BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 February, 2008, 03:21 GMT 08:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: فوری انخلاء سے ترکی کا انکار
ترکی فوج
ترک فوج نے جمعرات کو عراق میں کردوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی
ترکی نے شمالی عراق سے فوجوں کے انخلاء کا فوری امکان مسترد کر دیا ہے۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک اجلاس کے بعد سینیئر ترک اہلکار احمد داود اوغلو نے کہا کہ جب تک ’دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم نہیں ہو جاتے‘ کارروائی جاری رہے گی۔‘

تاہم عراق کے وزیرِ خارجہ ہشیار زبیری نے ترک فوج کے اس عمل کو ناقابلِ قبول کہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عراق کی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب ترکی کے دورے پر آئے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے عراق سے ترک فوجوں کے فوری انخلاء پر زور دیا ہے۔

ترکی کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل بھارت کے دارالحکومت دِلی میں گیٹس نے کہا تھا کہ کُرد علیحدگی پسندوں کے خلاف ترکی کی کارروائی دو ہفتوں سے زیادہ نہیں رہنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کو عراقِ کے اقتدارِ اعلیٰ کا احترام کرتے ہوئے اپنی فوجیں چند دنوں میں عراق سے نکال لینی چاہئیں۔

احمد داود اوغلو اور ہشیار زبیری
احمد داود اوغلو اور ہشیار زبیری نے صحافیوں سے بات چیت کی

انہوں نے کہا: ’ترکی کو عراق کی خودمختاری کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ اور میں جب محدود کہتا ہوں تو اس کا مطلب دن یا دو ہفتے ہیں نہ کہ مہینہ۔‘

ترکی کے وزیرِ اعظم طیب اردوگان کے خارجہ پالیسی کے مشیرِ خاص احمد داود اوغلو نے صحافیوں کو بتایا: ’ہمارا مقصد واضح ہے۔ ہمارا مشن صاف ہے اور یہاں کوئی نظام الاوقات نہیں ہیں۔۔۔ جب تک کہ دہشت کُردوں کے ٹھکانے ختم نہیں ہوجاتے۔‘

عراق کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ عراق فوجوں کا فوری انخلاء چاہتا ہے۔

’ہم دہشت گردوں اور پی کے کے کی مذمت کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ عراق کی سالمیت کی خلاف ورزی کی بھی مذمت کرتے ہیں اور ہمیں اس پر پوری طرح واضح ہونے چاہیئے۔‘

ہوشیار زبیری جو کہ خود بھی کُرد ہیں کہتے ہیں کہ کردوں کی علاقائی حکومت نے پی کے کے کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے ترکی کے ساتھ کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

واضح رہے کہ پچھلے ہفتے ترکی نے کُرد علیحدگی پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ کُرد علیحدگی پسند ترکی کے جنوب مشرق میں خودمختار ملک کا مطالبہ کرتے ہیں۔

انیس سو چوراسی میں کُردوں نے علیحدگی کی تحریک شروع کی تھی اور اب تک تیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکہ، یورپی یونین اور ترکی نے کردستان ورکرز پارٹی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد