اسلام آباد حملہ، ہم نے کیا: القاعدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیٹ پر القاعدہ کے مبینہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ڈنمارک کے سفارتخانے پر بم حملے کی ذمہ دار القاعدہ تھی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈنمارک کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ اس نے توہین آمیز خاکوں کے لیے معافی نہیں مانگی تھی۔ بیان میں حملے کو ایک ’کافر سرکار کے خلاف انتقامی کارروائی‘ قرار دیا گیا۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر شائع بیان مبینہ طور پر افغانستان میں سرگرم القاعدہ کے رہنما مصطفی ابو الزید کی طرف سے آیا ہے۔ اس بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بہت جلد اس حملے کے ذمہ دار خودکش بمبار کا ریکارڈ شدہ پیغام بھی جاری کر دیا جائے گا۔ پیر کے روز ہونے والے اس حملے میں کم سے کم چھ افراد ہلاک اور بیس سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ ادھر القاعدہ کے دوسرے اہم رہنما ڈاکٹر ایمن الزواہری کی طرف سے ایک مبینہ آڈیو بیان بھی انٹرنیٹ پر آیا ہے جس میں فلسطینی عسکریت پسندوں سے کہا گیا ہے کہ ان کو اسرائیل پر اپنے خودکش حملوں کو جاری رکھنا چاہیے۔ |
اسی بارے میں ’ایران نےنائن الیون جھوٹ پھیلایا‘23 April, 2008 | آس پاس ’اقوام متحدہ اسلام دشمن تنظیم ہے‘03 April, 2008 | آس پاس ایمبیسی دھماکہ، تحقیقات شروع03 June, 2008 | پاکستان ڈنمارک ایمبیسی کے قریب دھماکہ، چھ ہلاک02 June, 2008 | پاکستان سفارتخانوں کی منتقلی کی ہدایت 02 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||