یورپی یونین، معاہدے پر دستخط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین کے رکن ممالک کے سربراہان نے پرتگال کے دارالحکومت لسبن میں ایک معاہدے پر دستخط کیئے ہیں جس کے تحت ستائیس ممالک پر مشتمل اس ادارے کے کام کرنے کا طریقے کار واضح طور پرتبدیل ہو جائے گا۔ اس معاہدے کے تحت یورپی یونین کے صدر کا باقاعدہ عہدہ قائم کیا جائے گا اور خارجہ امور کے چیف کو مزید بااختیار بنایا جائے گا۔ معاہدے کی دستاویز پر ایک پر وقار تقریب میں دستخط کیئے گئے جو شہر کی ایک تاریخی مذہبی عمارت میں منعقد کی گئی۔ اس معاہدے میں بہت سے پالیسی امور پر ویٹو کے اختیارات کو ختم کر دیا گیا۔ یہ معاہدہ یورپی یونین کے آئین کا متبادل ہو گا جو فرانس اور ہالینڈ کی مخالفت کے بعد رد کر دیا گیا تھا۔ یورپی یونین کے رہنماؤں کا اصرار ہے کہ دونوں دستاویزات بہت مختلف ہیں۔ تاہم لسبن معاہدے میں مجوزہ آئین کی کچھ اصلاحات شامل ہیں اور اس بارے میں کچھ رکن ممالک کی حکومتیں اندرونی دباؤ کا شکار ہیں۔
اس تقریب میں یورپی کمیشن کے صدر جوزے مینول باروسو نے رکن ممالک کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کو آزادی، خوشحالی اور یکجہتی کو تمام رکن ملکوں کے شہریوں کے لیے ایک حقیقت بنانے کے لیے استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ پرانے برے اعظم سے ایک نئے یورپ نے جنم لیا ہے۔ یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک پرتگال کے وزیر اعظم جوزے سوکریٹیز نے کہا کہ اس معاہدے سے ایک جدید، مؤثر اور جمہوری یونین بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کو ایک مضبوط یورپ کی ضرورت ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن جو اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے تھے انہوں نےبعد میں اس معاہدے پر دستخط کیے۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے گورڈن براؤن کی جگہ اس تقریب میں برطانیہ کی نمائندگی کی۔ برطانیہ میں حزب اختلاف کی جماعت قدامت پسند پارٹی نے گورڈن براؤن پر الزام لگایا ہے کہ ان میں اتنی سیاسی جرات نہیں ہے کہ وہ ایک ایسے معاہدے پر دستخط کریں جس کی ملک میں عوامی سطح پر مخالفت ہے۔ ائرلینڈ یورپی یونین کا واحد ملک ہے جو اس پر ریفرنڈم کرانے کا ارادہ رکھتا ہے حالانکہ ائرلینڈ میں بہت سے وٹر یا تو اس بارے میں عدم فیصلے کا شکار ہیں یا اس سے لاتعلق ہیں۔ برطانیہ، ڈینمارک اور ہالینڈ کی پارلیمان پر اس اڑہائی سو صفحات پر مشتمل نئے معاہدے پر سخت تنقید اور تند و تیز بحث کی توقع ہے۔ تاہم جرمنی، فرانس اور ہالینڈ نے کہا کہ وہ اس معاہدے کی توثیق میں دیر نہیں لگائیں گے تاکہ نئی اصلاحات کا سن دو ہزار نو سے اطلاق ہو سکے۔ ان اصلاحات سے فیصلے کرنے کا عمل سہل ہو جائے گا اور ان کی وجہ سے رکن ملکوں کو حاصل پچاس مختلف معاملات میں ویٹو کرنے کی طاقت ختم ہو جائے گی جن میں پولیس اور عدالتی تعاون بھی شامل ہے۔ | اسی بارے میں ’گوانتانامو قیدخانہ بند کر دیں گے‘21 June, 2006 | آس پاس فلسطین: متحدہ حکومت بنائیں گے15 September, 2006 | آس پاس ’امریکہ کی مدد مگر کس حد تک‘31 January, 2007 | آس پاس PIA کے بارے یورپ میں تشویش23 February, 2007 | آس پاس سورج اور ہوا سے توانائی پر اتفاق 12 March, 2007 | آس پاس یورپی یونین اور امریکہ کی تنقید 24 September, 2007 | آس پاس افریقہ یورپ کا ’تاریخی باب شروع‘09 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||