ترکی بغاوت، سابق فوجی حراست میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی میں حکومت کے خلاف بغاوت کے الزام میں دو سینیئر سابق فوجی جرنیلوں کو تحویل میں لیاگیا ہے۔ اس بارے میں پوچھ گچھ کے لیے فوجیوں کی یہ پہلی گرفتاری ہوگی۔ لیکن ان سابق فوجی افسروں نے تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ منگل کے روز پولیس کی چھاپے کی کارراوئی میں جن اکیس افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں سینر ارویگور اور ہرست تولون فوج کے اعلی عہدوں پر رہ چکے ہیں۔ گرفتار کیےگئے تمام افراد کا سخت گیر قوم پرست جماعت ایرجنیکون سے تعلق ہونے کا شک ہے۔ دونوں سابق فوجی حکومت پر نکتہ چینی کے لیے جانے جاتے ہیں اور ان میں سے ارویگور نےگزشتہ برس حکومت مخالف ریلیوں کو منظم کرنے میں مدد بھی کی تھی۔ جنرل ارويگور کے وکیل نے قومی نیوز ایجنسی انتولیہ کو بتایا ہے کہ ’ ایک کمانڈر جس نے اپنے ملک کی کئی برس تک خدمت کی ہے اسے غلط الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، ہم اس میں سے کسی بھی الزام کو قبول نہیں کرتے ہیں۔‘ جنرل تولونا کے وکیل اوزگر میرک تونا نے کہا ہے کہ ان کے موکل کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہے اور ان کی رہائی کے لیے وہ اپیل دائر کریں گے۔ اکیس میں سے آٹھ افراد، بشمول ایک بڑے تاجر کو، اب باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ایک صحافی سمیت پانچ کو جمعہ کے دن رہا کردیا گیا تھا۔ انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے اور ان کے خلاف مقدمہ چلےگا۔ استنبول کے ایک مکان میں دھماکہ خیز مادہ ملنے کے بعد پولیس نےگزشتہ برس جون میں ایرجنیکون پارٹی کے سرگرمیوں کے متعلق تفتیش شروع کی تھی۔ ترکی میں ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے منگل کے روز کی چھاپے کی کارروائی میں پولیس نےایک خفیہ منصوبے کا پتہ چلایا ہے۔ اس منصوبے کے تحت جولائی کے مہینے میں تمام صوبوں میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے کرنا، خاص افراد کو قتل کا نشانہ بنانا اور سکیورٹی فورسز کے خلاف جھڑپیں کرنا شامل تھا۔ یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت عمل میں آئی ہیں جب حکمراں اے کی پی جماعت عدالت میں ان الزامات کے دفاع کی کوشش میں کہ وہ ملک میں اسلامی شعار متعارف کرانا چاہتی ہے اس لیے اس پر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ حکمراں جماعت نے ان الزمات کی ترید کی ہے۔ | اسی بارے میں سکارف: اردگان نے اجلاس طلب کر لیا06 June, 2008 | آس پاس ترکی: حجاب پہننے کی اجازت ختم05 June, 2008 | آس پاس حکمراں جماعت پر پابندی کا مطالبہ15 March, 2008 | آس پاس کرد باغی ہتھیار پھینک دیں: ترکی01 March, 2008 | آس پاس ترک فوج کا عراقی کرد سے انخلاء29 February, 2008 | آس پاس عراق: فوری انخلاء سے ترکی کا انکار28 February, 2008 | آس پاس ترکی:’ہلکاحجاب، نہ برقع، نہ چادر‘09 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||