاصل ہے کہ سینیٹ کی اس سیٹ پر کسی کو نامزد کریں۔ مگر ان پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کے پیشِ نظر اپنا یہ حق استعمال نہ کریں۔ تاہم گورنر بلاگووچ نے دباؤ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ریاست کے سابق اٹارنی جنرل رولینڈ بیورِس کو سینیٹ کے لیے نامزد کر دیا۔ ڈیموکریٹک سینیٹروں نے پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے کہ گورنر بلاگووچ کی طرف سے نامزد کیے جانے والے کسی بھی امیدوار کو ویٹو کریں گے۔ نومنتخب صدر باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ وہ ڈیمرکریٹک سینیٹروں کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ گورنر بلاگووچ کی طرف سے نامزد کیے جانے والے کسی بھی امیدوار کو قبول نہیں کر سکتے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مسٹر بلاگووچ سے مطالبہ کیا کہ وہ گورنر کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔
مسٹر باراک اوبامہ کا کہنا تھا کہ مسٹر رولینڈ بیورس ایک اچھے انسان اور ایک عمدہ سرکاری ملازم ہیں، لیکن ڈیموکریٹک سینیٹر کئی ہفتے پہلے ہی اس بات کو واضح کر چکے ہیں کہ گورنر بلاگووچ کی طرف سے نامزد کردہ کسی امیدوار کو قبول نہیں کریں گے اور میں ان کے فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں۔ اس سے پہلے گورنر راڈ بلاگووچ نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ ’میں اپنی نشست نہیں چھوڑوں گا۔ میں لڑوں گا، لڑوں گا، آخری سانس تک لڑوں گا۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ تمام الزامات کا جواب عدالت میں دینے کے لیے بے تاب ہیں۔ مجھ سے انتظار نہیں ہو رہا کہ میں آپ کو بتاؤں کہ میں کتنا بے گناہ ہوں۔‘ گورنر کا کہنا تھا کہ کچھ طاقتور حلقے ان کے خلاف اکٹھے ہوگئے ہیں اور فی الحال وہ تنہا محسوس کر رہے ہیں۔ ’لیکن میرے ساتھ بھی شاید سب سے زیادہ طاقتور حلیف ہے اور اس حلیف کو سچ کہتے ہیں۔‘ امریکی مرکزی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے مطابق اس نے ٹیلی فون پر مسٹر باگووچ کی بات چیت ریکارڈ کی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ذاتی فائدے کے لیے باراک اوباما کی سیٹ بیچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایف بی آئی کئی سال سے مسٹر بلاگووچ کے معاملات کی تفتیش کررہی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ نوکریاں یا ٹھیکے دینے کے عوض انتخابی مہم کے لیے چندے کا مطالبہ کرتے تھے۔ | اسی بارے میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی04 December, 2008 | آس پاس آٹھ سو ارب ڈالر کا نیا پیکج 26 November, 2008 | آس پاس اوباما کی معاشی ٹیم کا اعلان25 November, 2008 | آس پاس سٹی گروپ کے لیے پیکج کا اعلان24 November, 2008 | آس پاس امریکی بازار میں کچھ بہتری22 November, 2008 | آس پاس امریکی کار صنعت، امداد کا مطالبہ19 November, 2008 | آس پاس عالمی ترقی کی بحالی پر اہم معاہدہ16 November, 2008 | آس پاس ’معیشتیں تحفظ کےرجحان سےبچیں‘15 November, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||