ننجنگ قتل عام کی فہرست جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین نے ایسے تیرہ ہزار افراد کی ایک فہرست جاری کی ہے جن کے متعلق اس کہنا ہے کہ انہیں جاپانی فوج نےانیس سو سینتیس کے ننجنگ قتل عام میں ہلاک کیا تھا۔ چینی نیوز ایجنسی ژن ہوا کا کہنا ہے کہ اس فہرست میں ہلاک ہونے والوں کی تمام تفصیلات جمع کی گئی ہیں۔ چين کا کہنا ہے کہ انیس سو سینتیس میں ننجنگ پر جاپانی حملے میں تین لاکھ لوگ مارے گئے تھے اور بہت سی خواتین کی آبروریزی کی گئی تھی۔ اس وقت ننجنگ شہر چین کی دارالحکومت تھا۔ جاپان چین کی اس تعداد کو تسلیم نہیں کرتا ہے اور وہ اس بارے میں معافی مانگنے سے بھی انکار کرتا رہا ہے جس کے سبب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خراب رہے ہیں۔ آٹھ جلدوں پر مشتمل یہ فہرست ننجنگ قتل عام کی ستّرویں برسی کے موقع پر جاری کی گئی ہے جس میں متاثرین کے نام، عمر، پیشہ اور ان کے پتے درج ہیں۔ اس میں جاپانی فوج کے ان دستوں کا بھی ذکر ہے جنہوں نے قتل عام میں حصہ لیا تھا اور کیسے ہلاک کیا گیا اس کی بھی تفصیل دی گئی ہے۔ نیوز ایجنسی کے صدر زانگ شنیوین کی طرف جاری ایک بیان کہا گیا ہے’ناموں کی اشاعت کی یہ شروعات ہے اور ہم متاثرین کے متعلق معلومات جمع کرتے رہیں گے۔‘ ننجنگ قتل عام پر مکمل فہرست اٹھائیس جلدوں پر تیار کرنے کا ارادہ ہے جس میں آنکھوں دیکھے حالات، میڈیا کی خبریں، فوج کے بیانات اور سفارتی نمائندوں کی طرف سے دی گئی تفصیلات شامل ہوں گی۔ اسے شائع کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ فہرست درست اور تاریخی حقائق پر مبنی ہے۔
مسٹر زانگ کا کہنا تھاکہ یہ چین، جاپان اور مغربی ممالک کے پاس موجود خام تفصیلات کی منظم ترتیب ہے جو پوری طرح غیر جانبدار، درست اور تاریخی اعتبار سے کھری ہے۔’جو بھی اس کتاب کو پڑھےگا اس میں یقینی طور پر اس وقت کے بارے میں صحیح سمجھ بوجھ پیدا ہوگی‘۔ جاپانی فوج ننجنگ میں 1937 میں داخل ہوئی تھی اور مارچ 1938 تک تقریباً پچاس ہزار سے تین لاکھ کے درمیان لوگ قتل ہوئے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق تقریباً بیس ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی تھی اور بہتوں پر طرح طرح کے مظالم کیے گئے تھے۔ جاپان ننجنگ قتل عام کو تسلیم تو کرتا ہے لیکن وہ ہلاکتوں کی اتنی بڑی تعداد سے انکار کرتا ہے۔ اس کا موقف ہے کہ جنگ کے دوران ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ چند برس قبل جاپان نے اپنی تاریخ کی کتابوں میں اس واقعے کو بہت چھوٹا واقعہ بتایا تھا جس کے خلاف چين میں زبردست احتجاج ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں ’چین کا رویہ قابلِ افسوس ہے‘18 April, 2005 | آس پاس معافی نہیں مانگیں گے: لی ژاؤ زنگ 17 April, 2005 | آس پاس چین کی طاقت، جاپان کی پریشانی02 August, 2005 | آس پاس چینی ٹیلنٹ کی نقل مکانی13 February, 2007 | آس پاس چین: مسلمان رہنما کو سزائے موت09 February, 2007 | آس پاس چین: ماحولیاتی ناکامی کا اقرار28 January, 2007 | آس پاس چین: ڈرپ کے ذریعے ’جعلی خون‘11 June, 2007 | آس پاس چین کے دفاعی بجٹ میں اضافہ04 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||