طیارہ کیس: ملزمان نےویڈیوز بھی بنائیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ان آٹھ افراد کو اگست دو ہزار سات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ یہ گھریلو ساخت کے ایسے بم تیار کررہے تھے جس میں مائع مواد کا استعمال کیا جانا تھا اور ان بموں سے لندن سے امریکہ کے سات مختلف شہروں کو جانے والی پرازوں کو دوران پرواز اڑانا تھا۔ یہ تمام افراد اپنے خلاف لگائے گئے الزامات سے انکار کرتے ہیں۔ لندن میں ان افراد کے خلاف جاری مقدمے کی کارروائی کے دوران عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ان میں سے چھ افراد نے اپنی ’ممکنہ‘ شہادت سے پہلے ویڈیو پر پیغام ریکارڈ کئے تھے۔ عدالت میں جیوری کے ممبران کو ایسی کئی ویڈیوز دکھائی گئیں یا ان کا متن دیا گیا جن میں یہ افراد ایک کالے جھنڈے کے سامنے جس پر عربی زبان میں کچھ لکھا گیا ہے، کھڑے ہوکر اپنا پیغام ریکارڈ کروا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص جس کا نام عمر اسلام بتایا گیا ہے، اپنے پیغام میں اپنے منصوبے کو امریکہ اور ’اس کے ساتھی برطانیہ اور یہودیوں‘ کے خلاف بدلہ قرار دیتا ہے۔ ایک اور شخص جسے عبداللہ احمد علی بتایا گیا ہے اپنے پیغام میں کہتا ہے کہ ’شیخ اسامہ (بن لادن) نے تم لوگوں کو کئی بار خبردار کیا تھا کہ اگر تم نے ہماری زمین نہ چھوڑی تو تم برباد کرد ئیے جاؤ گے۔ اور اب تمہاری بربادی کا وقت آگیا ہے۔‘ جیوری کو استغاثہ کی طرف سے ایک اور ملزم تنویر حسین کی ویڈیو بھی دکھائی گئی جس میں وہ اس خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ وہ ’یہ کام کرنے کے لئے بار بار واپس آسکے‘ اور اس وقت تک یہ کرتا رہے جب لوگوں کو ’باور ہوجائے کہ مسلمانوں کو تنگ کرنا ٹھیک نہیں۔‘ استغاثہ کے وکیل کیو سی پیٹر رائٹ کا کہنا تھا کہ اب اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ اسلام کے نام پر پرتشدد کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ایک اور ملزم اسد سرور کے گھر سے برآمد ہونے والی کمپیوٹر میموری سٹک سے یہ دریافت ہوا ہے کہ یہ افراد برطانیہ میں بھی کئی ٹارگٹس کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ مسٹر سرور کے گھر کے گیراج سے برآمد ہونے والی ایک اور میموری سٹک سے یہ بھی دریافت ہوا ہے کہ یہ افراد لندن میں کینری وارف، برطانیہ سے بیلجئیم جانے والی ایک گیس پائپ لائن، برطانیہ کے دیگر ائر پورٹس، ایسی کمپنیاں جو ہائیڈروجن پر آکسائیڈ سٹور کرتی ہیں، انٹرنیٹ سروس کی سہولت مہیا کرنے والی کمپنیاں، نیشنل پاور گرڈ اور آئل ریفائنریز کے بارے میں بھی غور کررہے تھے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ان افراد نےگھریلو ساخت کے بم بنانے کے لئے بہت سا خام مواد بھی اکھٹا کرلیا تھا جس میں اٹھارہ لیٹر ہائیڈروجن پر آکسائیڈ، سرنجز اور تاریں شامل تھیں۔ منصوبے کے مطابق ان مائع بموں کو کولڈ ڈرنک کی بوتلوں میں چھپا کر مسافر بردار طیاروں پر لے جانا تھا۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ لندن میں والتھم سٹو کے علاقے میں فوریسٹ روڈ پر ایک گھر کے اندر پولیس کے خفیہ آلات سے یہ بھی پتہ چلا کہ ان میں سے کچھ افراد اپنے بیوں بچوں کو بھی ان خودکش مشنز پر لے جانا چاہتے تھے۔ | اسی بارے میں پاکستانی پریس: مبینہ دہشتگردی منصوبہ 11 August, 2006 | پاکستان برطانیہ نہیں بھجوایا جا رہا: پاکستان15 August, 2006 | پاکستان ’پاکستان کی نہ تصدیق نہ تردید‘17 August, 2006 | پاکستان ہیتھرو:ایک تہائی پروازیں منسوخ13 August, 2006 | آس پاس لندن: دہشت گردی کے ملزمان کی پیشی22 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||