کرد باغی ہتھیار پھینک دیں: ترکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کے وزیرِ اعظم نے کرد باغیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار پھینک دیں اور جمہوریت کی آغوش میں آ جائیں۔ وزیرِ اعظم رجب طیب اردوغان کا یہ بیان شمالی عراق سے ترک فوجیوں کی واپسی کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ انہوں نے ٹیلی وژن پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’دہشت کے ذریعے کوئی کہیں بھی نہیں پہنچ سکتا۔۔۔ ہماری جمہوریت میں اتنی پختگی آ گئی ہے کہ ہر طرح کے اختلافات کے ساتھ بھی چل سکے۔‘ ترک فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایک ہفتے کی کارروائی میں اپنے ہدف حاصل کر لیے ہیں۔ عراق اور امریکہ نے انقرہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شمالی عراق سے فوج واپس بلا لے، لیکن ترک فوج کا کہنا ہے کہ فوجوں کی واپسی کا فیصلہ کسی بیرونی اثر کے تحت نہیں کیا گیا۔ جمعہ کی صبح درجنوں کے حساب سے ترک فوجی ٹرکوں میں بیٹھے ہوئے شمالی عراق سے ترکی کے سرحدی علاقے چکورجا میں داخل ہوئے۔ ترکی نے کہا ہے کہ اس نے عراق میں اپنی کارروائی کے دوران 3000 کرد باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ترک فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کارروائی کے دوران کردش ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے 240 دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران 27 ترک فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ پی کے کے نے کہا ہے کہ ترک فوج کی طرف سے دیے گئے اعداد و شمار درست نہیں ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ویسے ہی دور دراز علاقوں میں آزادانہ طور پر ہلاکتوں کی تصدیق کرنا ناممکن ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک اجلاس کے بعد سینیئر ترک اہلکار احمد داود اوغلو نے کہا تھا کہ جب تک ’دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم نہیں ہو جاتے‘ کارروائی جاری رہے گی۔‘ تاہم عراق کے وزیرِ خارجہ ہشیار زبیری نے ترک فوج کے اس عمل کو ناقابلِ قبول کہتے ہوئے کہا تھا کہ یہ عراق کی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب ترکی کے دورے پر آئے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے بھی عراق سے ترک فوجوں کے فوری انخلاء پر زور دیا تھا۔ | اسی بارے میں ’ترکی فوجی آپریشن جلد ختم کرے‘27 February, 2008 | آس پاس ترک حملے میں ’درجنوں ہلاک‘23 February, 2008 | آس پاس کردستان پر حملہ، عراق کے خدشات24 February, 2008 | آس پاس کرد خواتین کا دردناک احتجاج09 February, 2008 | آس پاس ترکی: حجاب پلان کے خلاف احتجاج 02 February, 2008 | آس پاس استنبول میں دھماکہ بیس ہلاک01 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||