پی آئی اے فلائٹ، برطانوی الرٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سکیورٹی الرٹ کی وجہ سے برطانوی فضائیہ کے دو لڑاکا طیارے پاکستان سے آنے والے ایک جمبو جیٹ کا مانچسٹر کے چالیس میل کے اطراف میں پیچھا کرتے رہے۔ یہ سکیورٹی الرٹ گزشتہ جمعہ کو اس وقت جاری کیا گیا جب برطانوی ایئر ٹریفک کنٹرول نے بتایا کہ لاہور سے آنے والی پی آئی اے فلائٹ سے رابطہ نہیں ہورہا۔ بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق برطانوی لڑاکا طیارے پاکستانی مسافر طیارے کا مانچسٹر کی جانب سفر کے دوران اس وقت تک پیچھا کرتے رہے جب تک پائلٹ نے ہوائی اڈے سے رابطہ نہیں کیا۔ پاکستانی طیارے پر اکیاسی مسافر سوار تھے۔ بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق نیدرلینڈ کے ماسٹرِچ ہوائی اڈے کے ٹریف کنٹرول کا پی آئی اے کی فلائٹ پی کے سات سو نو کے ساتھ اس وقت رابطہ ٹوٹ گیا جب وہ شمالی یورپ سے برطانیہ کی جانب رواں تھی۔ پی آئی اے کے طیارے کا برطانوی ایئر ٹریفِک کنٹرول سے اس وقت رابطہ ہوجانا چاہئے تھا جب وہ بحرشمالی کے اوپر سے گزر رہا تھا۔ مانچسٹر ہوائی اڈے سے پائلٹ کا رابطہ ہونے میں بیس منٹ لگے اور اس دوران برطانوی لڑاکا طیارے اس کا پیچھا کرتے رہے۔ پی آئی اے نے بتایا ہے کہ پائلٹ اور طیارے کے دوسرے عملوں کے ساتھ ساتھ مسافروں کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ان کی نگرانی کی جارہی ہے۔ پی آئی اے نے بتایا کہ مانچسٹر سے اس کا رابطہ منقطع ہوگیا تھا جس کی صورت میں اس نے لندن میں ایئر کنٹرول سے رابطہ کیا تھا۔ پورے واقعے کی برطانیہ میں تحقیقات کی جارہی ہیں۔ برطانوی سول ایویشن اتھارٹی کو واقعے سے آگاہ کردیا گیا ہے اور برطانوی وزرات دفاع نے کہا ہے کہ اسے سنگین حالات کے دوران یہ ’حسب معمول‘ اقدامات اٹھانے پڑے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||