BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 April, 2008, 01:31 GMT 06:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران نےنائن الیون جھوٹ پھیلایا‘
ایمن الظواہری
القاعدہ تنظیم کھلم کھلا تہران کی مخالفت کر رہی ہے
القاعدہ کے اہم رہنما ایمن الظواہری نے کہا ہے کہ نائن الیون میں یہودیوں کی شمولیت کے بارے میں ’جھوٹ‘ لبنانی شیعہ تنظیم حزب اللہ اور ایران نے پھیلایا تھا۔

’ افواہ شروع کرنے اور پھیلانے کا مقصد ایک تو یہ ظاہر کرنا تھا کہ اتنے بڑے کام کا سنّیوں میں کوئی ہیرو نہیں تھا اور دوسرے افغانستان پر امریکی حملے کے لیے ایرانی حمایت کی پردہ پوشی کرنا تھا‘۔

القاعدہ کے رہنماؤں سے انٹرنیٹ پر جو سینکڑوں سوال پوچھے گئے تھے ان کے جوابات کی آخری قسط میں ایمن الظواہری نےاس افواہ کے بارے میں جواب دیا ہے کہ امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملے اسرائیلی سازش کے نتیجے میں ہوئے تھے۔

ایمن الظواہری نے کہا کہ یہ افواہ حزب اللہ نامی تنظیم نے شروع کی تھی اور پھر تہران میں اس تنظیم کے بہی خواہوں نے اسے زور شور کے ساتھ پھیلایا۔

انہوں نے کہا کہ افواہ شروع کرنے اور پھیلانے کا مقصد یہ تھا کہ یہ خیال عام کیا جائے کہ سنّی اتنا بڑے کام کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران افغانستان پر امریکی حملے کے لیے ایرانی حمایت کی پردہ پوشی کرنا چاہتا تھا۔

القاعدہ کی تحریک کئی بارگیارہ ستمبر کی وارداتوں کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے لیکن اب ایمن الظواہری کے بیان سے یہ بات سامنے آگئی ہے کہ یہ تحریک کھلم کھلا تہران کی مخالفت کر رہی ہے۔

چند ہفتے پہلے عراق میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کی پانچویں سالگرہ کے موقعے پر ایمن الظواہری نے ایران پر الزام لگایا تھا کہ وہ جنوبی عراق اور جزیرہ نمائےعرب کے مشرقی حصوں کو اپنے علاقے میں شامل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

اس طرح کے پیغامات کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ پورے علاقے میں سنیوں کے اندیشوں کو ابھارا جائے اور یہ تاثر دیا جائے کہ القاعدہ تحریک تہران کے منصوبوں کے آگے ڈھال بن کر کھڑی ہو سکتی ہے۔

دوسرے سوالوں کے جواب میں ایمن الظواہری نے بتایا کہ القاعدہ تحریک میں کوئی عورت شامل نہیں ہے اور یہ کہ مسلمانوں کو بہت عرصے تک مغرب میں نہیں رہنا چاہیے ورنہ وہ کفار کے قوانین کو قبول کرنا شروع کر دیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد