’ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کے سات ترقی یافتہ امیر ترین ممالک جی سیون کے وزراء خزانہ کے اجلاس میں موجودہ عالمی مالیاتی بحران سے نکلنے کے لیے ایک پانچ نکاتی منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والے جی سیون ملکوں کے وزراء خزانہ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا کہ موجودہ صورت حال ہنگامی اور غیر معمولی اقدامات کی متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بحران کے حل کے ہر ممکنہ طریقہ استعمال اور فیصلہ کن اقدام کریں گے۔ جی سیون ملکوں میں امریکہ، جاپان، برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی اور کینیڈا شامل ہیں۔ انہوں نے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو بچانے کے لیے سرکاری اور نجی ذرائع سے مالی وسائل مہیا کرنے کا عزم کیا۔ بی بی سی کے اقتصادی امور کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جی سیون کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والا بیان میں تفصیل نہیں دی گئی اور اب یہ مختلف حکومتوں پر منحصر ہے کہ وہ کس قدر اپنے منصوبوں کو آگے لے کر چلتی ہیں۔ اجلاس کے بعد امریکہ کے وزیر خزانہ ہینری پالسن نے کہا کہ بش انتظامیہ اب مالیاتی اداروں کے حصص خریدنے کے اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کرے گی۔ ہینری پالسن نے کہا کہ بش انتظامیہ حصص بازاروں میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کیئے ہوئے ہے۔ ہینری پالسن نے کہا کہ امریکہ چین اور جاپان دونوں کے مستقل رابطے میں ہے کیونکہ ان دونوں ممالک کے پاس بہت بڑی تعداد میں امریکہ کے ٹریژی بانڈ ہیں۔ | اسی بارے میں جارحانہ اقدامات کر رہے ہیں: بش10 October, 2008 | آس پاس عالمی بازارِ حصص پر خوف کے سائے10 October, 2008 | آس پاس ایشائی بازار میں مزید مندی08 October, 2008 | آس پاس کئی اور بینکوں کے ڈوبنے کا خطرہ08 October, 2008 | آس پاس برطانیہ: بینکوں کے لیے امدادی پیکج08 October, 2008 | آس پاس حصص بازاروں میں مندی جاری09 October, 2008 | آس پاس ایشیائی بازار میں شدید مندی10 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||