افغانستان کی دو سو اکسٹھیوں سالگرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیویارک میں افغانستان کی دو سو اکسٹھویں سالگرہ منائی گئی ہے جس میں مقررین نے کہا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف پشتونوں پر، بقول ان کے، ہونےوالا ظلم ختم کیا جائے۔ جمعہ کی شب نیویارک کے ایک ہوٹل میں ہونے والی اس تقریب میں تقریباً پانچ سو پختون مرد، عورتیں اور بچے موجود تھے۔ تقریب کا اختتمام نیویارک میں افغان تنظیموں اور پختنونوں کی ثقافتی اور سماجی تنظیم ’خیبر سوسائٹی‘ نے کیا تھا۔ خیبر سوسائٹی کے سیکریٹری اطلاعات اورصحافی مجید بابر نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یوم افغانستان ایک پرانے پشتو نعرے ’لر او بر یوہ افغان‘ کے تصور پر منایا گیا تھا جس نعرے کا مطلب ہے ’اوپر چاہے نیچے افغانستان ایک ہے۔‘ تقریب سے خطاب کرنے والے اکثر مقررین نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان پشتون آبادی کے بیچ ایک سو سال سے زیادہ عرصے سے قائم ڈیورنڈ لائن کی مخاالفت کا اظہار کیا۔ تقریب میں پشتون فنکار ہارون باچہ ، جنہوں نے حال ہی میں پاکستان میں طالبان سے انکو ملنے والی دھمکیوں کے بعد امریکہ میں پناہ لی ہے، اور افغان مغنیہ نغمہ نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ فنکاروں کے گائے گيت بھی اکثر پشتون یا افغان قومپرستانہ خیالات پر مبنی تھے۔ افغان فنکارہ نغمہ کے گاۓ ہوۓ ایک مشہور پشتون گیت کے کے بول تھے: ’ نہ زماں نہ داستہ، پختون خواہ پختون خواہ ( نہ تیرا ہے نہ میرا ہے پختون خواہ پختون خواہ
خیبر سوسائٹی کے رہمنا تاج اکبر خان نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کی حکومتیں اپنے ملکوں میں رہنے والے پختونوں کے ’قتل عام‘ روکنے میں ناکام رہی ہیں اور اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دونون پار رہنے والے پختون ایک الگ وطن ’پشتونستان‘ کا مطالبہ کریں گے۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) امریکہ کے صدر اقبال علی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل ریسکیو کمیونٹی ( آئی ارسی) اور ریڈ کراس جیسے عالمی ادراے پختونوں مدد کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اٹھارہ سو ترانوے میں برطانوی حکومت نے اس وقت کے برٹش انڈیا، اور زارشاہی کے زیر حکومت روس کے درمیان ایک بفر زون کی حیثیت سے موجودہ افغانستان اور پاکستان کے پختون علاقوں کے درمیان ایک سو سال کیلیے ڈیورینڈ لائينر قائم کی تھی جسے پشتونوں کی اکثیریت ’کالی لکیر‘ کہتی ہے۔ پاکستانی اور افغان قوم پرستوں کے مطابق انگریز استعماری حکمرانوں کے ہاتھوں قائم کی جانے والی ’ڈیورنڈ لائین‘ کی ’لیز‘ اصولاً ختم ہوچکی ہے۔ |
اسی بارے میں پشتونوں کا تھنک ٹینک11 May, 2008 | پاکستان اسفندیار ولی ہی نشانہ کیوں؟02 October, 2008 | پاکستان ڈیورنڈ لائن تسلیم کرنے کا مطالبہ26 January, 2007 | صفحۂ اول ’دو سال میں 140 خودکش بمبار‘09 January, 2008 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||