BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 October, 2008, 07:34 GMT 12:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایشائی بازار میں مزید مندی
مندی کا آغاز ایشیائی منڈیوں سے ہوا جس کے بعد یورپی ،امریکی اور لاطینی امریکی منڈیوں میں بھی یہی رجحان رہا
عالمی پیمانے پر اقتصادی بحران کے پھیلنے کے خدشات کے سبب ایشائی بازاروں میں زبردست گراوٹ جاری ہے۔

خطے کے سینٹرل بینکوں کی جانب سے مسلسل مداخلت ، بازار میں اربوں ڈالر اتارنے اور سود میں کمی بھی سرمایہ کاروں میں بھروسہ پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

جاپان کا اہم انڈکس تقریباً چھ فیصد تک نیچے گر گیا جوگزشتہ پانچ برس ميں سب سے کم تھا۔ نکّی انڈکس میں 5.9 فی صد کی کمی درج کی گئی ۔یہ انڈکس 9556 سے چھ سو پوانٹس نیچے گر گیا ہے۔

ہندوستان کے حصص بازار میں بھی بدھ کو شروعاتی کاروبار میں بڑے پیمانے پر گراوٹ درج کی گئی۔ بامبے سٹاک ایکسچیج (بی ایس آئی) کا انڈکس تقریباً سات سو پوائنٹ نیچے گر گیا ہے۔

ادھر ہانگ کانگ کا ہینگ سنگ انڈکس 5۔1 فیصد نیچے تھا جبکہ آسٹریلیا کے اہم بازار کو پانچ فیصد کا نقصان ہوا ہے۔

منگل کو امریکہ کا بازار گزشتہ پانچ برسوں میں سب سے نیچے چلا گیا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ گراوٹ سرمایہ کاروں کی عالمی بینکوں کے ادارے میں مسلسل غیر یقینی کی وجہ سے درج کی گئی ہے۔

پیر کو سعودی عرب کے بازار حصص میں نو فیصد کی گرواٹ ہوئی

امریکہ کے صدر جارج بش نے عالمی اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے متحدہ طور پر اقدامات کرنے کو کہا ہے۔ امریکی صدر نے فرانس، برطانیہ اور اٹلی کے رہنماؤں سے فون پر اس بحران سے نمٹنے کے لیے تبادلہ خیال کیا ہے۔

امریکہ مالیاتی اداروں کو بچانے کے لیے سات سو ارب ڈالر کے بیل آؤٹ بل کی منظوری دے چکا ہے۔

آسٹریلیا اور ہانگ کانگ کی جانب سے سود کی شرح میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کرنے کے باوجود بھی بازار سنبھل نہيں پا رہے ہیں۔ ادھر بینک آف جاپان نے اربوں ڈالر بازار ميں اتارے ہیں۔

لندن سٹاک ایکسچینج میں منگل کو کاروبار کے دوران رائل بینک آف سکاٹ لینڈ کے حصص میں سترہ فیصد اور ایچ بی او ایس کے حصص میں سولہ فیصد کی کمی دیکھی گئی۔

بدھ کو برطانیہ نے بھی اس بحران سے نمٹنے کے لیے بینکنگ سسٹم کے لیے 87 ارب ڈالر کا پیکچ دینے کا اعلان کیا ہے۔ شروعات میں یہ رقم ملک کے آٹھ بڑے بینکوں کو فراہم کی جائے گی۔

اطلاعات کے مطابق سرمایہ کاروں کے خیال میں بحران سے نمٹنے کے لیے جو بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں وہ بازار میں نقدی کی کمی کو پورا نہیں کر سکيں گے۔ اب یہ خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں ميں دنیا کی بڑی معیشتیں بڑے پیمانے پرمشکلات میں گھرنے جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد