ایشیا:اقتصادی منصوبے پراتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشیا کی تین بڑی معیشتوں کے رہنماؤں نے عالمی مالی بحران سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کا عہد کیا ہے۔ جاپان اور چین کے وزراءاعظم اور جنوبی کوریا کے صدر کی جاپان میں ملاقات کے دوران تجارت کو فروغ دینے اور کرنسی کے تبادلے پر اتفاق ہوا۔ چین کے وان جیاباؤ نے اس اجلاس کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کا تعاون ’بہت اہم ثابت ہوگا‘۔ شمالی ایشیا کے ان ممالک کی اپنے طور پر یہ پہلی سہ فریقی ملاقات ہے۔ٹوکیو میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ چین جاپان اور کوریا معاشی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کے رہنماؤں کے خیال میں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعاون مشرقی ایشیا کو موجودہ مالی بحران سے باہر نکالنے میں مدد کرے گا۔ ایک مشترکہ بیان میں ان رہنماوں کا کہنا تھا کہ ’توقع تھی کہ عالمی معیشت کو مندی سے نکالنے میں ایشیا عالمی معاشی ترقی کے مرکز کا کردار ادا کرے گا‘۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان ممالک کے خیال میں کرنسی کے تبادلے سے کرنسی کی قدر میں اچانک کمی کو روکنے میں مدد ملے گی۔ تینوں رہنماؤں نے ایشین ڈویلپمینٹ بینک کو فوری طور پر فنڈ مہیا کرنے کی اپیل بھی کی۔ جاپان بھی چین کے ساتھ ماضی کے اپنے اختلافات بھلانے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کی مدد سے جاپان 1990 کی دہائی میں طویل کساد بازاری سے باہر نکل سکا تھا۔ خطے کی 75 فیصد معیشت کے مالک ان تینوں ممالک نے حالیہ مہینوں میں بڑے بڑے اقتصادی پیکجوں کا اعلان کیا تھا۔ جاپان کے وزیر اعظم تارو آسو کا کہنا تھا کہ ’عالمی سطح پر یہ ایک بہت بڑی کساد بازاری ہے جو سو سالوں میں ایک بار آتی ہے لیکن صحیح وقت پر مناسب اقدامات کر کے اس کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے‘۔ |
اسی بارے میں عالمی بازارِ حصص پر خوف کے سائے10 October, 2008 | آس پاس حصص:پہلے مندی پھر کچھ بہتری07 October, 2008 | آس پاس پیکج منظور ہو جائے گا: بش27 September, 2008 | آس پاس مالی بحران کا دائرہ پھیل رہا ہے18 September, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||