BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 February, 2007, 22:35 GMT 03:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
PIA کے بارے یورپ میں تشویش
پی آئی اے جہاز
’پی آئی اے کے صرف سات جہازوں کو یورپ میں پرواز کی اجازت ہو گی‘
پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کے بیڑے میں شامل بیشتر جہازوں کو یورپی یونین کی طرف سے اس کے ستائیس رکن ممالک میں پرواز کے لیے غیر موزوں قرار دیے جانے کا امکان ہے۔

اطلاعات کے مطابق یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے ایوی ایشن کے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی نے جمعہ کو برسلز میں ہونے والے اپنے ایک اجلاس میں کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے بیڑے میں شامل چالیس میں سے تینتیس جہاز فضائی سفر کے بین الاقوامی حفاظتی معیار پر پورا نہیں اترتے۔

پی آئی اے کے جہاز فرانس، برطانیہ، ہالینڈ اور اٹلی سمیت یورپ کے کئی ممالک کے لیے پرواز کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے یورپی یونین کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے کے صرف سات جہازوں کو یورپ میں پرواز کرنے کی اجازت ہو گی، جبکہ باقی تمام کو ’بلیک لِسٹ‘ کیے جانے کا امکان ہے۔

بہتری کی کوششیں
 پی آئی اے یورپی یونین کے اعتراضات دور کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے، جو زیادہ تر دیکھ بھال اور پرانے جہازوں کے بارے میں ہیں
پاکستانی سفارتکار

رائٹرز کے مطابق کراچی میں پی آئی اے کے ترجمان نے اس صورتحال پر یہ کہہ کر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ اس وقت تک کوئی بات نہیں کریں گے جب تک کہ یورپی یونین کی طرف سے انہیں تحریری طور پر آگاہ نہیں کیا جاتا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ماہرین کی آراء سامنے آنے کے بعد معاملے کو عام طور پر دس روز کے اندر یورپی کمیشن میں زیر بحث لایا جاتا ہے اور اس کی طرف سے کیا گیا فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوتا ہے۔

برسلز میں ایک پاکستانی سفارتکار نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے یورپی یونین کے اعتراضات دور کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے، جو زیادہ تر دیکھ بھال اور پرانے جہازوں کے بارے میں ہیں۔

جمعہ کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں بھی پی آئی اے کی کارکردگی پر بحث ہوئی تھی اور وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال نے ایوان کو بتایا تھا کہ پچھلے چھ ماہ میں قومی ایئر لائن کی اندرون و بیرون ملک جانے والی 863 پروازیں فنی، تجارتی اور آپریشنل وجوہات کی بنا پر منسوخی یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔

یورپی حدود میں فضائی سفر کو محفوظ بنانے کے لیے یورپی یونین نے پچھلے سال تقریباً سو کے قریب ایئر لائنز پر پابندی لگائی تھی، جن میں سے اکثریت کا تعلق افریقی ممالک سے تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد