BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پلِ چرخی جیل میں ہنگامہ اور فائرنگ
اس جیل پر سخت پہرا ہوتا ہے
افغانستان میں سیکورٹی فورسز نے ملک کی سب سے بڑی اور انتہائی سخت پہرے والی پلِ چرخی جیل کو گزشتہ کئی دنوں سے جاری قیدیوں کی ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کے بعد مکمل طور پر سیل کر دیا ہے۔

کابل کے مضافات میں ایک وسیع رقبے پر انیس سو ستر کی دہائی میں تعمیر کی جانے والی اس جیل سے گزشتہ کئی دنوں سے گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

جیل سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جیل کے کئی حصوں پر قیدیوں کا قبضہ ہے اور انہوں نے جیل کے عملے کے دو ارکان کو بھی یرغمال بنا رکھا ہے۔

پلِ چرخی جیل میں جرائم پیشہ افراد کے علاوہ القاعدہ اور طالبان کے مشبہ ارکان کو بھی رکھا جاتا ہے۔

کابل میں ہمارے نامہ نگار کے مطابق قیدیوں کی ہنگامہ آرائی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال خراب ہوتی جا رہی ہے۔

ملک کی اس بدنام تریں جیل میں جہاں خطرناک ترین جرائم پیشہ افراد اور مشتبہ طالبان قید ہیں فوجی اور پولیس اہلکار بڑی تعداد میں طلب کیئے جا رہے ہیں۔

قیدیوں نے حکام کے خلاف احتجاج کے دوران جیل کے کئی حصوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

بی بی سی نے جیل کے اندر کئی قیدیوں سے موبائل فون پر بات کی جنہوں نے بتایا کہ اس احتجاج میں کئی قیدی زخمی ہو گئے ہیں۔

قیدیوں کا دعوی ہے کہ انہوں نے دو افغان فوجیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اگر اس تنازعے کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کاروں نے نہیں بھیجا گیا تو وہ ان کو ہلاک کر دیں گے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق فوجیوں کو یرغمال بنائے جانے کی خبر کی آزاد ذرائعے سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

افغان حکومت کی طرف سے اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے تاہم وزیر دفاع نے پارلیمنٹ میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ جیل کے کچھ حصوں پر قیدیوں کا قبضہ چھڑانے کے لیے کارروائی کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

جیل کا دورہ کرنے والے ایک رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ صورت حال بہت کشیدہ ہے۔

یہ صورت حال گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہے جب کچھ قیدیوں نےجیل توڑ کر فرار ہونے کی کوشش کی تھی جس کے بعدجیل پر ملاقاتیوں کی ایک بڑی تعداد کوگرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس جیل میں اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

چار سال قبل بھی کچھ قیدیوں کی طرف سےجیل سے فرار ہونے کی کوشش کےبعد فوج کو کارروائی کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
کابل میں خودکش حملہ
31 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد