دوری مٹانے کے لیے مشترکہ کھانا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار باراک اوباما اور پرائمری انتخابات میں ان کی حریف ہیلری کلنٹن نے واشنگٹن میں فنڈ اکھٹا کرنے کے لیے ایک مشترکہ ڈنر کا احتمام کیا ہے۔ ڈنر کا مقصد ڈیموکریٹک پارٹی کے اتحاد کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ خاص طور سے پرائمری انتخابات میں اوباما اور ہیلری کلنٹن کے درمیان پیدا ہونے والی ان تلخیوں کے بعد یہ مشترکہ ڈنر اہمیت کا حامل ہے اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ باراک اوباما ہیلری کلنٹن کے حمایتوں کی سپورٹ لینے اور خود کلنٹن خاندان ے رشتے بہتر کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایک بار جب سابق صدر بل کلنٹن بھی اوباما کی حمایت میں آگے آئیں تو باراک اوباما کو اس دوستی کا فائدہ ضرور حاصل ہو گا۔ باراک اوباما نے کہا ہے کہ وہ ہیلری کلنٹن کی پرائمری انتخابات کے دوران چلائی جانے والے مہم کے لیے حاصل کردہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے ذاتی طور پر دو ہزار تین سو ڈالر کا چندہ دیں گے۔امریکہ کا قانون انتخابات کے دوران دیئے جانے والے چندوں کی یہ ہی حد مقرر ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنے امیر حامیوں سے ایسا ہی کرنے کے لیے بات کریں گے۔ جب اوباما نے اس مدد کا اعلان کیا تو ان کے حمایتوں نے اس کا پرجوش استقبال کیا۔
جمعہ کو نیو ہمیسپئر میں پہلی بار ایک مشترکہ ریلی میں ہیلری کلنٹن اوباما کو صدر کے عہدے کے لیے حمایت فراہم کرنے کا اعلان کریں گی۔ نیو ہمیسپئر میں پرائمری انتخابات کے دوران دونوں امیدواروں کو ایک سو سات ایک سو سات ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ رائے عامہ کے تازہ جائزئے اس بات کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ جہاں باراک اوبامہ کلنٹن کے حمایتوں کی حمایت حاصل کرنے میں ہوئے ہیں وہیں پانچ میں سے ایک حمائتی رپبلکن امیدوار جان مکین کو ووٹ دینے کی بات کررہا ہے۔ واشنگٹن کے عوام سے باراک اوباما نے کہا کہ ’مجھے اپنی انتخابی مہم میں ہیلری کلنٹن اور آپ سب کی ضرورت ہے۔ ‘ حالانکہ ہیلری کے مشیروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہیلری کو اپنے قرض ادا کرنے کے لیے گرمیوں میں مہم چلانی ہے تو وہ اوباما کی انتخابی مہم میں ایک حد تک ہی کام کرسکتی ہیں۔ ہیلری کلنٹن نے پرائمری میں اپنی انتخابی مہم جاری رکھنے کے لیے 20 ملین ڈالر سے زیادہ کا قرض لیا تھا جو انہیں اب چکانا ہے۔ ہیلری کلٹن نے عطیات دینے والوں سے کہا ہے کہ وہ اوباما کو انتخابات جتوانے کو پہلی ترجیج بنائیں۔ حالانکہ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ پرائمری انتخابات کی مہم کے دوران دونوں نے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالی تھی۔ ان کا کہنا تھا ’پرائمری انتخابات کی مہم زبردست تھی۔خوب لڑائی ہوئی اور اسی وجہ سے یہ مہم اتنی دلچسپ رہی۔ ‘ ان کا مزید کہنا تھا ’مجھے پتہ ہے کہ میرے اور باراک کے حامیوں کے جذبات ہم سے جڑے ہیں۔ لیکن اب ہم ایک خاندان کی طرح ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم لوگوں کو یہ بتا پائیں کہ وائٹ ہاؤس میں واپس جانے کے لیے ہم کیا کرسکتے ہیں۔‘ |
اسی بارے میں ’ہیلری انتخابی مہم تاریخی تھی‘08 June, 2008 | آس پاس ہیلری کی مقبولیت، اوبامہ کی ضرورت07 June, 2008 | آس پاس فلوریڈا، مشیگن ارکان کا ووٹ آدھا01 June, 2008 | آس پاس ڈیموکریٹک امیدوار فلوریڈا میں22 May, 2008 | آس پاس اوباما کی حمایت کا اعلان 15 May, 2008 | آس پاس مغربی ورجینیا میں ہلیری’فاتح‘14 May, 2008 | آس پاس باراک اوبامہ کی ایک اور فتح04 May, 2008 | آس پاس ہلری کلنٹن کی اہم ریاست میں جیت23 April, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||