برطانوی لنک کی تفتیش جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ممبئی دھماکوں میں ملوث کسی برطانوی شخص کا تعلق برطانیہ سے ہے یا نہیں اس بات کی تفتیش جاری ہے۔ دریں اثناء ممبئی حملوں کی تفتیش میں مدد کے لیے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ایک ٹیم ممبئی پہنچ رہی ہے۔ ایسی خبریں سامنے آئیں کہ ممبئی پر حملہ کرنے والے سات حملہ آور کا برطانیہ سے تعلق ہے اور ان میں سے بعض مشتبہ افراد کا تعلق لیڈز، ہارٹپول، اور بریڈفورڈ علاقوں سے ہے۔ تاہم برطانوی وزارات خارجہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ گرفتار یا ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں سے کوئی بھی برطانوی ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کہ حملہ آوروں میں سے کسی کا تعلق بھی برطانیہ سے تھا۔ برطانیہ کی جانب سے یہ تفتیش بھارتیہ پولیس کی جانب سے اس دعوی کے بعد کی جا رہی ہے جس کے تحت تاج ہوٹل میں بچے شدت پسندوں کو مار گرایا گیا ہے۔ ممبئی حملوں میں ایک برطانوی شہری اینڈریس لیوراس ہلاک جبکہ سات برطانوی شہری زخمی ہوئے ہیں۔ جمعہ کو مہاراشٹر کے وزیر اعلی ولاس راؤ دیش مکھ نے کہا تھا جن آٹھ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ان میں سے دو پاکستانی نژاد کے برطانوی شہری ہیں۔ مسٹر دیش مکھ کے بیان سے متعلق برطانوی وزارات خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ دیش مکھ نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے۔ لیڈز کے کاؤنٹر ٹیررزم یونٹ نے حملہ آواروں کا بریڈفورڈ اور ویسٹ یورکشائیر سے تعلق ہونے کی بات سے انکار کیا ہے۔ ’اس مرحلے پر ہمیں ایسی کوئی بھی خفیہ جانکاری نہیں ملی ہے جس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق ہمارے علاقے سے تھے۔ ‘ ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بارے میں معلومات فراہم کریں۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے اس سے پہلے یہ کہا تھا کہ وہ مشتبہ حملہ آوروں کے نام، انکا تعلق کہاں سے ہے اور اس حملے کے ذرائع کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے۔ انکا مزید کہنا تھا: ’ظاہر ہے بھارتی حکام اس وقت آپریشن کو ختم کرنے کو زیادہ ترجیج دے رہے نا کہ شدت پسند کہاں سے آئے ہیں۔ ‘ انہوں نے کہا: ’یہ بات بھی کہ ایک شدت پسند کو پکڑ لیا گیا ہے اور اس سے تفتیش کی جا رہی ہے اور ہم اس پر دھیان مرکوز کرنا چاہیں گے۔‘ انکا کہنا تھا کہ یہ بتانا ابھی جلد بازی ہوگی کہ شدت پسند کا تعلق کہاں سے ہے۔ اس سے پہلے برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا تھا کہ ممبئی حملوں میں برطانوی شہریوں کے ملوث ہونے کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہے۔ دوسری طرف برطانوی وزیر داخلہ جیکی سمتھ نے کہا تھا کہ برطانوی حکام کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں جن سے حملوں میں برطانوی تعلق ظاہر ہو۔ |
اسی بارے میں ممبئی: ISI نمائندہ بھارت جائے گا28 November, 2008 | پاکستان بھارتی ٹیم کا آنا ہی جواب ہے: اعجاز28 November, 2008 | کھیل ’حملوں پر پاکستان سے بات کریں‘28 November, 2008 | انڈیا ’ملوث ہی نہیں تو احساس جرم کیسا‘28 November, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||