BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 February, 2008, 01:49 GMT 06:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگلہ دیش:مونسون عارضی پناہگاہ میں
طوفان سے متاثرہ افراد
’مناسب پناہ گاہوں کی فراہمی کے لیے جلد منصوبہ بندی کرنا ہو گی‘
بین الاقوامی خیراتی ادارے آکسفیم کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں گزشتہ نومبر میں آنے والے سمندری طوفان سے متاثرہ تیرہ لاکھ سے زیادہ افراد آنے والے مون سون کا مقابلہ عارضی پناہ گاہوں میں ہی کریں گے۔

صدر سمندری طوفان سے بنگلہ دیش میں تین ہزار پانچ سو افراد مارے گئے تھے جبکہ لاکھوں بےگھر ہوئے تھے۔ اس طوفان سے ہزاروں دیہات متاثر ہوئے تھے اور پانی اور بجلی کی فراہمی کا نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔

بنگلہ دیش میں تنظیم کے سربراہ ہیدر بلیک ویل کا کہنا ہے کہ’ تیرہ لاکھ سے زائد افراد نامناسب پناہ گاہوں میں مون سون کا سامنا کریں گے۔ ایک بار قدرت کے قہر کا شکار ہونے کے بعد جلد ہی انہیں اس کا دوبارہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ’یہ بہت ضروری ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت اور اقوامِ متحدہ سمیت عالمی برادری ان افراد کو مناسب پناہ فراہم کرنے کے لیے کوئی منصوببہ بندی کرے‘۔

آکسفیم کے مطابق اب تک اس نے بنگلہ دیش کے پانچ متاثرہ ترین اضلاع میں موجود ایک لاکھ ترانوے ہزار افراد کی مدد کے لیے سات ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔

اسی بارے میں
1500ہلاک، امدادی کام جاری
17 November, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد