اوباما کی معاشی ٹیم کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں نو منتخب صدر باراک اوباما نے اپنے وزیر خزانہ کا انتخاب کر لیا ہے جو امریکی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے اُن کے منصوبہ پر عملدرآمد کروائیں گے۔ باراک اوباما نے اس بحران دور میں وزارت خزانہ کا قلمدان ٹموتھی گائٹنر کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ نیویارک میں فیڈرل ریزور کے صدر ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی قومی اقتصادی کونسل کے سربراہ کے طور پر لارنس سمرز کو نامزد کیا گیا جو کہ ماضی میں امریکہ کے وزیر خزانہ یا ٹریژی سیکریٹری رہ چکے ہیں۔ اوباما کے اقتصادی مشیروں کی کونسل کی سربراہی کے لیے کرسٹینا رومر کو مقرر کیا جا رہا ہے۔ شکاگومیں ایک پریس کانفرنس میں ان ناموں کا اعلان کرتے ہوئے باراک اوباما نے کہا کہ انہوں نے ایسے لوگوں کا انتخاب کیا ہے جو کے کھلے ذہن کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گو امریکہ کو ایک بحران کا سامنا ہے لیکن اگر فوری اور جرات مندانہ اقدام اٹھائے جائیں تو ان سے فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ایک ایسے پیکج کی ضرورت ہے جو معیشت کو مستحکم کر سکے۔ باراک اوباما نے کہا کہ آنے والے مہینوں میں وہ ان لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام آج سے ہی شروع کر دیا جائے گا کیونکہ ملک ایک لمحہ بھی ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت کے لیے ترجیح بنیادوں پر پچیس لاکھ روز گار کے نئے مواقعے پیدا کرنا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پورے پیکج کا حجم سات سو ارب ڈالر ہو گا۔ ملک کو درپیش مالی بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بحران تاریخی نوعیت کا ہے۔ | اسی بارے میں ’اخلاقی وقار بحال کروں گا‘17 November, 2008 | آس پاس اوباما: پچیس لاکھ نئی نوکریاں22 November, 2008 | آس پاس اوباما ای میل کرنا بند کرسکتے ہیں18 November, 2008 | آس پاس ہیلری کو وزیر خارجہ بنانے کوتیار21 November, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||