BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 November, 2008, 10:56 GMT 15:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی لنک کی تفتیش جاری
ممبئی حملوں میں ایک برطانوی شہری اینڈریس لیوراس ہلاک جبکہ سات برطانوی شہری زخمی ہوئے ہیں۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ممبئی دھماکوں میں ملوث کسی برطانوی شخص کا تعلق برطانیہ سے ہے یا نہیں اس بات کی تفتیش جاری ہے۔

دریں اثناء ممبئی حملوں کی تفتیش میں مدد کے لیے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ایک ٹیم ممبئی پہنچ رہی ہے۔

ایسی خبریں سامنے آئیں کہ ممبئی پر حملہ کرنے والے سات حملہ آور کا برطانیہ سے تعلق ہے اور ان میں سے بعض مشتبہ افراد کا تعلق لیڈز، ہارٹپول، اور بریڈفورڈ علاقوں سے ہے۔

تاہم برطانوی وزارات خارجہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ گرفتار یا ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں سے کوئی بھی برطانوی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کہ حملہ آوروں میں سے کسی کا تعلق بھی برطانیہ سے تھا۔

 جمعہ کو مہاراشٹر کے وزیر اعلی ولاس را‎ؤ دیش مکھ نے کہا تھا جن آٹھ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ان میں سے دو پاکستانی نژاد کے برطانوی شہری ہیں۔
بی بی سی سکیورٹی امور کے نامہ نگار گورڈن کوریرا کے مطابق برطانوی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ ان خبروں کی تحقیق کر رہے ہیں کہ برطانوی شہری ان حملوں میں ملوث تھے۔

برطانیہ کی جانب سے یہ تفتیش بھارتیہ پولیس کی جانب سے اس دعوی کے بعد کی جا رہی ہے جس کے تحت تاج ہوٹل میں بچے شدت پسندوں کو مار گرایا گیا ہے۔

ممبئی حملوں میں ایک برطانوی شہری اینڈریس لیوراس ہلاک جبکہ سات برطانوی شہری زخمی ہوئے ہیں۔

جمعہ کو مہاراشٹر کے وزیر اعلی ولاس را‎ؤ دیش مکھ نے کہا تھا جن آٹھ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ان میں سے دو پاکستانی نژاد کے برطانوی شہری ہیں۔
حالانکہ برطانوی وزرات خارجہ نے اس کی تردید کی ہے۔

 برطانوی وزارات خارجہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ گرفتار یا ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں سے کوئی بھی برطانوی ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بارے میں معلومات فراہم کریں۔ تاہم بھارتی حکام نے کہا ہے کہ ان کے پاس ابھی تک ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں جن سے حملوں میں برطانوی شہریوں کے ملوث ہونے کا اشارہ ملے۔

مسٹر دیش مکھ کے بیان سے متعلق برطانوی وزارات خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ دیش مکھ نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے۔

لیڈز کے کاؤنٹر ٹیررزم یونٹ نے حملہ آواروں کا بریڈفورڈ اور ویسٹ یورکشائیر سے تعلق ہونے کی بات سے انکار کیا ہے۔ ’اس مرحلے پر ہمیں ایسی کوئی بھی خفیہ جانکاری نہیں ملی ہے جس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق ہمارے علاقے سے تھے۔ ‘

ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بارے میں معلومات فراہم کریں۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے اس سے پہلے یہ کہا تھا کہ وہ مشتبہ حملہ آوروں کے نام، انکا تعلق کہاں سے ہے اور اس حملے کے ذرائع کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے۔

انکا مزید کہنا تھا: ’ظاہر ہے بھارتی حکام اس وقت آپریشن کو ختم کرنے کو زیادہ ترجیج دے رہے نا کہ شدت پسند کہاں سے آئے ہیں۔ ‘

انہوں نے کہا: ’یہ بات بھی کہ ایک شدت پسند کو پکڑ لیا گیا ہے اور اس سے تفتیش کی جا رہی ہے اور ہم اس پر دھیان مرکوز کرنا چاہیں گے۔‘ انکا کہنا تھا کہ یہ بتانا ابھی جلد بازی ہوگی کہ شدت پسند کا تعلق کہاں سے ہے۔

اس سے پہلے برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا تھا کہ ممبئی حملوں میں برطانوی شہریوں کے ملوث ہونے کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہے۔

دوسری طرف برطانوی وزیر داخلہ جیکی سمتھ نے کہا تھا کہ برطانوی حکام کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں جن سے حملوں میں برطانوی تعلق ظاہر ہو۔

ممبئی حملےآپریشن جاری
فوجی کمانڈوز کی کارروائی، تازہ تصاویر
حملوں کے بعد، ممبئی والوں کا ردعمل’بہت ڈر گئي ہوں‘
حملوں کے بعد، ممبئی والوں کا ردعمل
نکھل سہگلنکھل سہگل کا دکھ
گنبد پر نگاہیں ٹکائے خبر کے انتظار میں
میڈیا، پولیس کردار
پولیس اور میڈیا کا رویہ ایک جیسا
تاج ہوٹلتاج ہوٹل ایکشن
ممبئی حملے: کارروائی کا آخری روز
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد