فلوریڈا میں انتخابی مہم تیز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدارت کے امیدواروں نے جنوبی ریاست فلوریڈا میں اپنی انتخابی مہم تیز کردی ہے جہاں سے دو ہزار چار میں جارج بش کامیاب رہے تھے۔ صدارتی انتخابات چار نومبر کو ہونے ہیں۔ رائے شماری کے جائزوں میں جان مکین اپنے ڈیموکریٹِک حریف باراک اوبامہ سے کافی پیچھے چل رہے ہیں۔ انہیں جیت کے لیے ورجنیا، شمالی کیرولائنا اور فلوریڈا میں کامیابی حاصل کرنی ضروری ہے۔ جمعہ کے روز جان مکین نے فلوریڈا میں ریلیاں کی اور باراک اوبامہ کی ٹیکس بڑھانے کی تجویز کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے ووٹروں سے کہا کہ وہ اپنی جیب پر نظر رکھیں کیونکہ باراک اوبامہ پر ٹیکس میں کمی کی امید نہیں کی جاسکتی۔ انتخابی ریلیوں کے دوران جان مکین نے آخری صدارتی مباحثے کے دوران ’جو دی پلمبر‘ پر باراک اوبامہ سے ہونے والی بات چیت کا بھی دفاع کیا۔ ایک حالیہ انتخابی مہم کے دوران جو نامی پلمبر نے اوبامہ سے سوال کیا تھا کہ کیا ان کی تجویز کردہ پالیسیوں سے ان کے بزنس کو نقصان نہیں ہوگا۔ صدارتی مباحثے کے دوران مکین اور پھر اوبامہ نے براہ راست ٹیلی ویژن پر جو دی پلمبر سے مخاطب ہوتے ہوئے امریکی ووٹر کو متوجہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
سی این این ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے رائے شماری کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق باراک اوبامہ کے اکاون فیصد کے مقابلے میں مکین چھیالیس فیصد پر پیچھے ہیں۔ پیر کے روز باراک اوبامہ بھی فلوریڈا میں انتخابی ریلیاں کریں گے۔ حال ہی میں انہوں نے میسوری اور شمالی کیرولائنا میں انتخابی ریلیاں کی ہیں، یہ دونوں ریاستیں ابھی تک ریپبلکن پارٹی کی حامی سمجھی جارہی تھیں۔ لیکن اب یہاں باراک اوبامہ کافی پرامید نظر آرہے ہیں۔ ڈیموکریٹس ریاست ویسٹ ورجنیا میں بھی ٹیلی ویژن پر پہلی بار اشتہار نشر کررہے ہیں۔ جبکہ ریپلکن پارٹی نے ریاست وِسکونسن سے اپنے اشتہار واپس لے لیے ہیں، یہاں انہیں امید تھی کہ جان مکین کامیاب ہوجائیں گے۔ اس ہفتے باراک اوبامہ نے اپنے کچھ اہم لوگوں کو فلوریڈا بھیجا ہے کہ وہ وہاں کی انتخابی مہم میں جان ڈالیں۔ ڈیموکریٹس وہاں چالیس ملین ڈالر ٹیلی ویژن اشتہاروں پر خرچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ٹامپا، اورلانڈو اور میامی میں مکین سے پانچ گنا زیادہ پیسے خرچ کیے ہیں۔
ڈیموکریٹس کے کارکن کافی فعال ہیں جبکہ ریپلکن پارٹی انتخابی مہم چلانے کے لیے یومیہ ملازمت پر سیاسی کارکن میدان میں اتار رہی ہے جن کی کوشش ہوگی کہ ریپلکن ووٹرں کو ووٹنگ بوتھ تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ دریں اثناء باراک اوبامہ نے اپنے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک اطمینان سے نہ بیٹھیں جب تک کامیابی یقینی نہیں بن جاتی۔ انہوں نے نیو ہمپشائر میں اپنی ریلیوں کے دوران اپنے کارکنوں سے کہا کہ وہ رائے شماری کو جائزوں میں ان کی کامیابی دیکھ کر یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ فتحیاب ہوگئے۔ دریں اثناء واشنگٹن پوسٹ نے سینیٹر باراک اوبامہ کی حمایت کردی ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ جان مکین کی انتخابی مہم مایوس کن رہی ہے جبکہ باراک اوبامہ کی شخصیت متاثر کن ہے۔ | اسی بارے میں امریکہ: انتخاب سے قبل آخری مباحثہ16 October, 2008 | آس پاس پاکستان میں حملہ، احمقانہ بات: مکین08 October, 2008 | آس پاس اوبامہ مکین سے دس پوائنٹس آگے13 October, 2008 | آس پاس مکین کے لیے راستہ تنگ ہو رہا ہے16 October, 2008 | آس پاس امریکی عوام اپنا صدر کسطرح چنُتے ہیں؟17 October, 2008 | آس پاس مکین کے حامی پاکستانی ڈھونڈنے سے نہیں17 October, 2008 | آس پاس کساد بازاری کا خوف، منڈیاں متاثر16 October, 2008 | آس پاس اوباما، مکین مباحثہ، الزامات کی بوچھاڑ16 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||