BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 June, 2008, 00:34 GMT 05:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہلیری کلنٹن کی پورٹو ریکو میں فتح
ہلیری کلنٹن
ہلیری کلنٹن کی پورٹو ریکو میں کامیابی سے اوبامہ کی برتری پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا
امریکی ریاست پورٹو ریکو میں رائے رہندگان نے ہلیری کلنٹن کو ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار نامزد کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پورٹو ریکو میں ہلیری کلنٹن کی فتح کی اہمیت کافی حد تک علامتی ہے لیکن یہ کامیابی ان مندوبین کو ان کی حمایت پر آمادہ کر سکتی ہے جنہوں نے ابھی تک کسی بھی امیدوار کو ووٹ دینے کا فیصلہ نہیں کیا۔

تاہم ہلیری کلنٹن کی پورٹو ریکو میں بھاری اکثریت سے کامیابی سے ان کے مدِ مقابل باراک اوبامہ کی برتری پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔

باراک اوبامہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ منگل کو ساؤتھ ڈکوٹا اور مونٹانا میں ہونے والی رائے شماری کے بعد وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار نامزد ہو جائیں گے۔

دوسری طرف سینیٹر ہلیری کلنٹن نے ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ وہ ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کی نامزدگی کی اس دوڑ میں اپنی شکست تسلیم کر رہی ہیں اور کہا ہے کہ عوامی ووٹ میں ان کی برتری انہیں اس بات کا مینڈیٹ دیتی ہے کہ وہ میدان میں ڈٹی رہیں۔

سینیٹر ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کو سنیچر کے روز اس وقت دھچکا پہنچا تھا جب ڈیموکریٹک پارٹی کی رولز کمیٹی نے ریاست فلویڈا اور مشیگن کے مندوبین کے حق رائے دہی کو جزوی طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

رولز کمیٹی نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ فلوریڈا اور مشیگن کے رکن اگست میں صدارتی امیداور کے انتخاب کے لیے ہونے والے سالانہ پارٹی کنونشن میں شامل تو ہو سکتے ہیں لیکن ان کا ووٹ آدھا ہوگا۔

رولز کمیٹی کے فیصلے کے بعد ریاست مشیگن سے ہلیری کلنٹن کے حامی انہتر مندوبین کامیاب قرار دیئے گئے جبکہ باراک اوبامہ کے حصے میں انسٹھ ووٹ آئے۔ اِسی طرح فلوریڈا سے ہلیری کلنٹن کے حصے میں ایک سو پانچ ووٹ آئے جبکہ باراک اوبامہ کے حامی سڑسٹھ ارکان کامیاب ہوئے۔

ان دو ریاستوں میں ہلیری کلنٹن کی کامیابی کے بعد باراک اوبامہ کی سبقت کم ہو سکتی تھی لیکن ان ریاستوں سے منتخب ہونے والے مندوبین کے ووٹ کو آدھا قرار دیئے جانے سے یہ مقصد حاصل نہ ہو سکا۔

ہلیری کلنٹن کے حامیوں کا کہنا ہے کہ رولز کمیٹی کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں
اوباما فتح کے قریب تر
20 May, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد