ترک فوج کا عراقی کرد سے انخلاء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ شمالی عراق میں مقاصد کے حصول کے بعد وہاں سے نکل آئی ہے۔ عراق نے ترکی کی فوج کا عراق میں در اندازی کو خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ ترکی نے کہا ہے کہ اس کی فوج عراقی کردستان سے اپنے مقاصد کی کامیابی کے بعد واپس ہوئی ہے اور یہ واپسی کسی دباؤ کا نتیجہ نہیں ہے۔ امریکہ نے ایک روز پہلے ہی ترکی کو کہا تھا کہ جلد سے جلد عراقی علاقے سے نکل جائے۔ ترکی نے کہا کہ اس آپریشن میں دو سو چالیس کرد باغیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ ترکی کی فوج نے تسلیم کیا کہ اس کے ستائیس فوجی بھی اس آپریشن میں مارے گئے ہیں۔ ترکی نے کہا کہ وہ مستقبل میں بھی عراقی علاقے پر نظر رکھیں گے تاکہ دہشت گردوں پر نظر رکھی جا سکے۔ عراق کے وزیرِ خارجہ ہشیار زبیری نے ترک فوج کے انخلاء کو مثبت اقدام قرار دیا ہے۔ ترکی کے دورے پر آئے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے ترکی کی حکومت کو صدر جارج بش کا پیغام پہنچایا جس میں ترکی کو کہا گیا ہے کہ وہ عراق سے فوراً نکل جائے۔ | اسی بارے میں ’ترکی فوجی آپریشن جلد ختم کرے‘27 February, 2008 | آس پاس ترک حملے میں ’درجنوں ہلاک‘23 February, 2008 | آس پاس کردستان پر حملہ، عراق کے خدشات24 February, 2008 | آس پاس کرد خواتین کا دردناک احتجاج09 February, 2008 | آس پاس ترکی: حجاب پلان کے خلاف احتجاج 02 February, 2008 | آس پاس استنبول میں دھماکہ بیس ہلاک01 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||