بغداد، صدر بش پر جوتے پھینکے گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی دارالحکومت بغداد میں اتوار کو وزیراعظم نوری المالکی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر جارج بش پر دو جوتے پھینکے گئے۔ پریس کانفرنس کے دوران ایک عراقی صحافی نے اپنے جوتے صدر بش پر پھینکے اور انہیں ’کتا‘ کہا۔ اس کے بعد سکیورٹی گارڈز اس صحافی کو قبضے میں لیکر پریس کانفرنس سے باہر لےگئے۔ اب صدر بش عراق سے افغانستان گئے ہیں جہاں وہ صدر حامد کرزئی سے مذاکرات کریں گے۔ صدر بش پر جوتے پھینکنے کا واقعہ پریس کانفرنس کے دوران پیش آیا جب عراقی ٹی وی کے صحافی نے صدر بش پر اپنا جوتا پھینکتے ہوئےکہا: ’کتے، عراقی عوام کی جانب سے الوداع۔‘ تاہم جوتا صدر بش کو نہیں لگا۔
عرب ثقافت میں کسی کو جوتا دکھانا حقارت کا اظہار سمجھا جاتا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر بش کو جوتوں کا نشانہ بنانے کا واقعہ علامتی ہے۔ کچھ سال قبل جب بغداد میں سابق عراقی صدر صدام حسین کا مجسمہ گرایا گیا تھا تو عراقی لوگوں نے اس مجسمے پر بھی جوتے پھینکے تھے اور اسے جوتوں سے پیٹا تھا۔ پہلا جوتا پھینکنے کے بعد صحافی المنتظر زیدی نے دوسرا جوتا بھی صدر بش پر پھینکا اور کہا ’یہ عراقی بیواؤں، یتیموں اور عراق کے تمام ہلاک شدگان کی طرف سے ہے۔‘ تاہم صدر بش نے خود کو دوسرا جوتا لگنے سے بھی بچا لیا۔ صدر بش نے بعد میں مذاقاً کہا: ’میں اتنا بتا سکتا ہوں کہ جوتے کا سائز دس تھا۔‘ مصر کے شہر قاہرہ میں کام کرنے والے البغدادیہ ٹی وی کے بیورو چیف نے بعد میں خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ انہیں بالکل سمجھ نہیں آئی کہ المنتظر نے صدر بش کو جوتا کیوں مارنا چاہا اگر اس طرح کی خبریں ہیں کہ المنتظر کو ایک زمانے میں عراقی ملشیا نے اغوا کیا تھا اور ان سے مار پیٹ کی تھی۔ اس سے قبل امریکی صدر جارج بش الودعی دورے پر اچانک عراق پہنچے اور عراقی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ ان کے اس دورے سے ایک ہی روز قبل امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس یہ کہہ چکے ہیں کہ عراق میں امریکی افواج کی موجودگی آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ عراقی پہنچتے ہی امریکی صدر کے دورے کا پہلا پڑاؤ بغداد کے گرین زون میں واقع عراقی صدارتی محل تھا جہاں انہوں نے صدر جلال طالبانی سے ملاقات کی۔ صدر طالبانی سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ ’کام آسان نہیں تھا لیکن امریکی سکیورٹی، عراقی امیدوں اور عالمی امن کے لیے ناگزیر تھا۔‘ عراقی صدر نے اس موقع پر صدر بش کو عراقی عوام کا ایک ایسا عظیم دوست قرار دیا جس نے ملک کو آزاد کرانے میں ان کی مدد کی۔ صدر بش عراقی وزیراعظم نوری المالکی سے بھی ملاقات کی اور اس ملاقات کے دوران عراق میں امریکی فوجوں کے مستقبل کے بارے میں ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے۔
امریکی ذرائع ابلاغ نے اس دوران جنگ کے بعد عراق کے تعمیرِ نو کے بارے میں جو رپورٹیں شائع کی ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ بیورکریٹک رکاوٹوں اور عراقی معاشرے کے بنیادی عناصر کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے تعمیرِ نو کا کام مفلوج ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے مسودے کی شکل میں ایک رپورٹ ذرائع ابلاغ کے حلقوں میں گھوم رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اب تک تعمیرِ نو کے کاموں پر ایک سو ارب ڈالر یا سڑسٹھ ارب پاؤنڈ خرچ کیے جا چکے ہیں لیکن اس سے صرف اس نقصان کا کچھ ازالہ ہو سکا ہے کہ جو عراق کی فتح کرنے کے دوران تباہی اور اس کے بعد لوٹ مار سے ہوا۔ صدر بش کا غیر اعلانیہ دورہ انتہائی کڑے حفاظتی انتظامات میں اس معاہدے کے بعد ہو رہا ہے جس میں یہ طے کیا گیا ہے امریکی افواج تین سال کے اندر عراق سے چلی جائیں گی۔ تاہم آئندہ سال بغداد سمیت عراقی شہروں سے ان کی دستبرداری شروع ہو جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||