عراق، ہلاکتوں میں دو تہائی کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق دو ہزار آٹھ میں عراق میں شہری ہلاکتوں میں دو تہائی کی آئی ہے۔ عراق کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال میں پانچ ہزار سات سو چودہ افراد ہلاک ہوئے جب کہ دو ہزار سات میں سولہ ہزار سے زائد شہری ہلاک ہوئے تھے۔ غیر سرکاری تنظیم عراق باڈی کاؤنٹ اس بات سے متفق ہے کہ شہری ہلاکتوں میں دو تہائی کمی واقع ہوئی ہے لیکن اس تنظیم کے مطابق شہری ہلاکتوں کی تعداد آٹھ سے نو ہزار کے درمیان ہے۔ عراق باڈی کاؤنٹ کا کہنا ہے کہ رواں سال میں نو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں شہری اور پولیس حکام شامل ہیں۔ جبکہ دو ہزار سات میں پچیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ عراق باڈی کاؤنٹ کے مطابق اس سال پچیس افراد روزانہ کے حساب سے ہلاکتیں ہو رہی تھیں جبکہ پچھلے سال روزانہ کی شرح 67 ہلاکتیں تھی۔ دوسری طرف امریکی فوجی ہلاکتوں میں بھی کمی آئی ہے۔ ایک غیر سرکاری ویب سائٹ کے مطابق سنہ دو ہزار سات میں نو سو امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ دو ہزار آٹھ میں تین سو فوجی۔ بی بی سی کی نامہ نگار کیرولائن ویئٹ کے مطابق بغداد میں حالات میں زیادہ بہتری آئی ہے۔ عراقی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بغداد میں تیئس سو شہری ہلاک ہوئے۔ بغداد میں بہتر صروتحال کے حوالے سے مقامی انتظامیہ سکیورٹی دیوار گرانے کا سوچ رہی ہے جو کہ بھدی تو ہے لیکن نہایت مفید ہے۔ | اسی بارے میں عراق:غیرملکی فوجیوں کو اجازت24 December, 2008 | آس پاس غیر امریکی فوج کے لیے ووٹنگ ملتوی23 December, 2008 | آس پاس غیرامریکی افواج، مجوزہ قانون مسترد20 December, 2008 | آس پاس جوتے اٹھا کر مظاہرہ کرنے کا اعلان16 December, 2008 | آس پاس بغداد، صدر بش پر جوتے پھینکے گئے14 December, 2008 | آس پاس عراق: بم حملوں میں بتیس ہلاک02 December, 2008 | آس پاس صدر بش کا سب سے بڑا پچھتاوا02 December, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||