ترکی جھڑپ، فوجی اور باغی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترک فوج کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب مشرقی علاقے میں کرد باغیوں کے حملے میں پندرہ ترک فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ فوجی حکام کے مطابق سمدینلی کے قریب ہونے والی جھڑپ میں’پی کے کے‘ کے نام سے جانی جانے والی کردستان ورکرز پارٹی کے تیئیس کرد باغی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ترک حکومت ماضی میں ’پی کے کے‘ کو ملک میں ہونے والے بم حملوں کا ذمہ دار ٹھہراتی رہی ہے اور ترک فضائیہ باغیوں کے شمالی عراق میں واقع ٹھکانوں پر بمباری بھی کرتی رہی ہے۔ ترک فوجی حکام ’پی کے کے‘ پر الزام لگاتے ہیں کہ اس کے کارکن شمالی عراق میں ترک عراق سرحد کے ساتھ واقع علاقے میں چھپ کر ترکی کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں فوج پر حملوں کی منصوبہ بندی اور ان کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ رواں برس بھی ترک فوج نے کرد باغیوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں اور فروری کے مہینے میں ترک فوج نے عراقی حدود میں داخل ہو کر کردوں کے خلاف کارروائی کی تھی جس میں درجنوں افراد مارے گئے تھے۔ سنہ 1984 میں جنوب مشرقی ترکی میں کرد علیحدگی پسند تحریک کے آغاز کے بعد سے اب تک تیس ہزار سے زائد افراد اس تنازعہ کی نذر ہو چکے ہیں۔ امریکہ، یورپی یونین اور ترکی ’پی کے کے‘ کو ایک دہشت گرد تنظیم گردانتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’ترکی فوجی آپریشن جلد ختم کرے‘27 February, 2008 | آس پاس عراق: فوری انخلاء سے ترکی کا انکار28 February, 2008 | آس پاس کرد باغی ہتھیار پھینک دیں: ترکی01 March, 2008 | آس پاس ترک فوج کا عراقی کرد سے انخلاء29 February, 2008 | آس پاس کردستان پر حملہ، عراق کے خدشات24 February, 2008 | آس پاس ترک حملے میں ’درجنوں ہلاک‘23 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||