BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 August, 2008, 20:52 GMT 01:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جورجیا تنازعہ: پوتن کا امریکہ پر الزام
 روسی وزیراعظم
امریکہ نے روسی وزیراعظم کے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے
روس کے وزیراعظم ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ انہیں شک ہے کہ امریکہ نے داخلی سیاسی مقاصد کے تحت جورجیا میں تصادم کو ہوا دی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے جنوبی اوسیٹیا کے جنگجوؤں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے علاقے کی سرحد کے قریب رہنے والے جورجیائی باشندوں کو بےگھر کیا ہے۔

امریکی نیوز چینل سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے پوتن نے کہا کہ امریکی شہری جنوبی اوسیٹیا کے تنازعے کے دوران اس ’علاقے میں موجود تھے‘ اور’اپنے رہنماؤں سے براہِ راست احکامات لے رہے تھے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’ہمارے پاس یہ سوچنے کی وجوہات موجود ہیں کہ امریکی شہری جنگ زدہ علاقے میں موجود تھے اور اگر یہ سچ ہے اور اس کی تصدیق ہو جاتی ہے، تو پھر یہ بہت ہی خطرناک بات ہے اور یہ غلط پالیسی ہے‘۔

پوتن کا کہنا تھا کہ ان کے عسکری حکام نے انہیں بتایا کہ اس معاملے کو ہوا دینے کا مقصد ایک امریکی صدارتی امیدوار کو فائدہ پہنچانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ’اگر یہ سچ ہے، تو پھر واقعات کا امریکہ کے اندرونی معاملات سے بھی کچھ تعلق ہو سکتا ہے۔ اگر میرا خیال درست نکلتا ہے، تو پھر یہ شک پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ سے کوئی جان بوجھ کر یہ تصادم کروا رہا ہے، جس کا مقصد کشیدگی بڑھانا اور امریکی صدر کے عہدے کے لیے ایک امیدوار کو فائدہ پہنچانا ہے‘۔

امریکہ نے روسی وزیراعظم کے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے اور وائٹ ہاؤس کی ترجمان ڈینا پرینو نے کہا ہے کہ ولادیمیر پوتن کا یہ کہنا بالکل جھوٹ ہے اور ان کے خیال میں ان کے دفاعی حکام انہیں صحیح مشورے نہیں دے رہے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے جنوبی اوسیٹیا کے ملیشیا گروپ پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے جورجیا کے شہرگوری میں بوڑھے جورجیائی افراد کو ان کے گھروں سے نکل جانے پر مجبور کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی یو این ایچ سی آر کی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ جنگ کے دوران گوری کے علاقے میں صرف بوڑھے لوگ ہی وہاں موجود تھے اور اب انہیں بھی جنوبی اوسیٹیا کے مسلح گروہ وہاں سے نکل جانے پر مجبور کر رہے ہیں۔

گوری کے چند رہائشیوں نے بتایا ہے کہ انہیں مارا پیٹا گیا اور ان کے گھروں کو لوٹا بھی گیا۔ ہیومن رائٹس واچ نے یورپی یونین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس علاقے میں اپنا مشن بھیجے تاکہ شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد