BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 July, 2008, 07:46 GMT 12:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترکی بغاوت، سابق فوجی حراست میں
سینر ارویگور
سینر ارویگور نے حکومت محالف ریلی کے انعقاد میں مدد کی تھی
ترکی میں حکومت کے خلاف بغاوت کے الزام میں دو سینیئر سابق فوجی جرنیلوں کو تحویل میں لیاگیا ہے۔ اس بارے میں پوچھ گچھ کے لیے فوجیوں کی یہ پہلی گرفتاری ہوگی۔

لیکن ان سابق فوجی افسروں نے تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

منگل کے روز پولیس کی چھاپے کی کارراوئی میں جن اکیس افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں سینر ارویگور اور ہرست تولون فوج کے اعلی عہدوں پر رہ چکے ہیں۔

گرفتار کیےگئے تمام افراد کا سخت گیر قوم پرست جماعت ایرجنیکون سے تعلق ہونے کا شک ہے۔

دونوں سابق فوجی حکومت پر نکتہ چینی کے لیے جانے جاتے ہیں اور ان میں سے ارویگور نےگزشتہ برس حکومت مخالف ریلیوں کو منظم کرنے میں مدد بھی کی تھی۔

جنرل ارويگور کے وکیل نے قومی نیوز ایجنسی انتولیہ کو بتایا ہے کہ ’ ایک کمانڈر جس نے اپنے ملک کی کئی برس تک خدمت کی ہے اسے غلط الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، ہم اس میں سے کسی بھی الزام کو قبول نہیں کرتے ہیں۔‘

جنرل تولونا کے وکیل اوزگر میرک تونا نے کہا ہے کہ ان کے موکل کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہے اور ان کی رہائی کے لیے وہ اپیل دائر کریں گے۔

اکیس میں سے آٹھ افراد، بشمول ایک بڑے تاجر کو، اب باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ایک صحافی سمیت پانچ کو جمعہ کے دن رہا کردیا گیا تھا۔ انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے اور ان کے خلاف مقدمہ چلےگا۔

استنبول کے ایک مکان میں دھماکہ خیز مادہ ملنے کے بعد پولیس نےگزشتہ برس جون میں ایرجنیکون پارٹی کے سرگرمیوں کے متعلق تفتیش شروع کی تھی۔

ترکی میں ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے منگل کے روز کی چھاپے کی کارروائی میں پولیس نےایک خفیہ منصوبے کا پتہ چلایا ہے۔ اس منصوبے کے تحت جولائی کے مہینے میں تمام صوبوں میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے کرنا، خاص افراد کو قتل کا نشانہ بنانا اور سکیورٹی فورسز کے خلاف جھڑپیں کرنا شامل تھا۔

یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت عمل میں آئی ہیں جب حکمراں اے کی پی جماعت عدالت میں ان الزامات کے دفا‏ع کی کوشش میں کہ وہ ملک میں اسلامی شعار متعارف کرانا چاہتی ہے اس لیے اس پر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ حکمراں جماعت نے ان الزمات کی ترید کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد