دہشتگردی کا ملزم پیش ہوگیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں دہشتگردی کی حمایت کے مجرم قرار دیے جانے والے ایک مفرور شخص نے سزا سنائے جانے سے قبل خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ شاہ جلال حسین ان چھ افراد میں سے ایک ہیں جنہیں جمعرات کو دہشتگردی کے لیے فنڈ جمع کرنے اور بیرونِ ملک مقیم افراد کو دہشتگردی پر اکسانے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ المہاجرون نامی تنظیم سے تعلق رکھنے والے ان افراد کو جمعہ کو سزا سنائی جائے گی۔ پچیس سالہ شاہ جلال نے خود کو کنگسٹن کراؤن کورٹ میں حکام کے حوالے کیا۔ شاہ جلال کو ضمانت پر رہا کیا گیا تھا اور وہ آٹھ اپریل کو ہونے والی عدالتی کارروائی کے وقت سے غائب تھا۔ یاد رہے کہ جمعرات کو شاہ جلال کے جن پانچ ساتھیوں کو دہشتگردی سے متعلق جرائم کا مرتکب پایا گیا ہے ان میں مشرقی لندن میں ایک تقریب کے دوران سابق برطانوی سیکرٹری داخلہ جان ریڈ کی تقریر میں مداخلت کرنے والے
ان کا یہ مقدمہ ان کے اصل نام عمر بروکس کے نام پر چلایا گیا۔ عمر بروکس المعروف ابو عزالدین نے دو ہزار چار میں اسامہ بن لادن کے حق میں تقریر کی تھی اور انہیں عمر قید بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے عراق میں اتحادی فوج کے خلاف جہاد کے حق میں بھی تقریر کی تھی۔ دورانِ مقدمہ عدالت کو بتایا گیا کہ ان افراد نے یہ رقم عراق اور افغانستان میں جنگجوؤں کی مدد کے لیے جمع کیے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مسلمانوں کو بیرون ملک جا کر مسلح جنگ کرنے کی بھی ترغیب دی۔ جن دیگر افراد کو مجرم قرار دیا گیا ہے ان میں سے چھتیس سالہ سائمن کیلر کو دہشت گردی کے لیے فنڈ جمع کرنے اور بیرون ملک دہشت گردی پر اکسانے کے الزام میں سزا سنائی جائے گی جبکہ بتیس سالہ عبدالسلیم اور پچیس سالہ ابراہیم حسن کو دہشت گردی پر اکسانے کے الزام میں سزا سنائی جائے گی۔ ان دونوں کو دہشت گردی کے لیے فنڈ جمع کرنے کے الزام سے بری کر دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں طیارہ کیس: ملزمان نےویڈیوز بھی بنائیں04 April, 2008 | آس پاس گوانتانامو قیدی دوبارہ زیرِ حراست19 December, 2007 | آس پاس مشتبہ دہشت گرد کی اپیل07 December, 2005 | آس پاس لندن حملے: حامیوں پر بغاوت کے مقدمے07 August, 2005 | آس پاس ’بلیئر لندن دھماکوں کے ذمہ دار ہیں‘04 August, 2005 | آس پاس لندن پولیس کا اظہار افسوس23 July, 2005 | آس پاس ’چار دھماکوں کی کوشش کی گئی‘21 July, 2005 | آس پاس دہشت گردی پرنئے قوانین پر اتفاق19 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||