آئی اے ای اے نائب ایران میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے کے نائب سربراہ اولی ہینونن ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے تہران پہنچ گئے ہیں۔ بدھ کے روز چھ عالمی طاقتوں نے اپنے مذاکرات میں ایران پر پابندیاں مزید سخت کرنے پر اتفاق کر لیا تھا۔ ایران نے اس ہفتے مختلف مراعات کے بدلے میں اپنا جوہری پروگرام منجمد کرنے کے حوالے سے فیصلے کے آخری دن تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ فرانس امریکہ اور برطانیہ ایران پر نئی پابندیاں لگانے کے حق میں ہیں جبکہ روس کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ایران سے ابھی مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا عالمی جوہری توانائی کے نائب سربراہ اولی ہینونن ان مراعات کے حوالے سے ایران سے بات چیت کریں گے یا نہیں۔ آئی اے ای اے اس وقت ایران کی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا ہے اور یہ معلوم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے کہ آیا ایران کا جوہری پروگرام اس کے دعوے کے مطابق پرامن مقاصد کے لیے ہے یا اسے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اس پر تیسرے مرحلے کی پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دی تھی۔ اس کے بعد ایران نے یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت میں زبردست اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مغربی دنیا یہ شبہ ظاہر کرتی رہی ہے کہ ایران در پردہ جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ادھر ایران ان الزامات کو رد کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی کو اپنا حق قرار دیتا ہے اور ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ | اسی بارے میں ایٹمی مذاکرات پر سنجیدہ: ایران03 August, 2008 | آس پاس ایران میزائل تجربہ، امریکہ کی مذمت09 July, 2008 | آس پاس ایران پرحملے کی ’پیشگی‘ مشق 20 June, 2008 | آس پاس اسرائیل کا حملہ ناممکن: ایران22 June, 2008 | آس پاس حملے کا جواب دیا جائے گا: ایران 07 February, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||