ایران کے جوہری پروگرام پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے نے کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کو دور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ اپنی تازہ ترین رپورٹ میں اقوام متحدہ کے اس ادارے نے کہا ہے وہ ایران کی ماضی میں جوہری سرگرمیوں کے بارے میں اندازہ لگانے میں ناکام ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کی جانی چاہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے جبکہ یورپی طاقتیں اس پر جوہری ہتھیار بنانے کا الزام عائد کرتی ہیں۔ آئی اے ای اے نے کہا کہ ایران اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کے ساتھ تعاون کرنے سے گریز کر رہا ہے۔ اس سال مئی میں ائی اے ای اے نے کہا تھا کہ تہران جوہری ہتھیار بنانے اور یورینیم اور بارود ٹیسٹ کرنے کے منصوبوں کےبارے میں معلومات چھپپا رہا ہے۔ آئی اے ای اے نے ایران میں چند انتہائی حساس تنصیبات ان سے متعلق حکام اور کچھ دستاویزات تک رسائی کا مطالبہ کیا تھا تاکہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں صحییح اندازہ لگا سکے۔ لیکن اس کے مطابق ایران نے یہ مطالبہ نظر انداز کر دیا۔ آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے خلاف ایران یورینیم کی افزودگی کے لیے نئے سینٹری فیوجز نصب کر رہا ہے۔ ایران کےنوتیز کی جوہری تنصیب میں تین ہزار آٹھ سو سینٹری فیوجز نصب ہیں جن سے یورینیم کی افزودگی کا کام ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مئی میں ان کی تعداد صرف تین سو تھی۔ | اسی بارے میں ایران جوہری پروگرام پر قائم23 July, 2008 | آس پاس ایران:ڈیڈ لائن گزر گئی جواب ندارد02 August, 2008 | آس پاس ایٹمی مذاکرات پر سنجیدہ: ایران03 August, 2008 | آس پاس ایران، ہاوئیر سولانا سے بات چیت04 August, 2008 | آس پاس ایران: ’انوکھے ہتھیار کا تجربہ‘04 August, 2008 | آس پاس آئی اے ای اے نائب ایران میں 07 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||