جورجیا: فائر بندی کی نگرانی شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین کے مبصرین نے جورجیا اور روس کے مابین ہونے والی فائربندی کی نگرانی شروع کردی ہے۔ خیال ہے کہ دو سو کے لگ بھگ مبصرین جورجیا سے علیحدگی اختیار کر جانے والے جنوبی اوسیٹیا اور ابخازیہ کے اطراف بفرزون سے روسی فوجوں کے انخلا کی نگرانی کریں گے۔ اگست میں روسی فوجوں نے ان خطوں سے جورجیا کی افواج کو نکال دیا تھا۔ بدھ کو روز پہلے مبصر اوسیٹیا کے قریبی بفر زون میں داخل ہوئے حالانکہ روس نےابتدائی طور پر اس کی مخالفت کی تھی۔ روسی فوج نے پہلے کہا تھا کہ مبصروں کو بفرزون میں جانے کی اس وقت تک اجازت نہیں دی گئی تھی۔ روس اور جورجیا کے درمیان 7 اگست کو اس وقت جنگ کی صورتحال پیدا ہوئی تھی جب روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسند علاقے جنوی اوسیٹیا کو جورجیا نے طاقت کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی جس کے بعد روسی افواج نے مداخلت کی۔ روس کی فوجی مداخلت کے نتیجے میں جنوبی اوسیٹیا اور ایک اور علیحدگی پسند علاقے ابخازیہ سے جورجیا کی افواج کو نکلنا پڑا تھا۔ یاد رہے کہ جورجیا کے صوبے جنوبی اوسیٹیا کے روس کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ علاقہ انیس سو نوّے کی دہائی سے عملاً خودمختار ہے۔ جنوبی اوسیٹیا میں کئی لوگوں کے پاس روسی پاسپورٹ ہیں۔ جورجیا کی اس علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک عرصے سے علیحدگی پسندوں سے لڑائی جاری ہے۔ حالیہ کشیدگی کے بعد روس نے جنوبی اوسیٹیا اور ابخاریہ کو بطور آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ روسی پارلیمان نے باقاعدہ متفقہ طور پر جورجیا کے دو صوبوں ابخازیہ اور جنوبی اوسیٹیا کی مکمل آزادی کی حمایت کی تھی۔ |
اسی بارے میں ’روس فائر بندی نافذ کرے گا‘16 August, 2008 | آس پاس روس اپنی فوج واپس بلائے: امریکہ15 August, 2008 | آس پاس روس کو امریکہ کی وارننگ14 August, 2008 | آس پاس روسی فوج جورجیا میں داخل ہوگئی11 August, 2008 | آس پاس جورجیا: کئی حصوں پر روسی قبضہ11 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||