جوتے اٹھا کر مظاہرہ کرنے کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں جنگ مخالف تنظیموں نےصدر بش پر جوتا پھینکے والےعراقی صحافی سے یکجہتی کے اظہار کے طور پر وائٹ ہاؤس کے سامنے جوتے اٹھا کرمظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تین جنگ مخالف تنظیموں ’آفٹر ڈاؤننگ سٹریٹ،‘ ’ویمن فار پیس‘ اور ’پنک کوڈ‘ کی طرف سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گيا ہے کہ بدھ، سترہ دسمبر کو وائٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کیا جائےگا جس میں شرکاء پرانے جوتوں کی بوریاں بھر کر لائیں گے- بیان میں کہا گیا ہے کہ بش انتظامیہ کی طرف سے عراق میں غیر قانونی مداخلت، عراق میں مارے جانیوالے امریکی اور عراقی فوجیوں کی طرف سے جوتوں کی بوریاں لے کر مظاہرین وائٹ ہاؤس کے سامنے جمع ہوں گے۔ جنگ مخالف تنظیموں نے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بغداد میں صدر بش پر جوتے پھینکنے والے عراقی صحافی منتظر الزیدی کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ تنظیم کے اراکان نے کہا ہے کہ عراقی صحافی کے اہل خانہ کی مالی مدد کے لیےایک فنڈ بھی قائم کیا جائے گا۔ تنظیم ’پنک کوڈ‘ کی میڈا بینجامن نے کہا ہے کہ یہ بہت قابل اشتعال بات ہے کہ عراقی صحافی منتظر الزیدی جارج بش کی بےعزتی کرنے پر دو سال تک کی سزا پا سکتا ہے جبکہ پندرہ لاکھ عراقیوں، چار ہزار دو سو امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں اور لاکھوں عراقیوں کی ملک بدری کے ذمہ دار جارج بش کھلے گھوم رہے ہیں۔
پنک کوڈ کی میڈا بینجامن نے کہا کہ صدر بش کو جنگی جرائم کے ارتکاب میں جیل میں ہونا چاہیے تھا- بیان میں کہاگيا ہے کہ جنگ مخالف کارکنوں کی طرف سے وائٹ ہاؤس کے سامنے جوتا مظاہرے میں عراق جنگ میں شریک رہنے والے سابق امریکی فوجی بھی شرکت کریں گے- اس مظاہرے کو جنگ مخالف تنظیموں نے ’جوتے برائے بش‘ ریلی کا نا م دیا ہے- |
اسی بارے میں بغداد، صدر بش پر جوتے پھینکے گئے14 December, 2008 | آس پاس ’ہیرو‘ المنتظر کی رہائی کیلئے مظاہرے15 December, 2008 | آس پاس صدر بش اچانک عراق کا وداعی دورہ14 December, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||