BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 August, 2008, 22:48 GMT 03:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی‘
جورجیا کے وہ تمام خدشات پوری دنیا کے سامنے حقیقیت بن گئے جن کو عالمی برادری کچھ روز پہلے تک تسلیم نہیں کررہی تھی: صدر جورجیا
یورپی اتحاد نے روس کی جانب سے جورجیا کے علیحدگی اختیار کرنے والے دونوں علاقوں ابخازیہ اور جنوبی اوسیتیا کی آّزادی تسلیم کرنے کو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

جبکہ جورجیا کے صدر میخیل شاکاشویلی نے کہا ہے کہ روسی فیصلے سے بالآخر جورجیا کے وہ تمام خدشات پوری دنیا کے سامنے حقیقیت بن گئے جن کو عالمی برادری کچھ روز پہلے تک تسلیم نہیں کررہی تھی۔

روس نے جورجیا سے علیحدگی اختیار کرنے والے علاقوں جنوبی اوسیتیا اور ابخازیہ کو بطور آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے پہلے روسی پارلیمان نے پیر کو متفقہ طور پر جورجیا کے دو صوبوں ابخازیہ اور جنوبی اوسیٹیا کی مکمل آزادی کی حمایت کی تھی۔

روسی اعلان کے بعد میخیل شاکاشویلی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا
’روس ہمیشہ سے ان علاقوں کو اپنے ساتھ ضم کرنے پر کام کررہا تھا بس فرق یہ تھا کہ دنیامیں کوئی بھی ہماری بات نہیں سن رہا تھا۔ کم سے کم اب تو لوگ ہماری بات مان رہے ہیں۔ انہوں نے ساری بات دیکھ لی ہے اور ساری بات سمجھ لی ہے کہ کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا۔ لہٰذا اب روسیوں کو ثالث اور غیرجانبدار نہیں قرار دیا جاسکتا‘۔

روسی اعلان کی فوری طور پر یورپی اتحاد کے ملکوں اور روس کے پڑوسی یوکرین کی جانب سے مذمت کی گئی تھی۔ جورجیا کی مانند یوکرین بھی معاہدۂ شمالی اوقیانوس یا نیٹو میں شمولیت کا خواہشمند ہےاور اس کے تعلقات بھی روس کے ساتھ کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہیں۔

اپنے ردعمل میں فرانسیسی وزیرخارجہ برنرڈ کوچنر نےخدشہ ظاہر کیا اور کہا کہ روس کا ایک اور اہم مقصد یوکرین کا روسی زبان بولنے والا علاقہ کریمیا ہوسکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے دوسرے ملکوں کی خودمختاری کی یہ خلاف ورزی برداشت نہیں کی جاسکتی۔

ان کا کہنا تھا یور پی اتحاد بین الاقوامی اور یورپی قوانین اور معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اس خلاف ورزی کو نہیں مان سکتا ۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ان دونوں خطوں کی آزادی کو تسلیم کیا جانا جورجیا کی علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگا۔

واضح رہے کہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے ساتھ انیس سو اکیانوے بانوے میں آزادی کی جنگ کے بعد جنوبی اوسیٹیا اور ابخازيہ نے خود مختاری کا اعلان کردیا تھا لیکن ابھی تک کسی بھی بیرونی ملک نے انہیں آزاد ممالک کے طور پر قبول نہیں کیا تھا جبکہ روس ان دونوں خطوں کو اقتصادی اور سفارتی امداد اور فوجی تحفظ فراہم کرتا رہا ہے۔

گوریآنکھوں دیکھا حال
جورجیا کے شہر گوری میں بدلتا ہوا ماحول
لڑائی اور نقل مکانی
جنوبی اوسیٹیا کا بحران: تصویروں میں
اوسیٹیا میں لڑائیاوسیٹیا میں لڑائی
لڑائی جلد روکنے کے لیے کوئی جادوئي چھڑی نہیں
اوسٹیاجورجیا مسئلہ ہے کیا
جنوبی اوسیٹیا والے جورجیا سے آزادی چاہتے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد