BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 December, 2007, 04:20 GMT 09:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹیچر کو سخت سزا دینے کا مطالبہ
جلیئن گبنز
برطانوی ٹیچر کو پندرہ روز قید اور بعد ملک بدری کی سزا سنائی گئی ہے
سوڈان کے دار الحکومت خرطوم میں ایک ہزار کے قریب مجمعے نے ایک جلوس نکالا ہے جس میں توہینِ مذہب میں گرفتار ہونے والی برطانیہ کی ایک سکول ٹیچر جلیئن گبنز کو زیادہ سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

جمعرات کو ایک عدالت نے مسز گبنز کو اس الزام میں پندرہ دن کی قید کی سزا دی تھی کہ انہوں نے اپنے سکول میں سات آّٹھ برس کے بچوں کو یہ اجازت کیوں دی کہ ایک ٹیڈی بیئر کا نام ایک بچے محمد کے نام پر رکھ لیں ۔ الزام یہ لگایا گیا کہ انہوں نے رسول اللہ کی توہین کی ہے اور مظاہرین میں کچھ لوگ یہ بھی نعرے لگا رہے تھے کہ اسلام کی توہین کرنے والے کو موت کی سزادی جائے۔

اس معاملے پر بات کرنے کے لیے برطانیہ سے مسلمانوں کا ایک وفد لارڈ نذیر احمد کی قیادت میں خرطوم جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ لارڈ نذیر سوڈان کے صدر عمر البشیر اور چیف جسٹس سے ملاقات کریں گے۔

دریں اثناء مسز گبنز کے بیٹے نے کہا ہے کہ ان کی ماں نہیں چاہتیں کہ اس صورتِ حال سے مسلمانوں کے خلاف کوئی نفرت پیدا ہو۔

انہوں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’جو باتیں میری ماں نے آج مجھ سے کہی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ میں مسلمانوں کے خلاف کسی قسم کا غصہ نہیں چاہتی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے مقدمے کو بہانہ بنا کر کسی پر غصہ اتارا جائے، سوڈان کے لوگوں کے خلاف، مسلمانوں کے خلاف اور کسی کے بھی خلاف۔‘

برطانیہ کے شہر لیورپول کی رہنے والی 54 سالہ جلیئن گبنز کو پندرہ دن قید کی سزا سنائی گئی ہے جس کے بعد انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔

ان پر لگائے گۓ تین الزامات میں سے انہیں صرف توہین مذہب کا مرتکب پایا گیا جبکہ مذہبی عقائد سے حقارت اور نفرت کے فروغ جیسے الزامات سے وہ بری قرار پائی ہیں۔

اس سے قبل لندن میں سوڈانی سفارت خانے نے کہا تھا کہ یہ چھوٹا سے مسئلہ ہے اور یہ کہ ٹیچر کو جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔ سفارت خانے نے کہا تھا کہ یہ واقعہ ثقافتی غلط فہمی کی پیداوار ہے۔

دوسری طرف آرچ بشپ آف کنٹربری روان ولیمز نے بھی کہا ہے کہ انہیں اس سزا کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔

اسی بارے میں
توہین مذہب: ٹیچر کو سزا
30 November, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد