بنگلہ دیش:مونسون عارضی پناہگاہ میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی خیراتی ادارے آکسفیم کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں گزشتہ نومبر میں آنے والے سمندری طوفان سے متاثرہ تیرہ لاکھ سے زیادہ افراد آنے والے مون سون کا مقابلہ عارضی پناہ گاہوں میں ہی کریں گے۔ صدر سمندری طوفان سے بنگلہ دیش میں تین ہزار پانچ سو افراد مارے گئے تھے جبکہ لاکھوں بےگھر ہوئے تھے۔ اس طوفان سے ہزاروں دیہات متاثر ہوئے تھے اور پانی اور بجلی کی فراہمی کا نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔ بنگلہ دیش میں تنظیم کے سربراہ ہیدر بلیک ویل کا کہنا ہے کہ’ تیرہ لاکھ سے زائد افراد نامناسب پناہ گاہوں میں مون سون کا سامنا کریں گے۔ ایک بار قدرت کے قہر کا شکار ہونے کے بعد جلد ہی انہیں اس کا دوبارہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’یہ بہت ضروری ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت اور اقوامِ متحدہ سمیت عالمی برادری ان افراد کو مناسب پناہ فراہم کرنے کے لیے کوئی منصوببہ بندی کرے‘۔ آکسفیم کے مطابق اب تک اس نے بنگلہ دیش کے پانچ متاثرہ ترین اضلاع میں موجود ایک لاکھ ترانوے ہزار افراد کی مدد کے لیے سات ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ | اسی بارے میں بنگلہ دیش متاثرین: امداد میں تاخیر 21 November, 2007 | آس پاس مزیدامداد کی اپیل، 3100 ہلاکتیں20 November, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش طوفان: 2300 افراد ہلاک 19 November, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش:ہلاکتوں میں اضافہ19 November, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: ہلاکتیں دو ہزار ہوگئیں18 November, 2007 | آس پاس 1500ہلاک، امدادی کام جاری17 November, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||